🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. عِلَاجُ اللَّدْغَةِ بِالرُّقَى
ڈسے ہوئے (سانپ یا بچھو وغیرہ) کا دم کے ذریعے علاج
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8474
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حَدَّثَنَا يوسف بن يعقوب القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثني عمر (1) بن علي المقدَّمي، عن أبي جَنَاب، عن عبد الله بن عيسى، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، حدثني أُبيّ بن كعب قال: كنت عند النَّبِيّ ﷺ فجاء أعرابيٌّ فقال: يا نبيَّ الله، إنَّ لي أخًا وبه وَجَعٌ، قال:"وما وَجَعُه؟" قال: به لَمَمٌ، قال:"فأْتِني به" فأَتاه به فوضعَه بين يديه، فعوَّذَه النَّبِيُّ ﷺ بفاتحةِ الكتاب وأربعِ آيات من أول (2) سورة البقرة وهاتين الآيتين: ﴿وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ﴾ [البقرة: 163] ، وآيةِ الكُرسي، وثلاثِ آيات من آخر سورة البقرة (3) ، وآيةٍ من آل: عمران ﴿شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ﴾ [آل عمران: 18] ، وآيةٍ من الأعراف: ﴿إنَّ ربَّكُمُ الله الذي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ﴾ [الأعراف: 54] ، وآخرِ سورةِ المؤمنين: ﴿فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ﴾ [المؤمنون: 116] ، وآيةٍ من سورة الجن: ﴿وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبَّنَا مَا اتَّخَذَ صَحِبَةً وَلَا وَلَدًا﴾ [الجن: 3] ، وعشرِ آياتٍ من أول الصافّات، وثلاثِ آيات من آخر سورة الحشر، و ﴿قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ﴾ والمعوِّذتين، فقام الرجلُ كأنه لم يَشتَكِ شيئًا قطُّ (4) . قد احتجَّ الشيخان ﵄ برُواةِ هذا الحديث كلِّهم عن آخرِهم غير أبي جَنَاب الكَلْبي، والحديث محفوظ صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8269 - الحديث منكر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا، ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے نبی! میرے بھائی کو بہت شدید درد ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کس چیز کا درد ہے؟ اس نے بتایا کہ اس کو تھوڑی سی دیوانگی ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے کر آؤ، میں اپنے بھائی کو لے کر آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لٹا دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سورہ فاتحہ، سورہ بقرہ کی آخری 4 آیتیں، اور درج ذیل دو آیتیں وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ آیت الکرسی، اور سورہ آل عمران کی آیت نمبر 18 جو کہ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ سے شروع ہوتی ہے، اور سورہ اعراف کی یہ آیت إِنَّ رَبُّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ اور سورہ مومنون کی آخری آیات فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ سورہ جن کی آیت نمبر 3 وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا سورہ صافات کی شروع کی 10 آیات، سورہ حشر کی آخری تین آیات، سورہ اخلاص، سورۃ الناس اور سورۃ الفلق۔ پڑھ کر دم کیا۔ وہ شخص فوراً ہی اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور وہ اس طرح ٹھیک ہو گیا جیسے اس کو کوئی تکلیف آئی ہی نہیں تھی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں۔ سوائے ابوجناب کلبی کے اور یہ حدیث محفوظ ہے، صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8474]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8475
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيْباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حَدَّثَنَا مسدَّد، حَدَّثَنَا عبد الواحد بن زياد، حدثني عثمان بن حَكِيم، حدثتني جدَّتي الرَّبابُ قالت: سمعتُ سهلَ بن حُنَيف يقول: مَرَرْنا بِسَيْل، فدخلتُ فاغتسلتُ فيه، فخرجتُ محمومًا، فنُمِيَ ذلك إلى رسول الله ﷺ، فقال:"مُرُوا أبا ثابتٍ يَتعوَّذ" قال: فقلت: يا سيدي، والرُّقَى صالحةٌ؟ فقال:"لا رُقَى إِلَّا فِي نَفْسٍ أو حُمَة أو لَدْغة" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8270 - صحيح
سیدنا سہل بن حنیف فرماتے ہیں: ہم سیلاب کے پانی کے پاس سے گزرے، میں نے اس میں گھس کر نہا لیا، جب میں نہا کر نکلا تو مجھے بخار ہو چکا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی اطلاع دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوثابت کو کہو کہ تعویذ لے لے، میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دم نہ کروا لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ دم تو سانس کی بیماری یا بخار یا کاٹے کا ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الرُّقَى وَالتَّمَائِمِ/حدیث: 8475]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں