المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
10. التمائم ما علق قبل نزول البلاء
تعویذ وہ ہے جو بلا نازل ہونے سے پہلے لٹکایا جائے
حدیث نمبر: 8496
أخبرني الحسن بن حَليم (1) المروَزي، أخبرنا أبو المُوجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرني طلحة بن أبي سعيد، عن بُكير بن عبد الله بن الأشجّ، عن القاسم بن محمد، عن عائشة أنها قالت: التمائمُ ما عُلِّق قبل نزول البلاء، وما عُلِّق بعد نزول البلاء فليس بتَمِيمة (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8291 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8291 - صحيح
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: تمیمہ اس کو کہتے ہیں جو مصیبت نازل ہونے سے پہلے احتیاطاً پہنا جاتا ہے (اور یہ امید رکھی جائے کہ اگر اللہ کی طرف سے کوئی آزمائش آئی بھی سہی تو یہ تمیمہ اس کو روک لے گا) اور جو اس کے بعد پہنا جائے وہ تمیمہ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقى والتمائم/حدیث: 8496]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8496 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حكيم.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف کا شکار ہو کر "حکیم" لکھا گیا ہے (جو کہ غلط ہے)۔
(2) إسناده صحيح. وقد سلف برقم (7696).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ اور یہ روایت نمبر (7696) کے تحت گزر چکی ہے۔