المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
2. خير ما أعطي الإنسان خلق حسن
انسان کو عطا کی گئی بہترین چیز حسنِ اخلاق ہے
حدیث نمبر: 8406
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن عفَّان العامِريُّ، حَدَّثَنَا محمد بن عُبيد الطَّنَافسي، حَدَّثَنَا مِسعَر. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل ومحمد بن عبد الله الشافعي وعبد الله بن محمد بن موسى الصَّيدلاني، قالوا: حَدَّثَنَا محمد بن سليمان ابن الحارث، حَدَّثَنَا خلَّاد بن يحيى، حَدَّثَنَا مِسعَر. وأخبرني أبو بكر محمد بن عمرو البزّار ببغداد، حَدَّثَنَا محمد بن موسى القُرَشي، حَدَّثَنَا أبو بكر الحنفيُّ، حَدَّثَنَا مِسعَر بن كِدَام عن زياد بن عِلَاقة، عن أسامة بن شَريك قال: شَهِدتُ رسولَ الله ﷺ والأعرابُ يسألونه، قالوا: يا رسول الله، علينا حَرَجٌ في كذا؟ علينا حرج في كذا؟ لأشياءَ ليس بها بأس، فقال:"عبادَ الله، وَضَعَ الله الحَرَجَ إِلَّا من اقترفَ من عِرْضِ امْرِئٍ مُسْلم ظلمًا، فذلك الذي حَرِجَ وهَلَك". فقالوا: نَتَداوي يا رسول الله؟ قال:"نعم، تَداوَوْا عبادَ الله، فإِنَّ الله تعالى لم يَضَعْ داءً إلَّا وَضَعَ له دواءً غيرَ داءٍ واحد" قالوا: يا رسول الله، وما هو؟ قال:"الهَرَمُ". قالوا: يا رسول الله، ما خيرُ ما أُعطيَ الإنسانُ؟ قال:"خُلُقٌ حَسَن" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، فقد رواه عَشَرةٌ من أئمة المسلمين وثِقاتِهم عن زياد بن عِلاقةَ، فمنهم مِسعَر بن كِدام، كما تقدَّم ذكري له. ومنهم مالك بن مِغْوَل البَجَليُّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8206 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، فقد رواه عَشَرةٌ من أئمة المسلمين وثِقاتِهم عن زياد بن عِلاقةَ، فمنهم مِسعَر بن كِدام، كما تقدَّم ذكري له. ومنهم مالك بن مِغْوَل البَجَليُّ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8206 - صحيح
زیاد بن علاقہ بیان کرتے ہیں کہ اسامہ بن شریک فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں موجود ہوتا تھا، دیہاتی لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مسائل پوچھا کرتے تھے، اور ایسی ایسی چیزیں جن میں کوئی حرج نہیں، ان کے بارے میں کہتے تھے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں فلاں حکم پر عمل کرنے میں دشواری ہے، فلاں عمل کرنے میں دشواری ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے دشواری والے کام معاف کر دیئے ہیں، سوائے اس کے کہ جس نے کسی مسلمان کی عزت کو اچھالا ہو، یہ حرج ہے اور یہ باعث ہلاکت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہم دوا لے لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل، اللہ کے بندو! دوا لیا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے، سوائے ایک بیماری کے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون سی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑھاپا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انسان کو جو کچھ بھی ملا ہے، اس میں سب سے اچھی چیز کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ اس حدیث کو تقریبا 10 ثقہ ائمہ مسلمین نے زیاد بن علاقہ سے روایت کیا ہے، ان میں مسعر بن کدام، ہے (ان کا ذکر پہلے ہو چکا ہے اور ان میں مالک بن مغول بجلی بھی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8406]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8406 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح من جهتَي محمد بن عبيد الطنافسي وخلاد بن يحيى، أما من جهة أبي بكر الحنفي - وهو عبد الكبير بن عبد المجيد - فضعيف من أجل محمد بن موسى القرشي، وهو محمد بن يونس بن موسى - نسب هنا إلى جده - وهو الكُديمي المتهم، ولكنه متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) محمد بن عبید الطنافسی اور خلاد بن یحییٰ کی جہت سے یہ سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن ابوبکر الحنفی (عبدالکبیر بن عبدالمجید) کی جہت سے یہ "محمد بن موسیٰ القرشی" کی وجہ سے ضعیف ہے، جو دراصل "محمد بن یونس بن موسیٰ" ہیں (یہاں دادا کی طرف منسوب ہوئے) اور وہ "الکدیمی" ہیں جو متہم ہیں، لیکن ان کی متابعت موجود ہے۔
وانظر ما سلف برقم (421) و (7618). وتخريجه في الموضع الأول منهما.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: پچھلے نمبر (421) اور (7618) دیکھیں۔ تخریج پہلے مقام پر ہے۔