🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
67. نزول عيسى عليه السلام من السماء
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8682
أخبرني الحسن بن حليم (3) المروزي، حدثنا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا حمَّاد بن زيد، عن أيوب السَّختِياني وعلي بن زيد بن جُدْعان، عن أبي نَضْرة قال: أتينا عثمان بن أبي العاص يوم الجمعة لنعارضَ مُصحَفَنا بمُصحَفِه، فلما حَضَرَت الجمعةُ أَمرنا فاغتسلنا وتَطيَّبْنا ورُحْنا إلى المسجد، فجلسنا إلى رجل يحدِّث، ثم جاء عثمانُ بن أبي العاص فتحوَّلْنا إليه، فقال عثمان: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يكونُ للمسلمين ثلاثةُ أمصارٍ: مصرٌ بمُلتقى البحرين، ومصرٌ بالجزيرة (1) ، ومصرٌ بالشام، فيَفزَعُ الناسُ ثلاثَ فَزَعاتٍ، فيخرجُ الدَّجّالُ في أعراض (2) جيشٍ، فيَهزِمُ مَن قِبَل المشرق، فأوَّلُ (3) مصرٍ يَرِدُه المصرُ الذي بمُلتقى البحرين، فيصير أهلُها ثلاثَ فِرَقٍ: فِرقةٌ تقيمُ وتقول: نُشَامُّه (4) وننظر ما هو، وفرقةٌ تَلحَق بالأعراب، وفرقةٌ تلحق بالمِصر الذي يليهم (5) ، ثم يأتي الشام، فينحازُ المسلمون إلى عَقَبَةِ أَفِيقَ، فيبعثون بسَرْح لهم فيصابُ سَرْحُهم، فيشتدُّ ذلك عليهم، وتصيبُهم مَجَاعَةٌ شديدةٌ وجَهْد، حتى إنَّ أحدهم ليُحرقُ (6) وَتَرَ قوسه فيأكلُه، فبينما هم كذلك إذ ناداهم منادٍ من السَّحَر: يا أيها الناس، أتاكم الغَوْثُ، فيقول بعضُهم لبعض: إنَّ هذا لصوتُ رجل شَبْعانَ، فينزل عيسى ابن مريم ﵇ عند صلاة الفجر، فيقول له إمام (7) الناس: تقدَّم يا رُوحَ الله فصلِّ بنا [فيقول: إنكم معشر هذه الأُمَّة أمراءُ بعضُكم على بعضٍ، تَقدَّم أنت فصلِّ بنا] (8) فيتقدَّمُ فيصلِّي بهم، فإذا انصرف أَخَذَ عيسى صلوات الله عليه حَرْبتَه نحوَ الدَّجّال، فإذا رآه ذابَ كما يَذُوبُ الرَّصَاصُ، فتقعُ حَرْبَتُه بين ثَنْدُوَتِه فيقتلُه، ثم ينهزمُ أصحابُه، فليس شيءٌ يومئذٍ يُجِنُّ منهم أَحدًا، حتى إنَّ الحَجَرَ (1) يقول: يا مؤمنُ، هذا كافرٌ فاقتُله، والحَجَرَ يقول: هذا كافرٌ فاقتُله (2) " (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم بذكر أيوب السَّختياني، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8473 - أبو هبيرة واه
سیدنا ابونضرہ فرماتے ہیں: ہم جمعہ کے دن سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے مصحف کا ان کے مصحف کے ساتھ موازنہ کرنے کے لئے ان کے پاس جایا کرتے تھے، جب جمعہ کا دن آیا، آپ نے ہمیں حکم دیا، ہم غسل کر کے، خوشبو لگا کر مسجد کی جانب روانہ ہو گئے، وہاں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہا تھا، ہم اس کے پاس بیٹھ کر احادیث سننے لگ گئے، پھر سیدنا عثمان بن ابی العاص تشریف لے آئے، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے، سیدنا عثمان نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہیں، ایک شہر دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے، ایک شہر جزیرہ میں ہے اور ایک شہر شام میں ہے۔ لوگوں پر تین مرتبہ گھبراہٹ طاری ہو گی، پھر ایک لشکر میں دجال ظاہر ہو گا، وہ مشرق والوں کو شکست دے دے گا، سب سے پہلا شہر جس میں وہ آئے گا، وہ، وہ شہر ہے جو دو دریاوں کے ملنے کی جگہ پر ہے، وہاں کے باشندے تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک جماعت وہاں رہے گی، وہ کہیں گے: ہم اس کو برا سمجھتے ہیں، اور ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ دجال چیز کیا ہے؟ ایک گروہ دیہاتوں میں چلا جائے گا اور ایک گروہ اپنے قریبی شہر میں چلا جائے گا، پھر وہ اس قریبی شہر میں آئے گا، اس شہر والے بھی تین جماعتوں میں بٹ جائیں گے، ایک جماعت کہے گی: ہم اس کو برا جانتے ہیں، اور ہم دیکھیں گے کہ یہ دجال چیز کیا ہے؟ ایک جماعت دیہاتوں میں چلی جائے گی اور ایک جماعت اپنے قریبی شہر میں چلی جائے گی، پھر مسلمان افیق کے پہاڑی سلسلوں کی طرف نکل جائیں گے پھر یہ اپنے جانور بھیجیں گے لیکن ان کے جانور بھی مار دیئے جائیں گے۔ یہ بات ان پر بہت گراں گزرے گی، اور یہ لوگ بہت شدید بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے، حتی کہ کئی لوگ اپنی کمان کے چلے کو جلا کر کھائیں گے، وہ اسی کیفیت میں ہوں گے کہ سحری کے وقت کوئی منادی آواز دے گا: اے لوگو! تمہارے پاس غوث آ گیا ہے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: یہ كسی شکم سیر کی آواز لگ رہی ہے، پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نماز فجر کے وقت نازل ہوں گے، اوگوں کا امام ان سے کہے گا: اے روح اللہ! آگے تشریف لائیے اور ہمیں نماز پڑھائیے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: اے اس امت کے گروہ، تم تو خود ایک دوسرے کے امیر ہو، لیکن امام صاحب کے اصرار پر آپ آگے تشریف لائیں گے، اور لوگوں کو نماز پڑھائیں گے، جب آپ نماز سے فارغ ہوں گے تو دجال کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیں گے، جب عیسیٰ علیہ السلام دجال کو دیکھیں گے تو وہ پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے صیصہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اس کے سینے پر ایک کاری ضرب لگائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ پھر اس کے ساتھیوں کو شکست دیں گے، اس دن کوئی چیز بھی ان کو پناہ نہیں دے گی، حتی کہ اگر کافر کسی پتھر کے پیچھے چھپا ہو گا تو پتھر بول کر مسلمان کو بتائے گا کہ: اے مومن! یہاں کافر چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کر۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ایوب سختیانی کے نام کے ذکر کے ساتھ صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8682]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8682 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حكيم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "حکیم" بن گیا ہے۔
(1) في بعض المصادر: ومصر بالحيرة.
🧾 تفصیلِ روایت: بعض مصادر میں الفاظ یوں ہیں: "ومصر بالحيرة" (اور ایک شہر حیرہ میں ہوگا)۔
(2) في النسخ الخطية: عراض، وأثبتناه بالألف من مصادر التخريج، والأعراض: جمع عَرْض، وهو الجيش، وفي بعض المصادر: في أعراض الناس، يعني: في عامتهم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "عراض" (بغیر الف) ہے، ہم نے تخریج کے مصادر کی روشنی میں اسے الف کے ساتھ (أعراض) ثابت کیا ہے۔ "الأعراض"، "عَرْض" کی جمع ہے جس کا معنی لشکر ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: بعض مصادر میں "في أعراض الناس" کے الفاظ ہیں، جس کا مطلب ہے: "لوگوں کے عام طبقے میں"۔
(3) في النسخ الخطية: فإذا، والمثبت من "تلخيص الذهبي".
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "فإذا" ہے، جبکہ یہاں جو متن (مثبت) ہے وہ ذہبی کی "تلخیص" سے لیا گیا ہے۔
(4) أي: نختبره وننظر ما عنده.
📝 نوٹ / توضیح: (عربی لفظ کا مفہوم) یعنی: ہم اسے آزمائیں گے اور دیکھیں گے کہ اس کے پاس کیا ہے۔
(5) سقط من رواية المصنف ذكر المصر الثاني، وذكر عند غيره، ويصير أهله ثلاث فرق كأهل المصر الأول.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف (حاکم) کی روایت سے "دوسرے شہر" کا ذکر ساقط ہو گیا (گر گیا) ہے، جبکہ دیگر محدثین کے ہاں اس کا ذکر موجود ہے۔ (روایت کے مطابق) اس دوسرے شہر کے لوگ بھی پہلے شہر کے لوگوں کی طرح تین فرقوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔
(6) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: ليجر، والتصويب من "تلخيص الذهبي".
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "لیجر" بن گیا ہے، درستگی ذہبی کی "تلخیص" سے کی گئی ہے۔
(7) في (ز) و (ك) و (ب): أم، وفي "التلخيص": أمير، والمثبت من (م).
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز)، (ک) اور (ب) میں لفظ "أم" ہے، جبکہ "تلخیص" میں "أمیر" ہے۔ ہم نے نسخہ (م) والا متن برقرار رکھا ہے۔
(8) ما بين المعقوفين ليس في نسخنا الخطية، وأثبتناه من "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ (معقوفین) کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہے، اسے ہم نے ذہبی کی "تلخیص" سے شامل کیا ہے۔
(1) في مصادر التخريج في هذا الموضع: الشجرة، مكان الحجر.
🧾 تفصیلِ روایت: تخریج کے مصادر میں اس مقام پر "الحجر" (پتھر) کی جگہ "الشجرة" (درخت) کا لفظ ہے۔
(2) قوله: "والحجر يقول … " من (ز) و (ك) وتكرر في (ك) مرة أخرى، وقد سقط من (م) و (ب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ قول: "والحجر يقول..." (اور پتھر کہے گا...) نسخہ (ز) اور (ک) میں موجود ہے اور (ک) میں دو بار مکرر آیا ہے، جبکہ نسخہ (م) اور (ب) سے یہ ساقط ہے۔
(3) إسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، وأما ذكر أيوب السختياني في هذا الإسناد فهو من تخليط سعيد بن هبيرة، فإنه ليس بالقوي كما قال أبو حاتم الرازي، واتهمه ابن حبان بالوضع، ووهّاه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "علی بن زید بن جدعان" کے ضعیف ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: رہا اس سند میں ایوب سختیانی کا ذکر، تو یہ سعید بن ہبیرہ کی تخلیط (گڑبڑ) ہے، کیونکہ سعید قوی راوی نہیں ہیں جیسا کہ ابو حاتم رازی نے کہا، اور ابن حبان نے ان پر وضع (حدیث گھڑنے) کا الزام لگایا ہے، اور حافظ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اسے کمزور قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17900) عن يزيد بن هارون، و (17901) عن عفان بن مسلم، كلاهما عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد وحده عن أبي نضرة - وهو المنذر بن مالك العبدي - به. وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (29/ 17900) یزید بن ہارون سے، اور (17901) عفان بن مسلم سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں حماد بن سلمہ سے، وہ اکیلے علی بن زید سے، اور وہ ابو نضرہ (منذر بن مالک عبدی) سے روایت کرتے ہیں۔ اگلی روایت بھی ملاحظہ کریں۔