🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. يكون أمراء يعذبونكم ويعذبهم الله
ایسے حکمران ہوں گے جو تمہیں تکلیف دیں گے اور اللہ انہیں عذاب دے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8545
أخبرنا أحمد بن عثمان بن يحيى بن عمرو البزَّاز ببغداد، حدثنا أبو قِلابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا همَّام، حدثنا قَتادة، عن الحسن، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تقومُ الساعة حتى يأخُذَ الله ﷿ شَرِيطتَه من أهل الأرض، فيبقى عَجَاجٌ لا يعرفون معروفًا، ولا يُنكرون منكرًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين إن كان الحسنُ سَمِعَه من عبد الله بن عَمْرو.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8341 - على شرط البخاري ومسلم إن كان الحسن عن عبد الله متصلا
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس وقت تک قیامت نہیں آئے گی جب تک اللہ تعالیٰ زمین والوں سے اپنی شرط پوری نہ کروا لے گا، چیخنے، چلانے والے لوگ باقی بچ جائیں گے، یہ نیکی نہیں جانتے ہوں گے، اور گناہ کو گناہ نہیں سمجھتے ہوں گے۔ ٭٭ اگر حسن نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے سماع کیا ہے تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس كو نقل نہیں كیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8545]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8545 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، رجاله لا بأس بهم إلا أنَّ الحسن - وهو البصري لم يصرّح بسماعه من عبد الله بن عمرو، وقد ذهب علي بن المديني إلى أنه لم يسمع منه شيئًا، وأقرَّه ابن أبي حاتم في "المراسيل" (132).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے رجال ٹھیک (لا بأس بہم) ہیں، سوائے اس کے کہ حسن بصری نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع کی تصریح نہیں کی ہے۔ علی بن مدینی کا مذہب یہ ہے کہ حسن نے عبد اللہ بن عمرو سے کچھ نہیں سنا، اور ابن ابی حاتم نے "المراسیل" (132) میں اس کو برقرار رکھا ہے۔
وأخرجه أحمد 11 / (6964) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11 / 6964) نے عبد الصمد بن عبد الوارث سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أيضًا (6965) عن عفان بن مسلم، عن همام بن يحيى، به. ولم يرفعه إلى النبي ﷺ جعله من قول عبد الله بن عمرو، ومثل هذا لا يقال من قِبل الرأي، والمحفوظ الرفع.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (6965) نے عفان بن مسلم سے، انہوں نے ہمام بن یحییٰ سے اسی طرح روایت کیا ہے، لیکن انہوں نے اسے نبی ﷺ تک مرفوع نہیں کیا بلکہ اسے عبد اللہ بن عمرو کا قول قرار دیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: لیکن ایسی بات رائے سے نہیں کہی جا سکتی (لہٰذا یہ حکماً مرفوع ہے)، اور "محفوظ" یہی ہے کہ یہ مرفوع ہے۔
وانظر ما سيأتي عند المصنف بالأرقام (8613) و (8616) و (8697) و (8867) و (8880). (8880).
📝 نوٹ / توضیح: مزید تفصیل کے لیے مصنف کے ہاں آگے آنے والی احادیث نمبر (8613)، (8616)، (8697)، (8867) اور (8880) دیکھیں۔
ويشهد له ما قبله.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید (شاہد) اس سے پچھلی روایت کرتی ہے۔
والعجاج من الناس: الغَوغاء والأراذل ومَن لا خير فيه، واحدهم عَجَاجة.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: "العجاج": لوگوں میں سے کمینے، شور مچانے والے اور وہ لوگ جن میں کوئی خیر نہ ہو، ان کو کہتے ہیں (واحد: عجاجۃ)۔