🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. خراب يثرب حضور الملحمة
مدینہ منورہ کی ویرانی اور بڑی جنگوں (ملحمہ) کا آغاز
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8501
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حَدَّثَنَا نُعَيم بن حمَّاد المرَوزي بمصر، حَدَّثَنَا الفضل بن موسى، حَدَّثَنَا عبد الأعلى بن أبي المُسَاور، عن عِكْرمة، عن الحارث بن عَمِيرة قال: قدمتُ من الشام إلى المدينة في طلب العلم، فسمعت معاذَ بنَ جبل يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"المتحابُّون في الله لهم منابرُ من نورٍ يومَ القيامةَ يَغبِطُهم الشُّهداءُ". فأقمتُ معه، فذكرتُ له الشَّامَ وأهلَها وأشعارَها، فتجهَّز إلى الشام فخرجتُ معه، فسمعته يقول لعمرو بن العاص: لقد صَحِبتُ النَّبِيَّ ﷺ وأنت أضَلُّ من حمارِ أهلِه، فأصاب ابنَه الطاعونُ وامرأتَه فماتا جميعًا، فحَفَرَ لهما قبرًا واحدًا فدُفِنا، ثم رَجَعْنا إلى معاذ وهو ثقيلٌ فبَكَيْنا، حولَه، فقال: إن كنتم تَبكُون على العلم، فهذا كتابُ الله بين أظهُرِكم فاتَّبِعوه، فإن أشكَلَ عليكم شيءٌ من تفسيره فعليكم بهؤلاء الثلاثة: عُوَيمِرٍ أبي الدرداء، وابنِ أمِّ عبد، وسلمانَ الفارسيِّ، وإيّاكم وزَلَّةَ العالِم وجَدَلَ المنافق. فأقمتُ شهرًا. ثم خرجتُ إلى العراق فأتيتُ ابنَ مسعود فقال: نِعمَ الحيُّ أهل الشام لولا أنهم يَشهَدون على أنفسهم بالنَّجاة، قلت: صَدَقَ معاذٌ، قال: وما قال؟ قلت: أوصاني بك وبعُوَيمرٍ أبي الدرداء وسلمانَ الفارسي، وقال: وإياكم وزَلَّةَ العالِم وجَدَل المنافق، ثم تنحَّيتُ، فقال لي: يا ابن أخي، إنما كانت زَلّةً مني. فأقمتُ عنده شهرًا. ثم أتيت سلمانَ الفارسي، فسمعتُه يقول: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الأرواحَ جنودٌ مجنَّدةٌ، فما تعارَفَ منها ائتَلَف، وما تناكر منها اختَلَف". فأقمتُ عنده شهرًا، يُقسّم الليلَ ويُقسّم النهارَ بينَه وبين خادمِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا حارث بن عمیرہ فرماتے ہیں: میں طلب علم کے لئے شام سے مدینہ شریف آیا، میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بیان کرتے ہوئے سنا کہ جو لوگ اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں قیامت کے دن ان کے لئے نور کے منبر بچھائے جائیں گے، ان پر شہید بھی رشک کریں گے۔ میں سیدنا معاذ کے پاس ٹھہرا، ان کو ملک شام، وہاں کے باشندوں اور ان کی تہذیب و تمدن کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے ملک شام جانے کی تیاری کر لی اور میں بھی ان کے ہمراہ چل دیا، وہ سیدنا عمرو بن العاص کو یہ کہہ رہے تھے: تو نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے اور تو گدھے سے زیادہ گمراہ ہے، ان کے بیٹے اور بیوی کو طاعون کی شکایت ہو گئی، وہ دونوں اس بیماری میں فوت ہوئے۔ انہوں نے دونوں کے لئے ایک ہی قبر کھودی اور ان دونوں کو وہاں دفنا دیا، پھر ہم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹ کر آ گئے، وہ بہت بوجھل بدن بیٹھے ہوئے تھے اور ہم لوگ آپ کے اردگرد جمع ہو کر رونے لگے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم اس بات پر روتے ہو کہ کوئی صاحب علم چلا گیا ہے، تو کوئی بات نہیں، آج بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب تمہارے پاس موجود ہے اس کی اتباع کر لو کامیاب ہو جاؤ گے۔ اور اگر تمہیں اس کی تشریحات پر عمل کرنا مشکل لگے، تو تم اس کے ماہرین کے پاس جانا۔ ابوالدرداء، بن ام معبد اور سلمان فارسی۔ عالم کے پھسلنے سے خود کو بچاؤ، اور منافق کے ساتھ بحث و تکرار سے بچو۔ پھر میں تھوڑا سا ہٹ گیا، آپ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! عالم کے پھسلنے سے مراد خود میرا پھسلنا تھا۔ پھر میں پورا مہینہ ان کے پاس رہا۔ پھر میں سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آ گیا، میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا تمام روحیں گروہ در گروہ اکٹھی رہا کرتی تھیں، جو ایک دوسرے کو (عالم ارواح میں) جانتی تھیں، وہ ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں، جو نہیں جانتی تھیں، وہ اختلاف کرتی ہیں ۔ میں ان کے پاس بھی پورا مہینہ رہا، انہوں نے دن اور رات کو اپنے اور اپنے خادم کے درمیان تقسیم کر رکھا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8501]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8501 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف جدًّا بهذا السياق، علّته عبد الأعلى بن أبي المساور فإنه متروك الحديث، وبه أعلَّه الذهبي في "تلخيصه". والخبر بهذا السياق تفرَّد به المصنّف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس سیاق کے ساتھ اس کی سند شدید ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی علت راوی "عبد الأعلی بن ابی المساور" ہے کیونکہ وہ "متروک الحدیث" ہے، اور اسی وجہ سے ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اسے معلول قرار دیا ہے۔ اس سیاق کے ساتھ اس خبر کو ذکر کرنے میں مصنف (حاکم) منفرد ہیں۔
وأخرج منه حديث سلمان في الأرواح: الطبراني في "الكبير" (6172)، وأبو نعيم في "الحلية" 1/ 198، والخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 9/ 96 من طريقين عن عبد الأعلى بن أبي المساور، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اس روایت میں سے "سلمان فارسی کی ارواح کے متعلق حدیث" کو طبرانی نے "الکبیر" (6172) میں، ابو نعیم نے "الحلیۃ" (1/ 198) میں، اور خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" (9/ 96) میں عبد الأعلی بن ابی المساور کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ نکالا ہے۔
وأخرجه كذلك الطبراني في "الكبير" (6169)، و"الأوسط" (1577) من طريق محمد بن عبد الله علاثة، عن حجاج بن فرافصة، عن أبي عمر - كذا في "الكبير"، وفي "الأوسط": عن أبي عمير - عن سلمان الفارسي. وإسناده ليِّن، ابن علاثة فيه ضعف، والراوي عن سلمان لم نعرفه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (6169) اور "الاوسط" (1577) میں محمد بن عبد اللہ بن علاثہ کے طریق سے، حجاج بن فرافصہ سے، وہ ابو عمر سے (الکبیر میں اسی طرح ہے، جبکہ الاوسط میں ہے: ابو عمیر سے) اور وہ سلمان فارسی سے روایت کرتے ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند نرم (کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: "ابن علاثہ" میں ضعف ہے، اور سلمان فارسی سے روایت کرنے والے راوی (ابو عمر/ابو عمیر) کو ہم نہیں پہچان سکے (مجہول ہے)۔
ويشهد له حديث عائشة عند البخاري (3336).
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (3336) میں ہے۔
وحديث أبي هريرة عند أحمد 13 / (7935)، ومسلم (2638).
🧩 متابعات و شواہد: نیز حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے بھی تائید ہوتی ہے جو مسند احمد (13/ 7935) اور مسلم (2638) میں ہے۔
وأما القطعة الأُولى منه في المتحابِّين في الله، فقد سلف معناها من حديث أبي إدريس الخولاني عن معاذ بن جبل برقم (7504)، وهو صحيح.
📌 اہم نکتہ: جہاں تک اس حدیث کے پہلے ٹکڑے کا تعلق ہے جو "اللہ کی خاطر محبت کرنے والوں" کے بارے میں ہے، تو اس کا مفہوم ابو ادریس خولانی عن معاذ بن جبل کی حدیث میں نمبر (7504) کے تحت گزر چکا ہے، اور وہ صحیح ہے۔
وأما القطعة الثانية منه في وصاة معاذٍ بالثلاثة، فقد سلف نحوها أيضًا برقم (338) من حديث يزيد بن عميرة عن معاذ، وهو صحيح.
📌 اہم نکتہ: اور جہاں تک دوسرے ٹکڑے کا تعلق ہے جو "معاذ کو تین باتوں کی وصیت" کے بارے میں ہے، تو اس جیسی روایت بھی نمبر (338) کے تحت یزید بن عمیرہ عن معاذ کی حدیث سے گزر چکی ہے، اور وہ بھی صحیح ہے۔