🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. ذكر حبس سيل تخرج منه نار 8416 - أخبرناه أحمد بن كامل القاضي ، ثنا محمد بن سعد بن الحسن العوفي ، ثنا عثمان بن عمر بن فارس ، أنبأ عبد الحميد بن جعفر ، عن أبى جعفر محمد بن على بن الحسين - رضي الله عنهم - ، عن رافع بن بشر السلمي ، عن أبيه ، أن رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - ، قال : " تخرج نار من حبس سيل تسير بسير بطيئة ، تكمن بالليل وتسير بالنهار ، تغدو وتروح ، يقال : غدت النار أيها الناس فاغدوا ، قالت النار أيها الناس فقيلوا ، راحت النار أيها الناس فروحوا ، من أدركته أكلته " .
حبسِ سیل (یمن کی ایک جگہ) سے نکلنے والی آگ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8571
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي العامري، حدثنا أبو أسامة، حدثني زائدة قال: سمعتُ الأعمش يحدِّث عن عمرو بن مُرَّة، عن عبد الله بن الحارث، عن حبيب بن حِمَاز (1) ، عن أبي ذر قال: كنا مع النبي ﷺ في سفرٍ، فلما رجعنا تَعجَّل ناسٌ فدخلوا المدينة، فسأل عنهم النبي ﷺ فَأَخبر أنهم تعجَّلوا إلى المدينة، فقال:"يُوشِكُ أن يَدَعُوها أحسن ما كانت، لَيْتَ شِعْري، متى تخرج نارٌ من جبل الوِرَاق، تُضِيءُ لها أعناقُ البُخْتِ بالبصرَى بُروكًا كضَوْءِ النهار" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وشاهده حديث رافع السُّلَمي الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8366 - صحيح
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم لوگ ایک سفر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، جب ہم سفر سے واپس آئے تو لوگوں نے جلد بازی کی اور مدینہ میں داخل ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں دریافت فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ وہ جلدی مدینے میں داخل ہو گئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ اس کو وہ پکارے جو اس سے بہتر ہے، کاش کہ میں وہ حالات دیکھ سکوں جب جبل الوراق سے آگ نکلے گی، اور بصریٰ میں بختی اونٹوں کی کوہانیں اس طرح چمکیں گی جیسے دن کی روشنی میں کوئی چیز چمکتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8571]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8571 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في (ز) و (ك) و (ب) إلى: عن حبيب عمار، وفي (م) إلى: عن أبي حبيب عمار.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز)، (ک) اور (ب) میں یہ نام تحریف ہو کر "عن حبیب عمار" بن گیا ہے، اور نسخہ (م) میں "عن ابی حبیب عمار" ہو گیا ہے۔
(2) إسناده محتمل للتحسين من أجل حبيب بن حماز، فهو تابعي روى عنه اثنان ووثقه العجلي وابن حبان. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة، وزائدة: هو ابن قدامة، وعبد الله بن الحارث: هو الزبيدي النجراني الكوفي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حبیب بن حماز کی وجہ سے تحسین (حسن قرار دینے) کا احتمال رکھتی ہے، وہ تابعی ہیں، ان سے دو لوگوں نے روایت کی ہے اور عجلی و ابن حبان نے ان کی توثیق کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو اسامہ سے مراد "حماد بن اسامہ" ہیں، زائدہ سے مراد "ابن قدامہ" ہیں، اور عبداللہ بن حارث سے مراد "الزبیدی النجرانی الکوفی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 35/ (21290) عن معاوية بن عمرو، عن زائدة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 35/ (21290) نے معاویہ بن عمرو سے، انہوں نے زائدہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (21289)، وابن حبان (6841) من طريق جرير بن حازم، عن الأعمش، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (21289) اور ابن حبان (6841) نے جریر بن حازم کے طریق سے، انہوں نے اعمش سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وفي حديثه: "نار من اليمن من جبل الوراق".
🧾 تفصیلِ روایت: اور ان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں: "یمن کی طرف سے ورّاق پہاڑ سے نکلنے والی آگ"۔
وذكر هذه النار التي تضيء لها أعناق الإبل ببُصرى وأنها من اليمن، ممّا وهمَ فيه الراوي واشتبه عليه كما قال ابن كثير في "البداية والنهاية" 19/ 27، فإنَّ النار التي تخرج من قعر عدن من اليمن هي التي تسوق الناس الموجودين في آخر الزمان إلى المحشر كما وقع في حديث حذيفة بن أسيد عند مسلم (2901) وغيره، وأما النار التي تضيء لها أعناق الإبل ببصرى فتلك تخرج من أرض الحجاز كما وقع في حديث أبي هريرة عند البخاري (7118) ومسلم (2902)، وسيأتي عند المصنف برقم (8574).
🔍 فنی نکتہ / علّت: بصریٰ میں اونٹوں کی گردنیں روشن کر دینے والی اس آگ کو یمن سے قرار دینا راوی کا وہم اور اشتباہ ہے، جیسا کہ ابن کثیر نے "البدایہ والنہایہ" 19/ 27 میں فرمایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہ آگ جو قعر عدن (یمن) سے نکلے گی وہ آخری زمانے میں موجود لوگوں کو میدان محشر کی طرف ہانکے گی (جیسا کہ صحیح مسلم: 2901 میں حذیفہ بن اسید کی حدیث میں ہے)۔ رہی وہ آگ جس سے بصریٰ میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہوں گی تو وہ سرزمین حجاز سے نکلے گی جیسا کہ بخاری (7118) اور مسلم (2902) میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، اور یہ آگے مصنف کے ہاں رقم (8574) پر آئے گی۔
ولقوله: "يوشك أن يَدَعوها أحسن ما كانت" انظر ما سلف برقم (8516).
📝 نوٹ / توضیح: آپ ﷺ کے فرمان "يوشك أن يَدَعوها أحسن ما كانت" (قریب ہے کہ وہ اسے اس حال میں چھوڑ دیں گے جب وہ بہترین حالت میں ہوگا) کے لیے پیچھے گزرنے والی روایت نمبر (8516) ملاحظہ کریں۔