المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. يأتى على الناس زمان يجتمعون فى المساجد ليس فيهم مؤمن
لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جب وہ مسجدوں میں جمع ہوں گے مگر ان میں ایک بھی مومن نہ ہوگا
حدیث نمبر: 8569
فحدّثناه الحُسين (2) بن علي التميمي ﵀، حدثنا محمد بن إسحاق الإمام، حدثنا علي بن الحسين الدرهمي، حدثنا مُبَارك أبو سُحَيم، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن أنس بن مالك، عن النبي ﷺ أنه قال:"لن يزداد الزمانُ إلَّا شدّة، ولا يزداد الناسُ إِلَّا شُحًا، ولا تقومُ الساعةُ إلَّا على شرار الناس" (3) . فذكرتُ ما انتهى إليَّ من عِلَّة هذا الحديث تعجُّبًا لا محتجًا به في المستدرك على الشيخين ﵄، فإنّ أولى من هذا الحديث ذكره في هذا الموضع، حديث سفيان الثَّوْري وشُعبة وزائدة وغيرهم من أئمة المسلمين، عن عاصم بن بهدلة، عن زِرِّ بن حُبَيش، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ أنه قال:"لا تذهب الأيام والليالي حتى يملك رجلٌ من أهل بيتي، يُواطئ اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي، فيملأُ الأرضَ قِسْطًا وعَدْلًا كما ملئت جَوْرًا وظُلمًا" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8364 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8364 - صحيح
عبدالعزیز بن صہیب روایت کرتے ہیں، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زمانے میں شدت بڑھے گی، لوگوں میں بخل بڑھے گا، اور قیامت سب سے شریر لوگوں پر قائم ہو گی۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: اس حدیث کی جو علت مجھ تک پہنچی ہے وہ تعجب کرتے ہوئے میں نے یہاں ذکر کر دی ہے، دلیل کے طور پر نہیں کی۔ کیونکہ اس مقام پر اس کی بجائے درج ذیل حدیث ذکر ہونی چاہئے۔ سفیان ثوری، شعبہ زائدہ، اور دیگر ائمہ مسلمین نے عاصم بن بہدلہ سے، انہوں نے زر بن حبیش سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ دن اور رات ختم نہیں ہوں گے حتی کہ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی ایسا حکمران بنے گا، اس کا نام، میرے نام جیسا ہو گا، اور اس کے باپ کا نام بھی وہی ہو گا جو میرے باپ کا نام ہے، وہ روئے زمین پر انصاف ہی انصاف کر دے گا، جیسا کہ اس کے آنے سے پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8569]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8569 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الحَسَن. وقد جاء على الصواب في بضعة وعشرين موضعًا من هذا الكتاب، والحسين هذا: هو الحافظ المعروف بحُسينَك.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسن" بن گیا ہے، حالانکہ اس کتاب میں بیس سے زائد مقامات پر یہ درست (الحسین) آیا ہے۔ اور یہ حسین دراصل وہ حافظ حدیث ہیں جو "حُسینَک" کے نام سے معروف ہیں۔
(3) إسناده ضعيف جدًّا من أجل مبارك بن سحيم أبي سحيم، فإنه متروك منكر الحديث، وقد تفرد به عن عبد العزيز بن صهيب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ مبارک بن سحیم ابو سحیم ہے، کیونکہ وہ متروک اور منکر الحدیث ہے، اور وہ اس روایت کو عبد العزیز بن صہیب سے روایت کرنے میں منفرد ہے۔
وأخرجه الطبراني في "المعجم الصغير" (485)، وأبو طاهر في "المخلصيات" (2425) و (3120) - ومن طريقه الذهبي في "السير" 20/ 400، وابن رجب الحنبلي في "ذيل طبقات الحنابلة" 2/ 183 - 184 - من طريقين عن مبارك بن سحيم، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المعجم الصغیر" (485) میں، ابو طاہر نے "المخلصیات" (2425) اور (3120) میں، اور انہی کے طریق سے ذہبی نے "السیر" 20/ 400 میں اور ابن رجب الحنبلی نے "ذیل طبقات الحنابلہ" 2/ 183-184 میں مبارک بن سحیم سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس سے قبل والی روایت بھی دیکھیں۔
(1) أخرجه من هذه الطرق وغيرها عن عاصم بن بهدلة: أحمد 6/ (3571 - 3573)، وأبو داود (4282)، والترمذي (2230) و (2231)، وابن حبان (5954) و (6824) و (6825)، وبعضهم يزيد فيه على بعض. وعاصم صدوق حسن الحديث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ان طرق سے اور دیگر طرق سے عاصم بن بہدلہ سے روایت کیا گیا ہے: مسند احمد 6/ (3571-3573)، ابو داود (4282)، ترمذی (2230) اور (2231)، اور ابن حبان (5954)، (6824) اور (6825)۔ بعض روایات میں دوسروں کی بنسبت کچھ الفاظ زائد ہیں۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور عاصم (بن بہدلہ) صدوق اور حسن الحدیث ہیں۔