المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
53. يَنْزِلُ بِأُمَّتِي فِي آخِرِ الزَّمَانِ بَلَاءٌ شَدِيدٌ مِنْ سُلْطَانِهِمْ
آخری زمانے میں میری امت پر ان کے حکمرانوں کی طرف سے سخت آزمائش آئے گی
حدیث نمبر: 8643
أخبرني محمد بن علي الصَّنعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن خُثَيم، عن نافع بن سَرجِس، عن أبي هريرة قال: أيها الناسُ، أظلَّتكُم فتنةٌ كقِطَع الليل المظلم، أنجى (3) الناس فيها - أو قال: منها - صاحب شاءٍ يأكل من رسل غنيه، أو رجلٌ وراءَ الدَّرْب آخذٌ بعنان فرسه يأكلُ من سيفه (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے لوگو! تم پر تاریک رات کے اندھیروں کی مثل فتنے آئیں گے، ان میں اچھا بکری کا وہ مالک ہو گا، جو اپنی بکری کے دودھ وغیرہ پر گزارا کرتا ہو گا، یا وہ شخص جو دور درازے پیچھے اپنے گھوڑے کی لگام پڑے ہوئے ہو گا، اپنی تلوار پر گزارا کرتا ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8643]
حدیث نمبر: 8644
أخبرني الحسين بن علي بن محمد بن يحيى التَّميمي، أخبرنا أبو محمد الحسن بن إبراهيم بن حَيدَر الحِميَري (1) بالكوفة، حدثنا القاسم بن خليفة، حدثنا أبو يحيى عبد الحميد بن عبد الرحمن الحِماني، حدثنا عمر بن عبيد الله العَدَوي، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبي الصِّدِّيق الناجي، عن أبي سعيد الخُدري قال: قال نبيُّ الله ﷺ:"يَنزِل بأُمَّتي في آخر الزمان بلاءٌ شديدٌ من سلطانهم، لم يُسمَعْ بلاءُ أَشدُّ منه، حتى تضيقَ عنهم الأرضُ الرَّحْبةُ، وحتى تُملأ الأرضُ جَوْرًا وظلمًا، لا يجدُ المؤمنُ مَلجأً يلتجئ إليه من الظُّلم، فيَبعَثُ الله ﷿ رجلًا من عِترتي، فيملأُ الأرضَ قِسطًا وعَدلًا كما مُلتَت ظُلمًا، وجورًا، يرضى عنه ساكنُ السماء وساكنُ الأرض، لا تَدَّخِرُ الأرضُ من بَدْرِها شيئًا إلَّا أخرجته، ولا السماء من قَطرِها شيئًا إلَّا صبَّه الله عليهم مدرارًا، يعيش فيهم سبعَ سنين أو ثمان أو تِسعَ، تتمنَّى الأحياءُ الأمواتَ مما صَنَعَ اللهُ ﷿ بأهل الأرض من خيره" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8438 - سنده مظلم
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8438 - سنده مظلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخری زمانے میں میری امت پر ان کے بادشاہوں کی جانب سے اتنی بڑی بڑی مصیبتیں نازل ہوں گی، کہ اس سے بڑی مصیبت کبھی کسی نے نہیں سنی ہو گی، حتی کہ زمین باوجود کشادہ ہونے کے ان پر تنگ ہو جائے گی، حتی کہ روئے زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی، ظلم سے بچنے کے لئے مومن کو کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی، ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ میری اولاد میں سے ایک آدمی بھیجے گا، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسا کہ اس سے پہلے ظلم و ستم سے بھری ہو گی، اس پر آسمان والے بھی راضی ہوں گے اور زمین والے بھی، زمین اپنے تمام خزانے اگل دے گی، آسمان بھی ان پر رحمتوں کی بارشیں برسائے گا، وہ آدمی ان میں سات، یا آٹھ یا نو سال رہے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ اہل زمین پر جو خیر نازل فرمائے گا اس کو دیکھ کر زندہ لوگ تمنا کریں گے کہ کاش ان کے فوت شدہ لوگ آج زندہ ہوتے۔ (اور ان حالات کا نظارہ کرتے) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8644]