🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. التمائم ما علق قبل نزول البلاء
تعویذ وہ ہے جو بلا نازل ہونے سے پہلے لٹکایا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8495
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن الحسن بن أحمد، حَدَّثَنَا جدِّي أحمد بن أبي شعيب، حَدَّثَنَا موسى بن أعْيَن، عن محمد بن سَلَمة الكوفي، عن الأعمش، عن عمرو بن مُرَّة، عن يحيى بن الجزَّار، عن عبد الله بن عُتبة بن مسعود، عن زينب امرأة عبد الله: أنها أصابها حُمْرةٌ في وجهها، فدخلت عليها عجوزٌ فرَقَتْها في خَيْط فعلَّقته عليها، فدخل ابنُ مسعود فرآه عليها، فقال: ما هذا؟ فقالت: استَرقَيتُ من الحُمْرة، فمدَّ يده فقَطَعها، ثم قال: إِنَّ آلَ عبد الله لأغنياءُ عن الشِّرك، قالت: ثم قال: إنَّ رسول الله ﷺ حَدَّثَنَا:"أَنَّ الرُّقَى والتَّمائمَ والتِّوَلَةَ شِرْك". قالت: قلت: ما التِّولةُ؟ قال: التِّوَلَةُ هو التهيُّج الذي يُهيِّج الرجال (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8290 - على شرط البخاري ومسلم
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، سیدنا عبداللہ کی زوجہ سیدہ زینب کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ان کے چہرے پر خسرے کے دانے تھے۔ ایک بوڑھی عورت ان کے پاس آئی، اس نے ایک دھاگہ دم کر کے ان کو پہنا دیا، سیدنا عبداللہ بن مسعود گھر تشریف لائے اور اس کو دھاگا بندھا ہوا دیکھا، تو ان سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے خسرے کا دم کروایا ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ ان کی جانب بڑھایا اور اسے پکڑ کر توڑ ڈالا، پھر فرمایا: عبداللہ کی آل کو شرک کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی زوجہ فرماتی ہیں: پھر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہمیں سنایا (جاہلیت کی رسومات کے مطابق) دم کروانا، تمیمہ لٹکانا اور تولیہ، سب شرک ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تولیہ کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ذریعے لوگوں کو (لڑائی یا برائی پر برانگیختہ کیا جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8495]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8495 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) صحيح موقوفًا كله على عبد الله بن مسعود كما سلف بيانه عند الحديث (7695)، وهذا إسناد ضعيف بمرّةٍ من أجل محمد بن سلمة الكوفي، فقد سأل ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 7/ 276 عنه أباه فقال: هو شيخ لا أعرفه وحديثه ليس بمنكر؛ ولعله يشير إلى هذا الحديث، وذكره ابن حبان في "المجروحين" 2/ 266 وقال: شيخ يروي عن الأعمش ما ليس من حديثه، لا تحلُّ الرواية عنه لا على سبيل الاعتبار ولا الاحتجاج به بحال. وقد خولف محمد بن سلمة هذا في إسناد الحديث، فقد رواه أبو معاوية عند أحمد 6/ (3615) وأبي داود (3883)، وعبدُ الله بن بشر عند ابن ماجه (3530)، كلاهما عن الأعمش، عن عمرو بن مرّة، عن يحيى بن الجزار، عن ابن أخي زينب - وقال ابن بشر: ابن أخت زينب - عن زينب. وابن أخي زينب هذا أو ابن أختها مجهول لا يُعرف.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت حضرت عبد اللہ بن مسعود پر مکمل طور پر "صحیح موقوف" ہے، جیسا کہ اس کا بیان حدیث نمبر (7695) کے تحت گزر چکا ہے، لیکن زیر نظر سند (جو مرفوع ہے) انتہائی ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی کمزوری کا سبب راوی "محمد بن سلمہ کوفی" ہے۔ ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (7/ 276) میں اپنے والد (ابو حاتم) سے ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: "یہ ایک بزرگ ہیں جنہیں میں نہیں جانتا، البتہ ان کی حدیث منکر نہیں ہے"؛ شاید ان کا اشارہ اسی حدیث کی طرف ہے۔ تاہم، ابن حبان نے "المجروحین" (2/ 266) میں ان کا ذکر کیا اور فرمایا: "یہ ایسا شیخ ہے جو اعمش سے وہ روایات بیان کرتا ہے جو اعمش کی احادیث میں سے نہیں ہیں، اس سے روایت لینا حلال نہیں، نہ اعتبار کے طور پر اور نہ ہی حجت پکڑنے کے لیے۔" 🧾 تفصیلِ روایت: سندِ حدیث میں محمد بن سلمہ کی مخالفت بھی کی گئی ہے؛ چنانچہ اسے امام احمد (6/ 3615) اور ابوداؤد (3883) کے ہاں ابو معاویہ نے، اور ابن ماجہ (3530) کے ہاں عبد اللہ بن بشر نے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں (ابو معاویہ اور عبد اللہ بن بشر) اسے اعمش سے، وہ عمرو بن مرہ سے، وہ یحییٰ بن جزار سے اور وہ "زینب کے بھتیجے" سے (اور ابن بشر نے کہا: "زینب کے بھانجے" سے) اور وہ سیدہ زينب رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: یہ "زینب کا بھتیجا" یا "بھانجا" ایک مجہول راوی ہے جسے جانا نہیں گیا۔
وأخرجه ابن حبان (6090) من طريق فضيل بن عمرو، عن يحيى بن الجزار: قال دخل عبد الله … فذكره مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے (6090) میں فضیل بن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے، جو یحییٰ بن جزار سے روایت کرتے ہیں کہ: "عبد اللہ داخل ہوئے..." پس انہوں نے اسے "مرسل" ذکر کیا۔
وانظر ما سلف برقم (7694) و (7695).
📝 نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے پیچھے گزری ہوئی احادیث نمبر (7694) اور (7695) ملاحظہ کریں۔
والتَّوَلة، قال ابن الأثير في "النهاية": ما يحبِّب المرأةَ إلى زوجها من السِّحر وغيره، جعله من الشرك لاعتقادهم أنَّ ذلك يؤثر ويفعل خلافَ ما قدّره الله تعالى.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: لفظ "التِّوَلَۃ" کی تشریح میں ابن اثیر "النھایۃ" میں لکھتے ہیں: "یہ وہ جادو یا منتر وغیرہ ہے جس کے ذریعے عورت کو اپنے شوہر کی نظر میں محبوب بنایا جاتا ہے۔ اسے شرک اس لیے قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے خلاف اثر انداز ہونے اور کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔"