🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. خير ما أعطي الإنسان خلق حسن
انسان کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8405
حَدَّثَنَا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حَدَّثَنَا أحمد بن يونس الضَّبِّي، حَدَّثَنَا مصعب بن المِقْدام، حَدَّثَنَا سفيان. وأخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبيُّ، حَدَّثَنَا أحمد بن سيَّار، حَدَّثَنَا محمد بن كثير، حَدَّثَنَا سفيان، عن عطاء بن السائب، عن أبي عبد الرحمن السُّلمي، عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله ﷿ لم يُنزِل داءً إِلَّا وأنزل له شِفاءً، عَلِمَه من عَلِمَه، وجَهِلَه مَن جَهِلَه" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. والأصلُ في هذا الباب حديث أسامة بن شَريك الذي علَّلاه الشيخان ﵄ بأنهما لم يَجِدَا له راويًا عن أسامة بن شريك غيرَ زياد بن عِلاقة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8205 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے، اس کا علاج بھی پیدا فرمایا ہے، جس نے علاج جان لیا وہ جانتا ہے اور جو اس سے انجان رہا، وہ اس کے علاج سے جاہل ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اس باب میں اصل اسامہ بن شریک کی وہ حدیث ہے جسے شیخین کے معلل قرار دیا ہے، دلیل یہ دی ہے كہ اسامہ بن شریک سے یہ حدیث زیاد بن علاقہ کے سوا اور کسی نے روایت نہیں کی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8405]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8405 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح، أبو عبد الرحمن السلمي - وهو عبد الله بن حبيب - صحيح السماع من ابن مسعود، وعطاء بن السائب سماع سفيان منه - وهو الثوري - قبل الاختلاط. محمد بن كثير: هو العبدي.
⚖️ درجۂ حدیث: (2) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو عبدالرحمن السلمی (عبداللہ بن حبیب) کا ابن مسعود سے سماع صحیح ہے۔ عطاء بن السائب سے سفیان (ثوری) کا سماع ان کے اختلاط سے پہلے کا ہے۔ محمد بن کثیر سے مراد "العبدی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 7/ (3912) و (4236)، وابن ماجه (3438) من طرق عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (7/ 3912، 4236) اور ابن ماجہ (3438) نے سفیان ثوری سے مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وسلف الحديث برقم (7612) من طريق عبيدة بن حميد عن عطاء بن السائب.
📌 اہم نکتہ: یہ حدیث نمبر (7612) پر عبیدہ بن حمید عن عطاء بن السائب کے طریق سے گزر چکی ہے۔