المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. كان رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - يستغفر للصف المقدم ثلاثا وللثاني مرة
رسولُ اللہ ﷺ پہلی صف کے لیے تین مرتبہ اور دوسری صف کے لیے ایک مرتبہ مغفرت کی دعا فرمایا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 873
حدثنا علي بن عيسى الحِيري، حدثنا الحسين بن محمد القَبَّاني، حدثنا محمد بن عمر المُقدَّمي، حدثنا يوسف بن يعقوب السَّدُوسي، حدثنا سليمان التَّيْمي، عن أبي مِجلَز، عن قيس بن عُبَاد قال: بينما أنا بالمدينة في المسجد في الصفِّ المقدَّم قائمٌ أصلِّي، فجَبَذَني رجل من خلفي جَبْذةً فنحَّاني وقام مَقامي، قال: فوالله ما عَقَلتُ صلاتي، فلما انصرف فإذا هو أُبيُّ بن كعب، فقال: يا فتى، لا يَسُؤْكَ اللهُ، إِنَّ هذا عهدُ النبي ﷺ إلينا: أن نَلِيَه. ثم استَقبَل القِبلةَ فقال: هَلَكَ أَهلُ العَقْد - ثلاثًا - وربِّ الكعبة، ثم قال: واللهِ ما عليهم آسَى، ولكني آسَى على ما أَضَلُّوا. قال: قلت: مَن يَعني بهذا؟ قال: الأمراء (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بيوسف بن يعقوب السَّدُوسي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 778 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بيوسف بن يعقوب السَّدُوسي، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 778 - على شرط البخاري
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ کی مسجد میں پہلی صف میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک شخص نے مجھے پیچھے سے کھینچ کر ہٹا دیا اور خود میری جگہ کھڑے ہو گئے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو معلوم ہوا کہ وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے فرمایا: اے نوجوان! اللہ تمہیں غمگین نہ کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمیں یہی حکم تھا کہ ہم (اہل علم) آپ کے قریب رہیں۔ پھر انہوں نے قبلہ رخ ہو کر تین بار فرمایا: کعبہ کے رب کی قسم! اہل عقل و تدبیر (حکمران) ہلاک ہو گئے، مجھے ان پر افسوس نہیں بلکہ ان پر افسوس ہے جنہیں انہوں نے گمراہ کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، یوسف بن یعقوب سدوسی بخاری کے ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 873]
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، یوسف بن یعقوب سدوسی بخاری کے ثقہ راوی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإمامة وصلاة الجماعة/حدیث: 873]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 873 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سليمان التيمي: هو ابن طَرْخان، وأبو مجلز: هو لاحق بن حميد.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: سلیمان التیمی سے مراد ابن طرخان اور ابومجلز سے مراد لاحق بن حمید ہیں۔
وأخرجه النسائي (884)، وابن حبان (2181) من طريق محمد بن عمر المقدَّمي، بهذا الإسناد. وعند النسائي أنَّ الذي سأل "من يعني بهذا" هو المقدَّمي والمجيب هو يوسف بن يعقوب أبو يعقوب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (884) اور ابن حبان (2181) نے محمد بن عمر المقدمی کی سند سے روایت کیا ہے۔ نسائی کے ہاں صراحت ہے کہ سوال کرنے والے مقدمی اور جواب دینے والے یوسف بن یعقوب ہیں۔
وسيأتي برقم (8817)، وبنحوه برقم (5407).
🔁 تکرار: یہ حدیث آگے نمبر (8817) اور (5407) پر آئے گی۔
وفي باب من يلي الإمام في الصف الأول انظر حديث أبي مسعود الآتي برقم (891)، وحديث ابن مسعود الآتي برقم (2179).
🧩 متابعات و شواہد: امام کے قریب پہلی صف میں کھڑے ہونے والوں کے بارے میں حضرت ابومسعود کی حدیث (891) اور ابن مسعود کی حدیث (2179) ملاحظہ فرمائیں۔