المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
15. الشجرة والعجوة من الجنة
شجرہ (سدرۃ المنتہیٰ) اور عجوہ کھجور جنت سے ہیں
حدیث نمبر: 8445
حَدَّثَنَا أبو نَصْر محمد بن أحمد بن محمد، حَدَّثَنَا محمد بن عمرو بن النَّضْرِ الحَرَشيُّ، حَدَّثَنَا يحيى بن يحيى، أخبرنا عيسى بن يونس، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: دخل النَّبِيُّ ﷺ على عائشة وعندها امرأةٌ معها صبيٌّ لها يَسيلُ مَنْخِراهُ دمًا، فقال النَّبِيّ ﷺ:"ما شأنُ هذا؟" قالوا: به العُذْرةُ، قال:"وَيْلَكنّ، لا تَقتُلنَ أولادَكنّ؛ أيّةُ امرأةٍ يأتي ولدَها العُذْرةُ فلتأخُذْ قُسْطًا هنديًّا فلتحُكَّه بالماء ثم لتُسعِطْه إياه"، ثم أَمر عائشةَ ففعلته بالصبي فبَرَأ (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8241 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8241 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین سیدہ عائشہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، اس وقت ام المومنین کے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی، اس کے پاس ایک بچہ تھا، اس کے ناک سے خون بہہ رہا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اس بچے کو کیا ہوا؟ لوگوں نے بتایا کہ اس بچے کے حلق میں درد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہلاک ہو جاؤ، تم اپنے بچوں کو قتل مت کرو، کسی بھی عورت کے بچے کے حلق میں درد ہو، اس کو چاہئے کہ قسط ہندی لے کر پانی میں بھگو لیں، اس کے ڈراپ ناک میں ڈالیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ سب کرنے کا حکم دیا، ام المومنین نے ایسا کیا، تو وہ بچہ تندرست ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8445]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8445 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي سفيان، ومحمد بن عمرو الحرشي صدوق حسن الحديث، وقد سلف الحديث برقم (7644) من غير هذا الوجه عن الأعمش. يحيى بن يحيى: هو أبو زكريا النيسابوري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اور ابو سفیان کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: محمد بن عمرو الحرشی "صدوق حسن الحدیث" ہیں۔ یہ حدیث نمبر (7644) پر اعمش سے اس سند کے علاوہ کسی اور طریق سے گزر چکی ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "ابو زکریا نیشاپوری" ہیں۔