المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. علاج اللدغة بالرقى
ڈسے ہوئے (سانپ یا بچھو وغیرہ) کا دم کے ذریعے علاج
حدیث نمبر: 8474
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثني عمر (1) بن علي المقدَّمي، عن أبي جَنَاب، عن عبد الله بن عيسى، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، حدثني أُبيّ بن كعب قال: كنت عند النَّبِيّ ﷺ فجاء أعرابيٌّ فقال: يا نبيَّ الله، إنَّ لي أخًا وبه وَجَعٌ، قال:"وما وَجَعُه؟" قال: به لَمَمٌ، قال:"فأْتِني به" فأَتاه به فوضعَه بين يديه، فعوَّذَه النَّبِيُّ ﷺ بفاتحةِ الكتاب وأربعِ آيات من أول (2) سورة البقرة وهاتين الآيتين: ﴿وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ﴾ [البقرة: 163] ، وآيةِ الكُرسي، وثلاثِ آيات من آخر سورة البقرة (3) ، وآيةٍ من آل: عمران ﴿شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ﴾ [آل عمران: 18] ، وآيةٍ من الأعراف: ﴿إنَّ ربَّكُمُ الله الذي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ [الأعراف: 54] ، وآخرِ سورةِ المؤمنين: ﴿فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ﴾ [المؤمنون: 116] ، وآيةٍ من سورة الجن: ﴿وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبَّنَا مَا اتَّخَذَ صَحِبَةً وَلَا وَلَدًا﴾ [الجن: 3] ، وعشرِ آياتٍ من أول الصافّات، وثلاثِ آيات من آخر سورة الحشر، و ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ والمعوِّذتين، فقام الرجلُ كأنه لم يَشتَكِ شيئًا قطُّ (4) . قد احتجَّ الشيخان ﵄ برُواةِ هذا الحديث كلِّهم عن آخرِهم غير أبي جَنَاب الكَلْبي، والحديث محفوظ صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8269 - الحديث منكر
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8269 - الحديث منكر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا، ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! میرے بھائی کو بہت شدید درد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کس چیز کا درد ہے؟ اس نے بتایا کہ اس کو تھوڑی سی دیوانگی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے کر آؤ، میں اپنے بھائی کو لے کر آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لٹا دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سورہ فاتحہ، سورہ بقرہ کی آخری 4 آیتیں، اور درج ذیل دو آیتیں وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ آیت الکرسی، اور سورہ آل عمران کی آیت نمبر 18 جو کہ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سے شروع ہوتی ہے، اور سورہ اعراف کی یہ آیت إِنَّ رَبُّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ اور سورہ مومنون کی آخری آیات فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ سورہ جن کی آیت نمبر 3 وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا سورہ صافات کی شروع کی 10 آیات، سورہ حشر کی آخری تین آیات، سورہ اخلاص، سورۃ الناس اور سورۃ الفلق۔ پڑھ کر دم کیا۔ وہ شخص فوراً ہی اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور وہ اس طرح ٹھیک ہو گیا جیسے اس کو کوئی تکلیف آئی ہی نہیں تھی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں۔ سوائے ابوجناب کلبی کے اور یہ حدیث محفوظ ہے، صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8474]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8474 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عمرو.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عمرو" بن گیا ہے۔
(2) لفظ "أول" سقط من (ز) و (ك) و (م) و "تلخيص الذهبي"، وتحرّف في (ب) إلى آخر.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "أول" نسخہ (ز)، (ک)، (م) اور ذہبی کی "تلخیص" سے ساقط (غائب) ہے، اور نسخہ (ب) میں تحریف ہو کر "آخر" بن گیا ہے۔
والمثبت من مصادر التخريج وسياق الكلام يقتضيه.
📌 اہم نکتہ: جو متن اثبات کیا گیا ہے وہ تخریج کے مصادر سے لیا گیا ہے اور سیاقِ کلام کا بھی یہی تقاضا ہے۔
(3) من قوله: "وهاتين الآيتين" إلى هنا سقط من (ب).
📝 نوٹ / توضیح: "وهاتين الآيتين" کے الفاظ سے لے کر یہاں تک کا حصہ نسخہ (ب) سے ساقط ہے۔
(4) إسناده ضعيف لضعف أبي جناب: وهو يحيى بن أبي حيّة الكلبي، وبه ضعفه الذهبي في "تلخيصه" وقال: والحديث منكر. عبد الله بن عيسى: هو حفيد عبد الرحمن بن أبي ليلى.
⚖️ درجۂ حدیث: ابو جناب (جو یحییٰ بن ابی حیہ الکلبی ہیں) کے ضعف کی وجہ سے اس کی سند ضعیف ہے، اور اسی وجہ سے ذہبی نے "التلخیص" میں اسے ضعیف کہا اور فرمایا: یہ حدیث "منکر" ہے۔ (راوی کا تعین): عبداللہ بن عیسیٰ سے مراد "عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے پوتے" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "الدعوات الكبير" (595) من طريق الحسن بن محمد بن إسحاق، عن يوسف بن يعقوب القاضي، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: اسے بیہقی نے "الدعوات الکبیر" (595) میں حسن بن محمد بن اسحاق کے طریق سے، انہوں نے یوسف بن یعقوب القاضی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في زياداته على "المسند" (35) (21174)، ومن طريقه ابن الجوزي في "العلل المتناهية" (177) عن محمد بن أبي بكر المقدمي، به.
🧩 متابعات و شواہد: اسے عبداللہ بن احمد نے "المسند" (35) (21174) پر اپنی زیادات میں، اور ان کے طریق سے ابن الجوزی نے "العلل المتناہیة" (177) میں محمد بن ابی بکر المقدمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد اضطرب فيه أبو جناب، فرواه عنه عبدة بن سليمان عند ابن ماجه (3549)، والطبراني في "الدعاء" (1080) عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبيه أبي ليلى قال: كنت جالسًا عند النَّبِيّ ﷺ، فذكره. فجعله من مسند أبي ليلى الأنصاري وأسقط الواسطة بينه وبين عبد الرحمن.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو جناب نے اس میں "اضطراب" پیدا کیا ہے؛ چنانچہ ان سے عبدہ بن سلیمان نے ابن ماجہ (3549) اور طبرانی نے "الدعاء" (1080) میں روایت کیا: عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ عن ابیہ ابی لیلیٰ، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھا تھا... الحدیث۔ پس انہوں نے اسے ابو لیلیٰ انصاری کی مسند بنا دیا اور ان کے اور عبدالرحمٰن کے درمیان واسطہ گرا دیا۔
ورواه عنه صالح بن عمر الواسطي عند أبي يعلى (1594)، وعنه ابن السني في "اليوم والليلة" (632) عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن رجل، عن أبيه قال: جاء رجل إلى النَّبِيّ ﷺ … فذكره.
🧾 تفصیلِ روایت: اور ان سے صالح بن عمر الواسطی نے ابو یعلیٰ (1594) میں، اور ان سے ابن السنی نے "الیوم واللیلۃ" (632) میں: عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ، عن رجل، عن ابیہ کے واسطے سے روایت کیا کہ: ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا... الحدیث۔