المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
67. نُزُولُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ مِنَ السَّمَاءِ
سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نزول کا بیان
حدیث نمبر: 8681
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورمة، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة - قال سفيان: لا أعلمه إلا قد رَفَعَه - قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تقومُ الساعةُ حتى تعود أرضُ العرب مُروجًا وأنهارًا" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8472 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8472 - على شرط مسلم
سیدنا سفیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت سے پہلے عرب کی زمینوں میں سبزہ آئے گا اور دریا جاری ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8681]
حدیث نمبر: 8682
أخبرني الحسن بن حليم (3) المروزي، حدثنا أحمد بن إبراهيم السَّدَوَّري، حدثنا سعيد بن هُبيرة، حدثنا حمَّاد بن زيد، عن أيوب السَّختِياني وعلي بن زيد بن جُدْعان، عن أبي نَضْرة قال: أتينا عثمان بن أبي العاص يوم الجمعة لنعارضَ مُصحَفَنا بمُصحَفِه، فلما حَضَرَت الجمعةُ أَمرنا فاغتسلنا وتَطيَّبْنا ورُحْنا إلى المسجد، فجلسنا إلى رجل يحدِّث، ثم جاء عثمانُ بن أبي العاص فتحوَّلْنا إليه، فقال عثمان: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يكونُ للمسلمين ثلاثةُ أمصارٍ: مصرٌ بمُلتقى البحرين، ومصرٌ بالجزيرة (1) ، ومصرٌ بالشام، فيَفزَعُ الناسُ ثلاثَ فَزَعاتٍ، فيخرجُ الدَّجّالُ في أعراض (2) جيشٍ، فيَهزِمُ مَن قِبَل المشرق، فأوَّلُ (3) مصرٍ يَرِدُه المصرُ الذي بمُلتقى البحرين، فيصير أهلُها ثلاثَ فِرَقٍ: فِرقةٌ تقيمُ وتقول: نُشَامُّه (4) وننظر ما هو، وفرقةٌ تَلحَق بالأعراب، وفرقةٌ تلحق بالمِصر الذي يليهم (5) ، ثم يأتي الشام، فينحازُ المسلمون إلى عَقَبَةِ أَفِيقَ، فيبعثون بسَرْح لهم فيصابُ سَرْحُهم، فيشتدُّ ذلك عليهم، وتصيبُهم مَجَاعَةٌ شديدةٌ وجَهْد، حتى إنَّ أحدهم ليُحرقُ (6) وَتَرَ قوسه فيأكلُه، فبينما هم كذلك إذ ناداهم منادٍ من السَّحَر: يا أيها الناس، أتاكم الغَوْثُ، فيقول بعضُهم لبعض: إنَّ هذا لصوتُ رجل شَبْعانَ، فينزل عيسى ابن مريم ﵇ عند صلاة الفجر، فيقول له إمام (7) الناس: تقدَّم يا رُوحَ الله فصلِّ بنا [فيقول: إنكم معشر هذه الأُمَّة أمراءُ بعضُكم على بعضٍ، تَقدَّم أنت فصلِّ بنا] (8) فيتقدَّمُ فيصلِّي بهم، فإذا انصرف أَخَذَ عيسى صلوات الله عليه حَرْبتَه نحوَ الدَّجّال، فإذا رآه ذابَ كما يَذُوبُ الرَّصَاصُ، فتقعُ حَرْبَتُه بين ثَنْدُوَتِه فيقتلُه، ثم ينهزمُ أصحابُه، فليس شيءٌ يومئذٍ يُجِنُّ منهم أَحدًا، حتى إنَّ الحَجَرَ (1) يقول: يا مؤمنُ، هذا كافرٌ فاقتُله، والحَجَرَ يقول: هذا كافرٌ فاقتُله (2) " (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم بذكر أيوب السَّختياني، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8473 - أبو هبيرة واه
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم بذكر أيوب السَّختياني، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8473 - أبو هبيرة واه
سیدنا ابونضرہ فرماتے ہیں: ہم جمعہ کے دن سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے مصحف کا ان کے مصحف کے ساتھ موازنہ کرنے کے لئے ان کے پاس جایا کرتے تھے، جب جمعہ کا دن آیا، آپ نے ہمیں حکم دیا، ہم غسل کر کے، خوشبو لگا کر مسجد کی جانب روانہ ہو گئے، وہاں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کر رہا تھا، ہم اس کے پاس بیٹھ کر احادیث سننے لگ گئے، پھر سیدنا عثمان بن ابی العاص تشریف لے آئے، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے، سیدنا عثمان نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہیں، ایک شہر دو سمندروں کے ملنے کی جگہ پر ہے، ایک شہر جزیرہ میں ہے اور ایک شہر شام میں ہے۔ لوگوں پر تین مرتبہ گھبراہٹ طاری ہو گی، پھر ایک لشکر میں دجال ظاہر ہو گا، وہ مشرق والوں کو شکست دے دے گا، سب سے پہلا شہر جس میں وہ آئے گا، وہ، وہ شہر ہے جو دو دریاوں کے ملنے کی جگہ پر ہے، وہاں کے باشندے تین گروہوں میں بٹ جائیں گے، ایک جماعت وہاں رہے گی، وہ کہیں گے: ہم اس کو برا سمجھتے ہیں، اور ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ دجال چیز کیا ہے؟ ایک گروہ دیہاتوں میں چلا جائے گا اور ایک گروہ اپنے قریبی شہر میں چلا جائے گا، پھر وہ اس قریبی شہر میں آئے گا، اس شہر والے بھی تین جماعتوں میں بٹ جائیں گے، ایک جماعت کہے گی: ہم اس کو برا جانتے ہیں، اور ہم دیکھیں گے کہ یہ دجال چیز کیا ہے؟ ایک جماعت دیہاتوں میں چلی جائے گی اور ایک جماعت اپنے قریبی شہر میں چلی جائے گی، پھر مسلمان افیق کے پہاڑی سلسلوں کی طرف نکل جائیں گے پھر یہ اپنے جانور بھیجیں گے لیکن ان کے جانور بھی مار دیئے جائیں گے۔ یہ بات ان پر بہت گراں گزرے گی، اور یہ لوگ بہت شدید بھوک میں مبتلا ہو جائیں گے، حتی کہ کئی لوگ اپنی کمان کے چلے کو جلا کر کھائیں گے، وہ اسی کیفیت میں ہوں گے کہ سحری کے وقت کوئی منادی آواز دے گا: اے لوگو! تمہارے پاس غوث آ گیا ہے، لوگ ایک دوسرے سے کہیں گے: یہ كسی شکم سیر کی آواز لگ رہی ہے، پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نماز فجر کے وقت نازل ہوں گے، اوگوں کا امام ان سے کہے گا: اے روح اللہ! آگے تشریف لائیے اور ہمیں نماز پڑھائیے، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: اے اس امت کے گروہ، تم تو خود ایک دوسرے کے امیر ہو، لیکن امام صاحب کے اصرار پر آپ آگے تشریف لائیں گے، اور لوگوں کو نماز پڑھائیں گے، جب آپ نماز سے فارغ ہوں گے تو دجال کے خلاف جہاد کا اعلان کر دیں گے، جب عیسیٰ علیہ السلام دجال کو دیکھیں گے تو وہ پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے صیصہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اس کے سینے پر ایک کاری ضرب لگائیں گے اور اسے قتل کر دیں گے۔ پھر اس کے ساتھیوں کو شکست دیں گے، اس دن کوئی چیز بھی ان کو پناہ نہیں دے گی، حتی کہ اگر کافر کسی پتھر کے پیچھے چھپا ہو گا تو پتھر بول کر مسلمان کو بتائے گا کہ: اے مومن! یہاں کافر چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کر۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ایوب سختیانی کے نام کے ذکر کے ساتھ صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8682]