المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
55. لا تقوم الساعة حتى تكلم السباع الإنسان
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے کلام نہ کرنے لگیں
حدیث نمبر: 8650
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع، حدثنا القاسم بن الفَضل، حدثنا أبو نَضرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: بَيْنا راعٍ يرعى بالحَرَّة إِذ عَدَا الذئبُ على شاةٍ من الشِّياه، فحالَ (1) الراعي بين الذئب وبين الشاة، فأَقعَى الذئبُ على ذنبه فقال: يا عبد الله، تحول بيني وبينَ رزق ساقه الله إليَّ! فقال الرجل: يا عَجَباه، ذئبٌ يكلِّمُني بكلام الإنسان! فقال الذئب: ألا أخبرُك بأعجب مني؟ رسولُ الله بين الحَرَّتَين (2) يخبر الناس بأنباء ما قد سَبَقَ، فزَوَى الراعي شياهه إلى زاويةٍ من زوايا المدينة، ثم أتى النبي ﷺ فأخبره، فخرج رسول الله ﷺ إلى الناس، فقال رسول الله ﷺ:"صَدَقَ والذي نفسي بيده" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8444 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8444 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک دفعہ ایک چرواہا، حرہ میں بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیٹریے نے اس کی بکریوں پر حملہ کر دیا اور ایک بکری دبوچ لی، راعی نے اس سے بکری چھین لی، وہ بھیٹریا اپنی سرین پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! اللہ تعالیٰ نے میرے لئے جو رزق رکھا تھا تو نے میرا وہ رزق مجھ سے چھین لیا ہے، اس آدمی نے کہا: بڑے تعجب کی بات ہے، ایک بھیٹریا انسانوں کی طرح باتیں کر رہا ہے، بھیٹریے نے کہا: میں تجھے اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات نہ بتاؤں؟ ان دو پہاڑوں کے درمیان اللہ کا رسول پیدا ہوا ہے، وہ لوگوں کو گزرے ہوئے زمانے کی باتیں بتاتا ہے۔ اس چرواہے نے شہر کے ایک کونے میں اپنی بکریوں کو سمیٹا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو واقعہ بتایا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف نکلے اور فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اس نے سچ کہا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام سلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8650]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8650 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: فجاء، والمثبت من "تلخيص الذهبي"، وهو أوجه.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "فجاء" ہے، جبکہ ہم نے جو متن (فجأ) لکھا ہے وہ ذہبی کی "التلخیص" سے لیا گیا ہے اور وہی زیادہ موزوں ہے۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلي: الحرمين، والتصويب من "التلخيص". والحَرَّة: أرض ذات حجارة سُود كأنها أُحرقت بالنار، والمراد هنا بما بين الحرتين: المدينة، وهي مشهورة بحرارها، وأشهرها حرَّة واقم وحرَّة وَبَرة، وهما المقصودتان هنا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ تحریف ہو کر "الحرمین" بن گیا، اس کی درستی "التلخیص" سے کی گئی ہے (درست: الحرتین)۔ "الحرّہ" اس زمین کو کہتے ہیں جہاں کالے پتھر ہوں گویا وہ آگ سے جلائے گئے ہوں۔ یہاں "دو حرّوں کے درمیان" سے مراد "مدینہ منورہ" ہے جو اپنے حرّوں (لاوے کے میدانوں) کی وجہ سے مشہور ہے، ان میں سب سے مشہور "حرّہ واقم" اور "حرّہ وبرہ" ہیں، اور یہاں یہی دونوں مراد ہیں۔
(3) إسناده صحيح. وقد سلف تخريجه عند الحديث المتقدِّم برقم (8648).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اس کی تخریج گزشتہ حدیث نمبر (8648) کے تحت گزر چکی ہے۔
قوله: "فأقعى الذئب" أي: جلس على أليتيه وذنبه ونصب يديه.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "فأقعى الذئب" کا مطلب ہے: بھیڑیا اپنی سرین (پچھلے حصے) اور دم پر بیٹھ گیا اور اس نے اپنے اگلے دونوں پاؤں کھڑے کر لیے۔