🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. قال النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - : " ستفترق أمتي على بضع وسبعين فرقة "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8532
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة (2) ، حدثنا الحسين بن حَفْص، عن سفيان، عن الأعمش، عن سليمان بن مَيسَرة، عن طارق بن شِهاب، قال: قال عبد الله بن مسعود: إنكم في زمانٍ القائلُ فيه بالحقِّ خيرٌ من الصَّامت، والقائمُ فيه خيرٌ من القاعد، وإنّ بعدَكم زمانًا الصَّامتُ فيه خيرٌ من الناطق، والقاعدُ فيه خيرٌ من القائم. قال: فقال رجل: يا أبا عبد الرحمن، كيف يكون أمرٌ مَن أخذ به اليومَ كان هُدًى، ومَن أخذَ به بعدَ اليوم كان ضلالةً؟! قال: قد فعلتموه، اعتبِروا ذلك برجلين مرَّا بقوم يعملون بالمعاصي، فأنكَرا كلاهما، وصَمَت أحدُهما فسَلِمَ، وتكلَّم الآخرُ فقال: إنكم تفعلون وتفعلون، فأخذوه وذهبوا به إلى ذِي سلطانهم، فلم يَزَلْ - أو لم يزالوا - به حتى أَخَذَ بأَخْذِه وعَمِلَ بعمله (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8327 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم ایسے زمانے میں ہو كہ اس میں حق بات كرنے والا خاموش رہنے والے سے بہتر ہے، اور اس زمانے میں كھڑا ہوا، بیٹھے ہوئے سے بہتر ہے، اور تمہارے بعد ایک زمانہ آئے گا، جس میں خاموش رہنے والا، بولنے والے سے بہتر ہو گا اور بیٹھا ہوا، كھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا۔ (طارق بن شہاب) كہتے ہیں: ایک آدمی اٹھ كر كھڑا ہوا اور كہنے لگا: اے ابوعبدالرحمن! آپ كیا دیكھتے ہیں؟ آج کے دن لوگ جس پر عمل پیرا ہیں، كیا یہ لوگ ہدایت پر ہیں یا بعد میں آنے والے لوگ گمراہ ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: تم نے جو كچھ كیا ہے، اس حوالے سے دو آدمیوں سے عبرت حاصل كرو، جو ایک قوم کے پاس سے گزرے، وہ لوگ گناہوں میں مبتلا تھے، ان گناہوں كو ناپسند دونوں نے ہی كیا لیکن ان میں سے ایک نے خاموشی اختیار كی اور دوسرا اس برائی کے خلاف بول پڑا، وہ لوگ اس بولنے والے كو پكڑ كر اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے، انہون نے اس آدمی كو اس وقت تک قید ركھا، حتی كہ وہ بھی ان كی طرح کے عمل میں مبتلا ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے، لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8532]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8532 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: أرومة، وانظر التعليق عليه عند الحديث (8499).
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام "ارومہ" ہے، اس پر تعلیق حدیث نمبر (8499) کے تحت دیکھیں۔
(3) خبر صحيح، رجاله في الجملة ثقات معروفون غير محمد بن إبراهيم بن أورمة فمجهول لا يعرف، ولم ينفرد به.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر (متن) صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال مجموعی طور پر ثقہ اور معروف ہیں سوائے "محمد بن ابراہیم بن اورمہ" کے کہ وہ مجہول ہیں اور انہیں جانا نہیں گیا، البتہ وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہیں۔
فقد أخرجه ابن عبد البر في "التمهيد" 24/ 314 من طريق محمد بن جرير الطبري، عن محمد ابن المثنى، عن عبد الرحمن بن مهدي، عن شعبة، عن الأعمش، بهذا الإسناد. وهذا إسناد صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عبد البر نے "التمہید" (24/ 314) میں محمد بن جریر طبری کے طریق سے، انہوں نے محمد بن مثنیٰ سے، انہوں نے عبد الرحمن بن مہدی سے، انہوں نے شعبہ سے، انہوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور یہ سند "صحیح" ہے۔
ثم أخرجه من طريق ابن جرير أيضًا عن محمد بن حميد، عن جرير بن عبد الحميد، عن الأعمش، به. وابن حميد فيه ضعف لكنه يعتبر به في المتابعات والشواهد.
📖 حوالہ / مصدر: پھر اسے ابن جریر کے طریق سے بھی روایت کیا ہے، جو محمد بن حمید، عن جریر بن عبد الحمید، عن الاعمش سے روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن حمید میں ضعف ہے لیکن متابعات اور شواہد میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے۔