المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
37. يما رجل خرج من بيته لا يريد إلا الصلاة، يخرج من خطيئته كيوم ولدته أمه
جو شخص نماز کی نیت سے گھر سے نکلتا ہے وہ گناہوں سے ایسے پاک ہوتا ہے جیسے ماں نے آج جنا ہو
حدیث نمبر: 84
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان (3) ، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن راشد بن سعد، عن عبد الرحمن بن قَتَادة السَّلَمي - وكان من أصحاب النبي ﷺ قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"خلقَ اللهُ آدمَ ثم خلقَ الخلقَ من ظَهرِه، ثم قال: هؤلاء للجنة ولا أُبالي، وهؤلاء للنار ولا أُبالي" قال: فقيل: يا رسول الله، فعلى ماذا نعملُ؟ قال:"على مُوَافقةِ القَدَر" (1) .
هذا حديث صحيح قد اتفقا على الاحتجاج برُوَاته عن آخرهم إلى الصحابة (2) ، وعبد الرحمن بن قتادة من بني سَلِمة من الصحابة، وقد احتجَّا جميعًا بزهير بن عمرو (3) عن رسول الله ﷺ، وليس له راوٍ غيرُ أبي عثمان النَّهْدي، وكذلك احتجَّ البخاريُّ بحديث أبي سعيد بن المعلَّى، وليس له راوٍ غيرُ حفص بن عاصم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 84 - على شرطهما إلى الصحابي
هذا حديث صحيح قد اتفقا على الاحتجاج برُوَاته عن آخرهم إلى الصحابة (2) ، وعبد الرحمن بن قتادة من بني سَلِمة من الصحابة، وقد احتجَّا جميعًا بزهير بن عمرو (3) عن رسول الله ﷺ، وليس له راوٍ غيرُ أبي عثمان النَّهْدي، وكذلك احتجَّ البخاريُّ بحديث أبي سعيد بن المعلَّى، وليس له راوٍ غيرُ حفص بن عاصم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 84 - على شرطهما إلى الصحابي
سیدنا عبدالرحمن بن قتادہ سلمی رضی اللہ عنہ - جو کہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں - سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا پھر ان کی پشت سے (تمام) مخلوق کو پیدا کیا، پھر فرمایا: یہ لوگ جنت کے لیے ہیں اور مجھے (کسی کی) پرواہ نہیں، اور یہ لوگ دوزخ کے لیے ہیں اور مجھے (کسی کی) پرواہ نہیں۔“ کسی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر ہم (نیکی کے) عمل کیوں کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تقدیر کے موافق ہونے کے لیے (یعنی جو مقدر ہے وہی ظاہر ہوگا)۔“
یہ صحیح حدیث ہے، اس کے تمام راویوں سے صحابی تک احتجاج کرنے پر اتفاق ہے، اور عبدالرحمن بن قتادہ بنو سلمہ کے صحابی ہیں، ان دونوں نے زہیر بن عمرو عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احتجاج کیا ہے جبکہ ان کا ابوعثمان نہدی کے سوا کوئی راوی نہیں، اسی طرح امام بخاری نے ابوسعید بن معلی کی حدیث سے احتجاج کیا ہے جن کا حفص بن عاصم کے سوا کوئی راوی نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 84]
یہ صحیح حدیث ہے، اس کے تمام راویوں سے صحابی تک احتجاج کرنے پر اتفاق ہے، اور عبدالرحمن بن قتادہ بنو سلمہ کے صحابی ہیں، ان دونوں نے زہیر بن عمرو عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے احتجاج کیا ہے جبکہ ان کا ابوعثمان نہدی کے سوا کوئی راوی نہیں، اسی طرح امام بخاری نے ابوسعید بن معلی کی حدیث سے احتجاج کیا ہے جن کا حفص بن عاصم کے سوا کوئی راوی نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 84]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 84 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في (ب) إلى: سليم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ب) میں یہاں لفظ کی تحریف ہوگئی ہے اور "سلیمان" کے بجائے "سلیم" لکھ دیا گیا ہے۔
(1) إسناده صحيح، وأعلَّه بعض أهل العلم بالاضطراب ولا يصحُّ ذلك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بعض اہل علم نے اسے "اضطراب" کی وجہ سے معلول (ضعیف) قرار دینے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ اعتراض درست نہیں ہے۔
وأخرجه ابن حبان (338) من طريق الحارث بن مسكين، عن ابن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن حبان نے (338) میں حارث بن مسکین کے واسطے سے ابن وہب سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17660) من طريق ليث بن سعد، عن معاوية بن صالح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے اپنی مسند 29/(17660) میں لیث بن سعد کے واسطے سے معاویہ بن صالح سے روایت کیا ہے۔
(2) هذا ذهولٌ منه، فإنَّ راشد بن سعد - على ثقته - لم يحتجَّ به أحدٌ منهما، وإنما معاوية بن صالح فإنه من رجال مسلم وحده.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ امام حاکم کا سہو (ذہول) ہے، کیونکہ راشد بن سعد اگرچہ ثقہ ہیں مگر شیخین (بخاری و مسلم) میں سے کسی نے ان سے احتجاج نہیں کیا۔ رہا معاملہ معاویہ بن صالح کا، تو وہ صرف امام مسلم کے راویوں میں سے ہیں۔
(3) بل هو من أفراد مسلم.
📌 اہم نکتہ: بلکہ یہ روایت ان احادیث میں سے ہے جنہیں صرف امام مسلم نے روایت کیا ہے (بخاری میں نہیں ہے)۔