المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
83. لا تقوم الساعة حتى لا يقال فى الأرض الله الله
قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین پر 'اللہ اللہ' کہنے والا کوئی باقی نہ رہے
حدیث نمبر: 8726
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المغيرة الهَمَذاني، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا سليمان بن أبي سليمان، حدثنا يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال:"لا تقومُ الساعةُ حتى لا يَبقى على وجه الأرض أحدٌ الله فيه حاجَةٌ، وحتى تُؤخَذَ المرأةُ نهارًا جِهارًا تُنكَحُ وَسَطَ الطريق، لا يُنكِرُ ذلك أحدٌ ولا يغيِّرُه، فيكونُ أمثلَهم يومئذٍ الذي يقول: لو نَحَّيتَها عن الطريق قليلًا، فذاكَ فيهم مثلُ أبي بكرٍ وعمرَ فيكم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8516 - الخبر شبه خرافة
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8516 - الخبر شبه خرافة
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اللہ کی رضا چاہنے والا ایک بھی بندہ موجود ہے، عورت دن دیہاڑے بیچ چوراہے میں زنا کروائے گی، اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہو گا بلکہ اس کو کوئی برا جاننے والا بھی نہیں ہو گا۔ بلکہ جو بہت نیک ہو گا وہ ان کو صرف اتنا کہے گا: تمہیں سڑک سے ہٹ کر، ایک طرف ہو کر یہ کام کرنا چاہئے تھا، اور اس زمانے میں اتنی بات کہنے کی جرأت کرنے والا شخص ایسا ہی ہو گا جیسے آج تمہارے درمیان ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8726]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8726 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده واهٍ من أجل سليمان بن أبي سليمان - وهو سليمان بن داود اليمامي - وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه" فقال: سليمان هالك والخبر شبه خرافة. قلنا: وهو من طريقه وبهذا السياق من أفراد الحاكم.
⚖️ درجۂ حدیث: سلیمان بن ابی سلیمان (جو کہ سلیمان بن داود الیمامی ہیں) کی وجہ سے یہ سند "واہی" (سخت کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ذہبی نے "تلخیص" میں اسی وجہ سے اس پر جرح کی اور فرمایا: "سلیمان ہلاک شدہ راوی ہے اور یہ خبر خرافات جیسی ہے۔" میں (محقق) کہتا ہوں کہ حاکم کے ہاں یہ روایت اسی طریق اور اسی سیاق کے ساتھ ان کے "افراد" میں سے ہے۔
وقد أخرج نحوه أبو يعلى (6183) من طريق خلف بن خليفة، عن يزيد بن كيسان الكوفي، عن أبي حازم الأشجعي، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "والذي نفسي بيده، لا تفنى هذه الأُمة أمة حتى يقوم الرجل إلى المرأة فيفترشها في الطريق، فيكون خيارهم يومئذ من يقول: لو واريتَها وراء هذا الحائط". وهذا إسناد حسن إن شاء الله. ويشهد لمعناه حديث عبد الله بن عمرو موقوفًا فيما سلف عند المصنف برقم (8616) بلفظ: حتى يتسافدوا في الطرق كما تتسافد البهائم، فتقوم عليهم الساعة. وإسناده حسن، والتسافد: نَزْو الذكر على أنثاه، ويكنى به عن الجماع، وجاء عنه نحوه بلفظ التناكح برقم (8613). وروي عن عبد الله بن عمرو مرفوعًا عند ابن حبان (6767)، وإسناده صحيح.
🧩 متابعات و شواہد: البتہ ابو یعلیٰ (6183) نے خلف بن خلیفہ عن یزید بن کیسان الکوفی عن ابی حازم الاشجعی عن ابی ہریرہ کے طریق سے نبی کریم ﷺ سے اس کی مثل روایت کیا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ امت فنا نہیں ہوگی یہاں تک کہ مرد راستے میں عورت کے پاس جا کر اسے بچھا لے گا (زنا کرے گا)، اس وقت ان میں سب سے بہترین شخص وہ ہوگا جو کہے: کاش تم اسے اس دیوار کے پیچھے چھپا لیتے۔" یہ سند ان شاء اللہ "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: عبد اللہ بن عمرو کی موقوف حدیث (نمبر 8616) بھی اس مفہوم کی شاہد ہے جس میں الفاظ ہیں: "یہاں تک کہ وہ راستوں میں ایسے جفتی (ملاپ) کریں گے جیسے چوپائے کرتے ہیں، پس ان پر قیامت قائم ہوگی۔" اس کی سند حسن ہے۔ "تسافد" کا مطلب ہے نر کا مادہ پر چڑھنا، اور یہ جماع سے کنایہ ہے۔ انہی سے "تناکح" کے لفظ کے ساتھ یہ روایت نمبر (8613) پر بھی آئی ہے۔ اور ابن حبان (6767) میں یہ عبد اللہ بن عمرو سے "مرفوعاً" مروی ہے جس کی سند صحیح ہے۔
وحديث النواس بن سِمعان مرفوعًا فيما سلف أيضًا برقم (8718)، وفي آخره: "ويبقى سائر الناس يتهارجون كما تَهارجُ الحُمُر، فعليهم تقوم الساعة"، وهو في "صحيح مسلم" (2937). والتهارج كالتسافد.
🧩 متابعات و شواہد: نیز نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ کی مرفوع حدیث بھی پیچھے نمبر (8718) پر گزر چکی ہے، جس کے آخر میں ہے: "اور باقی لوگ گدھوں کی طرح کھلے عام ملاپ (تہارُج) کریں گے، پس انہی پر قیامت قائم ہوگی۔" یہ حدیث صحیح مسلم (2937) میں ہے۔ "تہارج" کا معنی بھی "تسافد" (جانوروں کی طرح ملاپ) ہی ہے۔
وانظر حديث أبي ذر السالف برقم (5554)، وحديث ابن مسعود الآتي برقم (8803)، وهما واهيان.
📖 حوالہ / مصدر: ابو ذر رضی اللہ عنہ کی گزشتہ حدیث نمبر (5554) اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی آنے والی حدیث نمبر (8803) بھی ملاحظہ کریں، مگر یہ دونوں روایتیں "واہی" (سخت ضعیف) ہیں۔