🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. ينزل بأمتي فى آخر الزمان بلاء شديد من سلطانهم
آخری زمانے میں میری امت پر ان کے حکمرانوں کی طرف سے سخت آزمائش آئے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8644
أخبرني الحسين بن علي بن محمد بن يحيى التَّميمي، أخبرنا أبو محمد الحسن بن إبراهيم بن حَيدَر الحِميَري (1) بالكوفة، حدثنا القاسم بن خليفة، حدثنا أبو يحيى عبد الحميد بن عبد الرحمن الحِماني، حدثنا عمر بن عبيد الله العَدَوي، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبي الصِّدِّيق الناجي، عن أبي سعيد الخُدري قال: قال نبيُّ الله ﷺ:"يَنزِل بأُمَّتي في آخر الزمان بلاءٌ شديدٌ من سلطانهم، لم يُسمَعْ بلاءُ أَشدُّ منه، حتى تضيقَ عنهم الأرضُ الرَّحْبةُ، وحتى تُملأ الأرضُ جَوْرًا وظلمًا، لا يجدُ المؤمنُ مَلجأً يلتجئ إليه من الظُّلم، فيَبعَثُ الله ﷿ رجلًا من عِترتي، فيملأُ الأرضَ قِسطًا وعَدلًا كما مُلتَت ظُلمًا، وجورًا، يرضى عنه ساكنُ السماء وساكنُ الأرض، لا تَدَّخِرُ الأرضُ من بَدْرِها شيئًا إلَّا أخرجته، ولا السماء من قَطرِها شيئًا إلَّا صبَّه الله عليهم مدرارًا، يعيش فيهم سبعَ سنين أو ثمان أو تِسعَ، تتمنَّى الأحياءُ الأمواتَ مما صَنَعَ اللهُ ﷿ بأهل الأرض من خيره" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8438 - سنده مظلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں میری امت پر ان کے بادشاہوں کی جانب سے اتنی بڑی بڑی مصیبتیں نازل ہوں گی، کہ اس سے بڑی مصیبت کبھی کسی نے نہیں سنی ہو گی، حتی کہ زمین باوجود کشادہ ہونے کے ان پر تنگ ہو جائے گی، حتی کہ روئے زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی، ظلم سے بچنے کے لئے مومن کو کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی، ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ میری اولاد میں سے ایک آدمی بھیجے گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ اس سے پہلے ظلم و ستم سے بھری ہو گی، اس پر آسمان والے بھی راضی ہوں گے اور زمین والے بھی، زمین اپنے تمام خزانے اگل دے گی، آسمان بھی ان پر رحمتوں کی بارشیں برسائے گا، وہ آدمی ان میں سات، یا آٹھ یا نو سال رہے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ اہل زمین پر جو خیر نازل فرمائے گا اس کو دیکھ کر زندہ لوگ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے فوت شدہ لوگ آج زندہ ہوتے۔ (اور ان حالات کا نظارہ کرتے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8644]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8644 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (م): إبراهيم بن عبد الحميدي.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م) میں "ابراہیم بن عبدالحمیدی" لکھا ہے۔
(2) إسناده مظلم كما قال الذهبي في "تلخيصه"، الحسن بن إبراهيم الحميري لم نقف له على ترجمة، والقاسم بن خليفة ذكره ابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 7/ 109 ونقل عن الحافظ علي بن الحسين بن الجنيد أنه قال: كتبت عنه وكان شيعيًّا. وعمر بن عبد الله العدوي وهو عمر بن عبيد الله بن عبد الله بن عمر - روى عنه غير واحد ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، فهو والقاسم بن خليفة في حالهما جهالة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "مظلم" (تاریک/سخت ضعیف) ہے جیسا کہ ذہبی نے "تلخیص" میں فرمایا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راوی) حسن بن ابراہیم حمیری کا ہمیں کوئی ترجمہ (حالات) نہیں ملا۔ قاسم بن خلیفہ کو ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (7/ 109) میں ذکر کیا اور حافظ علی بن حسین بن جنید سے نقل کیا کہ انہوں نے کہا: "میں نے ان سے لکھا ہے اور وہ شیعہ تھے"۔ عمر بن عبداللہ عدوی (جو عمر بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر ہیں) سے ایک سے زائد راویوں نے روایت کی ہے لیکن ابن حبان کے سوا کسی سے ان کی توثیق منقول نہیں؛ لہٰذا وہ اور قاسم بن خلیفہ دونوں "جہالت" کے حال میں ہیں۔
وهذا الحديث بهذا الإسناد لم نقف عليه عند غير المصنف، وهو مشتهر بهذا السياق من رواية أبي هارون العبدي عن معاوية بن قرّة، رواه عنه معمر في "جامعه" برواية عبد الرزاق (20770)، ومن طريقه أخرجه العقيلي في "الضعفاء" (1811)، وأبو الطيب الحوراني في "جزئه" (41)، وأبو أحمد الحاكم في "فوائده" (82)، وأبو محمد البغوي في "شرح السنة" (4280). وأبو هارون العبدي: هو عُمارة بن جُوَين، وهو متروك الحديث، وكذَّبه بعضهم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمیں یہ حدیث اس سند کے ساتھ مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی، البتہ یہ حدیث اس سیاق کے ساتھ ابوہارون العبدی عن معاویہ بن قرہ کی روایت سے مشہور ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے معمر نے "الجامع" (بروایت عبدالرزاق 20770) میں، اور ان کے طریق سے عقیلی نے "الضعفاء" (1811)، ابوالطیب حورانی نے "جزئہ" (41)، ابواحمد حاکم نے "فوائدہ" (82) اور ابومحمد بغوی نے "شرح السنۃ" (4280) میں روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوہارون عبدی سے مراد "عمارہ بن جوین" ہیں، جو کہ "متروک الحدیث" ہیں اور بعض نے انہیں جھوٹا (کذاب) کہا ہے۔
وستأتي قطع منه عند المصنف من غير وجه عن أبي الصديق الناجي - واسمه بكر بن عمرو - بالأرقام (8882) و (8886) و (8887) و (8888)، وانظر (8883).
🧾 تفصیلِ روایت: اس حدیث کے کچھ حصے مصنف کے ہاں ابوالصدیق الناجی (جن کا نام بکر بن عمرو ہے) سے دیگر اسانید کے ساتھ آگے نمبر (8882)، (8886)، (8887) اور (8888) پر آئیں گے، نیز نمبر (8883) بھی دیکھیں۔