المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
17. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -: " سَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى بِضْعٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً "
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی
حدیث نمبر: 8530
أخبرنا محمد بن المؤمل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عيسى بن يونس، عن حَرِيز بن عثمان، عن عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير، عن أبيه، عن عَوف بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"ستفترقُ أمتي على بِضع وسبعين فرقةً، أعظمُها فِرقةً قومٌ يَقِيسون الأمورَ برأيهم، فيُحرِّمون الحلال ويُحلِّلون الحرامَ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت ستر سے کچھ زائد فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، ان میں سے سب سے بڑا (فتنہ پرور) فرقہ وہ ہوگا جو معاملات کو اپنی رائے پر قیاس کریں گے، پس وہ حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے دیں گے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8530]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8530]
تخریج الحدیث: «حديث منكر، سلف هذا الحديث برقم (6461) من طريق يحيى بن عثمان السهمي عن نعيم بن حماد، فانظر تخريجه والكلام عليه هناك» [ترقيم الرساله 8530] [ترقيم الشركة 8427]
الحكم على الحديث: حديث منكر
حدیث نمبر: 8531
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو اليَمَان الحَكَم بن نافع، حدثنا صفوان بن عمرو، حدثنا سُليم بن عامر، عن تَميم الدَّارِي قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"ليَبْلُغَنَّ هذا الأمرُ مبلغَ الليلِ والنهار، ولا يَتْركُ الُله بيتَ مَدَرٍ ولا وَبَرٍ إلَّا أدخله هذا الدَّينَ، بعِزِّ عزيز أو بذُلِّ ذليل، بعِزٍّ يُعِزُّ الله في الإسلام، ويُذِلُّ به الكفرَ". وكان تميمٌ الدارِيُّ يقول: قد عرفتُ ذلك في أهل بيتي، لقد أصاب مَن أسلم منهم الخيرَ والشرفَ والعزَّ، ولقد أصاب من كان كافرًا الذلَّ والصَّغَارَ والجِزيةَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8326 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8326 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”یقیناً یہ معاملہ (دینِ اسلام) وہاں تک پہنچ کر رہے گا جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ مٹی کے کسی گھر یا اون کے کسی خیمے کو نہیں چھوڑے گا مگر اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت والے کی عزت کے ساتھ یا ذلیل ہونے والے کی ذلت کے ساتھ؛ ایسی عزت جس کے ذریعے اللہ اسلام کو سربلندی عطا فرمائے گا اور ایسی ذلت جس کے ذریعے وہ کفر کو رسوا کر دے گا۔“ اور سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: میں نے اس بات (کے سچ ہونے) کو اپنے گھر والوں میں جان لیا ہے، کیونکہ ان میں سے جو مسلمان ہوئے انہیں خیر، شرف اور عزت نصیب ہوئی، اور جو کافر رہے انہیں ذلت، رسوائی اور جزیہ کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8531]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8531]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8531] [ترقيم الشركة 8428] [ترقيم العلميه 8326]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 8532
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة (2) ، حدثنا الحسين بن حَفْص، عن سفيان، عن الأعمش، عن سليمان بن مَيسَرة، عن طارق بن شِهاب، قال: قال عبد الله بن مسعود: إنكم في زمانٍ القائلُ فيه بالحقِّ خيرٌ من الصَّامت، والقائمُ فيه خيرٌ من القاعد، وإنّ بعدَكم زمانًا الصَّامتُ فيه خيرٌ من الناطق، والقاعدُ فيه خيرٌ من القائم. قال: فقال رجل: يا أبا عبد الرحمن، كيف يكون أمرٌ مَن أخذ به اليومَ كان هُدًى، ومَن أخذَ به بعدَ اليوم كان ضلالةً؟! قال: قد فعلتموه، اعتبِروا ذلك برجلين مرَّا بقوم يعملون بالمعاصي، فأنكَرا كلاهما، وصَمَت أحدُهما فسَلِمَ، وتكلَّم الآخرُ فقال: إنكم تفعلون وتفعلون، فأخذوه وذهبوا به إلى ذِي سلطانهم، فلم يَزَلْ - أو لم يزالوا - به حتى أَخَذَ بأَخْذِه وعَمِلَ بعمله (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8327 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8327 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں حق بات کہنے والا خاموش رہنے والے سے بہتر ہے اور (نیکی کے لیے) کھڑا ہونے والا بیٹھنے والے سے بہتر ہے، اور تمہارے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں خاموش رہنے والا بولنے والے سے بہتر ہوگا اور بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا۔“ ایک شخص نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو شخص آج کسی بات پر عمل کرے تو وہ ہدایت ہو اور وہی بات آج کے بعد (کسی اور دور میں) گمراہی بن جائے؟ انہوں نے فرمایا: ”تم ایسا کر چکے ہو، اس کی مثال ان دو آدمیوں سے سمجھو جو ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے جو گناہوں میں مصروف تھے، ان دونوں نے اس کا انکار کیا، ان میں سے ایک خاموش رہا تو وہ سلامت رہا، جبکہ دوسرے نے کلام کیا اور کہا: تم ایسا ایسا (غلط) کر رہے ہو، تو لوگوں نے اسے پکڑ لیا اور اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے، پھر وہ شخص - یا وہ لوگ - اس کے پیچھے پڑے رہے یہاں تک کہ اس نے ان کی بات مان لی اور انہی جیسا عمل کرنے لگا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8532]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8532]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، رجاله في الجملة ثقات معروفون غير محمد بن إبراهيم بن أورمة فمجهول لا يعرف، ولم ينفرد به» [ترقيم الرساله 8532] [ترقيم الشركة 8429] [ترقيم العلميه 8327]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 8533
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إبراهيم بن الحسين الهَمَذاني، حدثنا عمرو (1) بن عاصم الكِلابي، حدثنا أبو العوَّام القطَّان، حدثنا قَتَادة، عن أبي الخليل، عن عبد الله بن الحارث، عن أم سَلمة قالت: قال رسول الله ﷺ:"يُبايِعُ لرجلٍ من أمتي بين الرُّكْن والمَقام كعِدَّة أهل بَدر، فيأتيه عُصَبُ العراق وأبدالُ الشام، فيأتيهم جيشٌ من الشام، حتى إذا كانوا بالبَيداءِ خُسِفَ بهم، ثم يسير إليه رجلٌ من قريش أخواله كَلْبٌ، فيَهزِمُهم الله". قال: وكان يقال: إِنَّ الخائبَ يومئذٍ مَن خاب من غَنيمةِ كَلْب (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8328 - أبوالعوام عمران ضعفه غير واحد وكان خارجيا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8328 - أبوالعوام عمران ضعفه غير واحد وكان خارجيا
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت کے ایک شخص کے ہاتھ پر رکن (اسود) اور مقام (ابراہیم) کے درمیان بیعت کی جائے گی جن کی تعداد اصحابِ بدر کے برابر ہوگی، پھر ان کے پاس عراق کی جماعتیں اور شام کے ابدال آئیں گے، تو ان کی طرف شام سے ایک لشکر آئے گا، یہاں تک کہ جب وہ زمین کے چٹیل میدان (بیداء) میں ہوں گے تو انہیں دھنسا دیا جائے گا، پھر قریش کا ایک شخص ان کی طرف نکلے گا جس کے ننھیال قبیلہ «كلب» (کلب) سے ہوں گے، پس اللہ انہیں شکست دے گا۔“ راوی کہتے ہیں: یہ کہا جاتا تھا کہ اس دن اصل محروم وہ ہے جو قبیلہ کلب کی غنیمت سے محروم رہ گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8533]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لاضطرابه، فقد اختلف فيه على قتادة كما هو مبيَّن في التعليق على "مسند أحمد" 44 / (26689)» [ترقيم الرساله 8533] [ترقيم الشركة 8430] [ترقيم العلميه 8328]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 8534
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني سليمان بن بلال، عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رَبَاح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"المحرومُ من حُرِمَ غَنيمةَ كَلْب ولو عِقال (3) ، والذي نفسي بيده لتُباعَنَّ نساؤُهم على دَرَج دمشق، حتى تُرَدَّ المرأةُ من كَسرٍ يوجدُ بساقِها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8329 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8329 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”محروم وہ ہے جو قبیلہ «كلب» (کلب) کی غنیمت سے محروم رہا اگرچہ وہ اونٹ باندھنے کی ایک رسی (عقال) ہی کیوں نہ ہو؛ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! یقیناً ان کی عورتیں دمشق کی سیڑھیوں پر بیچی جائیں گی، یہاں تک کہ کسی عورت کو اس کی پنڈلی میں موجود کسی زخم یا نقص کی وجہ سے واپس کر دیا جائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8534]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8534]
تخریج الحدیث: «إسناده ليِّن، كثير بن زيد صدوق، لكنه ليس بذاك القوي وبخاصة فيما يتفرَّد به، وقد تفرَّد بهذا الحديث بهذا التمام، ولم يقع حديثه هذا عند غير المصنف فيما وقفنا عليه من مصادر» [ترقيم الرساله 8534] [ترقيم الشركة 8431] [ترقيم العلميه 8329]
الحكم على الحديث: إسناده ليِّن