🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُكَلِّمَ السِّبَاعُ الْإِنْسَانَ
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے کلام نہ کرنے لگیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8648
أخبرنا أحمد بن جعفر (1) القطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع، حدثنا القاسم بن الفضل الحُدَّاني، عن أبي نَضْرة العَبْدي، عن أبي سعيد الخُدْري قال: قال رسول الله ﷺ:"والذي نفسي بيده، لا تقومُ الساعةُ حتى تكلِّمَ السِّباعُ الإنسان، وحتى تكلِّمَ الرجلَ عَذَبةٌ سَوطِه وشِرَاكُ نعله، وتخبرَه بما أحدَثَ أهلُه من بعده" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8442 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک درندے انسانوں سے کلام نہ کرنے لگیں، اور جب تک انسان سے اس کے کوڑے کا سرا «عَذَبةُ سَوطِه» اور اس کے جوتے کا تسمہ «شِرَاكُ نعله» باتیں نہ کرنے لگیں، اور وہ (تسمہ) اسے وہ تمام خبریں نہ دے دے جو اس کے پیچھے اس کے گھر والوں نے انجام دی ہوں گی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8648]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8648] [ترقيم الشركة 8544] [ترقيم العلميه 8442]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8649
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُوزمة (1) ، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عُمارة بن عُمَير، عن أبي عمّار، عن حُذيفة قال: إذا أحبَّ أحدُكم أن يعلم أصابَته الفتنةُ أم لا، فلينظر، فإن كان رأى حلالًا [كان] (2) يراه حرامًا، فقد أصابته الفتنةُ، وإن كان يرى حرامًا كان يراه حلالًا، فقد أصابته (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8443 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی یہ جاننا چاہے کہ وہ فتنے کی زد میں آیا ہے یا نہیں، تو اسے دیکھنا چاہیے کہ اگر وہ کسی ایسی چیز کو حلال سمجھنے لگا ہے جسے (پہلے) حرام سمجھتا تھا، تو وہ فتنے کا شکار ہو چکا ہے، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو حرام سمجھنے لگا ہے جسے (پہلے) حلال سمجھتا تھا، تو (یقیناً) اسے فتنے نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الاسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8649]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، محمد بن إبراهيم بن أورمة» [ترقيم الرساله 8649] [ترقيم الشركة 8545] [ترقيم العلميه 8443]

الحكم على الحديث: خبر صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8650
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا وكيع، حدثنا القاسم بن الفَضل، حدثنا أبو نَضرة، عن أبي سعيد الخُدْري قال: بَيْنا راعٍ يرعى بالحَرَّة إِذ عَدَا الذئبُ على شاةٍ من الشِّياه، فحالَ (1) الراعي بين الذئب وبين الشاة، فأَقعَى الذئبُ على ذنبه فقال: يا عبد الله، تحول بيني وبينَ رزق ساقه الله إليَّ! فقال الرجل: يا عَجَباه، ذئبٌ يكلِّمُني بكلام الإنسان! فقال الذئب: ألا أخبرُك بأعجب مني؟ رسولُ الله بين الحَرَّتَين (2) يخبر الناس بأنباء ما قد سَبَقَ، فزَوَى الراعي شياهه إلى زاويةٍ من زوايا المدينة، ثم أتى النبي ﷺ فأخبره، فخرج رسول الله ﷺ إلى الناس، فقال رسول الله ﷺ:"صَدَقَ والذي نفسي بيده" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8444 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک چرواہا حرہ (مدینہ کے پتھریلے علاقے) میں بکریاں چرا رہا تھا کہ اچانک ایک بھیڑیے نے ایک بکری پر حملہ کر دیا، چرواہا بھیڑیے اور بکری کے درمیان حائل ہو گیا، تو بھیڑیا اپنی دم پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے بندے! تو میرے اور اس رزق کے درمیان حائل ہو رہا ہے جو اللہ نے میری طرف بھیجا ہے؟ اس آدمی نے (حیرت سے) کہا: بڑے تعجب کی بات ہے کہ بھیڑیا مجھ سے انسانوں کی طرح کلام کر رہا ہے! تو بھیڑیے نے کہا: کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ تعجب خیز بات نہ بتاؤں؟ اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) دونوں حروں (مدینہ کے پہاڑی سلسلوں) کے درمیان موجود ہیں جو لوگوں کو گزشتہ دور کی خبریں دے رہے ہیں۔ چنانچہ چرواہا اپنی بکریوں کو ہانک کر مدینہ کے ایک گوشے میں لے گیا اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا واقعہ سنایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اس نے سچ کہا ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے (ایسا ہی ہوگا)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8650]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8650] [ترقيم الشركة 8546] [ترقيم العلميه 8444]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8651
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن أيوب، عن ابن سيرين، عن عُقبة بن أَوْس، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: تقتتل فئتانِ على دَعْوى جاهلية عند خروج أميرٍ أو قبيلةٍ، فتظهر الطائفةُ التي تَظهَرُ وهي ذليلة، فيَرغَبُ فيها مَن يليها من عدوِّها، فتتقحَّمُ في النار (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8445 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (عنقریب) کسی امیر کے ظہور یا کسی قبیلے کے ابھرنے پر دو گروہ جاہلیت کے دعووں پر آپس میں قتال کریں گے، پھر جو گروہ غالب آئے گا وہ (حقیقت میں) ذلیل ہوگا، اور اس کا قریبی دشمن اس (کے منصب) میں رغبت کرے گا، پھر وہ آگ میں جا گریں گے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8651]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8651] [ترقيم الشركة 8547] [ترقيم العلميه 8445]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8652
أخبرنا أبو بكر بن أبي نَصْر المذكِّر بمَرو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعيم وأبو حُذيفة قالا: حدثنا سفيان، عن منصور، عن سالم بن أبي الجعد، عن نُبيط بن شَريط، عن حُذيفة قال: تُعرَضُ فتنةٌ على القلوب، فأيُّ قلب أنكرَها، نُكِتَت في قلبه نُكتةٌ بيضاءُ، وأيُّ قلب لم يُنكرها، نُكِتَت في قلبه نكتةٌ سوداء، ثم تُعرَض فتنةٌ أخرى على القلوب، فإن أنكرها القلبُ الذي أنكرها في المرة الأولى، نُكِتَت نكتةٌ بيضاءُ، وإن لم يُنكرها، نُكِتَت نكتةٌ سوداءُ، ثم تُعرَض فتنةٌ أخرى على القلوب، فإن أنكرَها الذي أنكرها في المرتين الأُوليين، اشتدَّ وابيضَّ وصَفَا، ولم تضرَّه فتنة أبدًا، وإن لم يُنكرها في المرتين الأوليين (1) ، اسودَّ واربَدَّ ونَكَسَ، فلا يعرفُ حقًّا، ولا يُنكر مُنكَرًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8446 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: دلوں پر فتنہ پیش کیا جاتا ہے، پس جس دل نے اس کا انکار کیا اس میں ایک سفید نکتہ لگا دیا جاتا ہے، اور جس دل نے اس کا انکار نہ کیا اس میں ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر دلوں پر دوسرا فتنہ پیش کیا جاتا ہے، پس جس دل نے پہلی بار انکار کیا تھا اگر وہ (دوبارہ) انکار کرے تو اس میں مزید سفید نکتہ لگا دیا جاتا ہے، اور جس نے انکار نہ کیا اس میں سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر دلوں پر تیسرا فتنہ پیش کیا جاتا ہے، پس جس نے پہلے دو بار انکار کیا تھا اگر وہ (اب بھی) انکار کرے تو وہ دل مضبوط، سفید اور شفاف ہو جاتا ہے اور اسے کبھی کوئی فتنہ نقصان نہیں پہنچاتا، لیکن اگر اس نے پہلے دو بار انکار نہ کیا ہو تو وہ دل سیاہ، مٹیالے رنگ کا اور اوندھا ہو جاتا ہے، پھر نہ وہ کسی نیکی کو پہچانتا ہے اور نہ کسی برائی کا انکار کرتا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8652]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح مرفوعًا، وهذا إسناد رجاله في الجملة ثقات إلّا أنَّ قوله فيه: "عن نبيط بن شريط" ذهول من بعض رواته، وقد يكون من المصنف نفسه، فإنَّ نبيط بن شريط صحابي صغير، ولا يعرف لسالم رواية عنه، إنما يروي عن آخرَ اسمه نبيط غير منسوب، ومهما يكن من أمر فإنَّ ...» [ترقيم الرساله 8652] [ترقيم الشركة 8548] [ترقيم العلميه 8446]

الحكم على الحديث: حديث صحيح مرفوعًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں