🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
90. ذِكْرُ رَفْعِ الْقُرْآنِ عَنْ قُلُوبِ الْمُسْلِمِينَ
مسلمانوں کے دلوں سے قرآن (کے حروف) اٹھا لیے جانے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8751
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا محمد بن إبراهيم بن أُورْمَة، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن مُنذِرِ الثَّوْري، عن محمد بن الحنفيّة، عن عليٍّ قال: تكون في هذه الأُمَّة خمسُ فتنٍ: فتنةٌ عامَّةٌ، وفتنةٌ خاصَّةٌ، [ثم فتنةُ عامّةٍ، وفتنةُ خاصّةٍ] (2) ثم تكون فتنةٌ سوداءُ مُظلِمةٌ يكون الناسُ فيها كالبهائم (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8540 - صحيح
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس امت میں پانچ فتنے ہوں گے: ایک فتنہ عام ہوگا، ایک خاص ہوگا، (پھر ایک عام ہوگا، اور ایک خاص ہوگا)، پھر ایک ایسا سیاہ اور تاریک فتنہ ہوگا جس میں لوگ چوپایوں کی طرح ہو جائیں گے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8751]
تخریج الحدیث: «خبر قوي، ومحمد بن إبراهيم بن أورمة» [ترقيم الرساله 8751] [ترقيم الشركة 8643] [ترقيم العلميه 8540]

الحكم على الحديث: خبر قوي

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8751 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) ما بين المعقوفين ليس في نسخنا الخطية، وهو من مصادر التخريج، ولا بدَّ منه.
📝 نوٹ / توضیح: معقوفین (بریکٹس) کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہے، اسے مصادرِ تخریج سے لیا گیا ہے اور یہ ضروری ہے۔
(3) خبر قوي، ومحمد بن إبراهيم بن أورمة - وإن كان في عِداد المجاهيل - لم ينفرد به، وقد اختلف فيه على الأعمش كما سبق بيانه عند الحديث رقم (8554).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "قوی" ہے۔ محمد بن ابراہیم بن اورمہ—اگرچہ مجہول راویوں میں شمار ہیں—لیکن وہ اس میں منفرد نہیں ہیں۔ اعمش پر اس روایت میں اختلاف ہوا ہے جس کا بیان حدیث نمبر (8554) کے تحت گزر چکا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8751 in Urdu