🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
59. حكاية امرأة شلت يدها فى المنام
ایک ایسی عورت کا قصہ جس کا ہاتھ خواب میں شل (بیکار) ہو گیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8664
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق وحدَّثني أبو بكر بن بالَوَيهِ قالا: أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضر الأزدي، حدثنا جدِّي معاويةُ بن عمرو، حدثنا زائدةُ، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن حُذيفة قال: قام فينا رسول الله ﷺ مقامًا خَبَّرَنا بما نكون فيه إلى قيام الساعة، عَقَلَه فينا من عَقَلَه، ونَسِيَه من نسيه (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه (4) . وقد رواه أبو عوانة وأبانُ بن يزيد العطّار عن عاصم، وعاصمُ بن أبي النَّجُود إمامٌ متَّفَق على إمامته في القرآن وسائر العلوم، إذا انفرد بالحديث لَزِمَنا قبولُه. أما حديث أبي عوانة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8456 - صحيح
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور قیامت تک ہونے والے تمام حالات بیان کر دیئے، جو یاد رکھ سکا اس نے یاد رکھ لیا اور جو یاد نہ رکھ سکا وہ بھول گیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو ابوعوانہ، اور ابان بن یزید عطار نے عاصم سے روایت کیا ہے، اور عاصم بن ابی نجود امام ہیں اور قرآن کے معاملہ میں اور دیگر تمام علوم میں ان کی امامت مسلم ہے۔ جب یہ کسی حدیث میں منفرد ہوں، تو اس کو قبول کرنا ہمارے ذمہ لازم ہے۔ سیدنا ابوعوانہ کی روایت کردہ حدیث درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8664]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8664 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم: وهو ابن أبي النجود زائدة: هو ابن قُدامة، وزر: هو ابن حُبيش.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور یہ سند "حسن" ہے جس کی وجہ "عاصم" (ابن ابی النجود) ہیں۔ زائدہ سے مراد "ابن قدامہ" اور زر سے مراد "ابن حبیش" ہیں۔
ومن طريق زر بن حبيش لم نقف عليه عند غير المصنف، وانظر ما بعده.
🔍 فنی نکتہ / علّت: زر بن حبیش کے طریق سے یہ روایت ہمیں مصنف کے علاوہ کہیں نہیں ملی۔ اگلی روایت دیکھیں۔
وسيأتي برقم (8709) من طريق أبي وائل شقيق عن حذيفة. وأنظر ما سلف برقم (8661).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت آگے نمبر (8709) پر ابووائل شقیق عن حذیفہ کے طریق سے آئے گی۔ اور جو پیچھے نمبر (8661) پر گزری ہے اسے بھی دیکھیں۔
(4) قد أخرجاه من طريق شقيق عن حذيفة كما سيأتي في مكانه.
🧾 تفصیلِ روایت: شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے شقیق عن حذیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے جیسا کہ اپنے مقام پر آئے گا۔