🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. الهليلج شفاء من كل داء
ہلیلج (ہڑ) میں ہر بیماری سے شفا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8433
أخبرني أبو عبد الرحمن بن [أبي] (3) الوَزير، حَدَّثَنَا أبو حاتم الرَّازيّ، حَدَّثَنَا محمد بن عبد الله الأنصاري، حَدَّثَنَا إسماعيل بن مُسلم، عن الحَسَن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ النَّبِيّ ﷺ قال:"إنَّ الحُمَّى قِطعةٌ من النار، فابرُدُوها عنكم بالماء". قال: وكان رسول الله ﷺ إذا حُمَّ دعا بقِرْبةٍ من ماء فَأَفَرَغَها على قَرْنِه فاغتَسَل (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8229 - صحيح
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخار دوزخ کا ٹکڑا ہے، اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کر دیا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بخار ہوتا تو آپ پانی کا مشکیزہ منگواتے اور اپنے سر پر بہا لیتے اور غسل کر لیتے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس زیادتی کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8433]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8433 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) سقط من النسخ الخطية، وهذا الشيخ قد روى عنه المصنّف في عدة مواضع من كتابه هذا، وانظر ترجمته في "تاريخ الإسلام" 7/ 772.
📝 نوٹ / توضیح: یہ قلمی نسخوں سے ساقط (غائب) ہے، حالانکہ اس شیخ سے مصنف نے اپنی اس کتاب میں کئی مقامات پر روایت کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: ان کا ترجمہ (حالاتِ زندگی) ذہبی کی "تاریخ الاسلام" 7/ 772 میں دیکھیں۔
(1) الشطر الأول صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف إسماعيل بن مسلم: وهو المكي أبو إسحاق البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث کا پہلا حصہ "صحیح لغیرہ" ہے، لیکن یہ سند ضعیف ہے کیونکہ اسماعیل بن مسلم (جو مکی ابو اسحاق بصری ہیں) ضعیف ہیں۔
والحديث في "جزء محمد بن عبد الله الأنصاري" (74)، ومن طريقه أخرجه البزار في "مسنده" (4599)، والطبراني في "الكبير" (6947)، والعقيلي في "الضعفاء" (117)، والطحاوي في "مشكل الآثار" (1857).
🧩 متابعات و شواہد: یہ حدیث "جزء محمد بن عبداللہ الانصاری" (74) میں ہے، اور ان کے طریق سے اسے بزار نے "مسند" (4599)، طبرانی نے "الکبیر" (6947)، عقیلی نے "الضعفاء" (117)، اور طحاوی نے "مشکل الآثار" (1857) میں روایت کیا ہے۔
والشطر الأول يشهد له ما قبله.
🧩 متابعات و شواہد: پہلے حصے کے لیے ماقبل والی روایت بطورِ شاہد موجود ہے۔
وحديثُ ثوبان عند أحمد 37/ (22425)، وإسناده ضعيف.
🧩 متابعات و شواہد: اور ثوبان کی حدیث "مسند احمد" 37/ (22425) میں ہے، اور اس کی سند ضعیف ہے۔