المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
110. لن تفتن أمتي حتى يظهر فيهم التمايز ، والتمايل ، والمقامع
میری امت اس وقت تک فتنے میں نہیں پڑے گی جب تک ان میں تفریق، کج روی اور ظلم ظاہر نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 8812
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي (5) ، حدثنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن الحسن، عن أبي بَكْرة قال: لما كان يومُ الجَمَل أردتُ أن آتيَهم أقاتلُ معهم، حتى ذكرتُ حديثًا سمعتُه من رسول الله ﷺ: أَنه بَلَغَهُ أَنَّ كِسْرى - أو بعض ملوك الأعاجم - مات فولَّوْا أمرَهم امرأةً، فقال رسول الله ﷺ:"لا يُفلِحُ قومٌ تَملِكُهم امرأةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوبكرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ جنگ جمل کے موقع پر میں نے ارادہ كیا كہ میں بھی جنگ میں شریک ہو كر جہاد كروں، پہر مجھے یہ حدیث یاد آ گئی جو كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو یہ اطلاع ملی كہ كسریٰ یا كوئی دوسرا عجمی بادشاہ مر گیا ہے اور لوگوں نے ایک عورت كو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم كبھی کامیاب نہیں ہو سكتی، جس نے اپنا بادشاہ کسی عورت کو بنا لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8812]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8812 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(5) كذا وقع في نسخ الكتاب كافة، ولم يذكر أحد ممَّن ترجم لصفوان بن عيسى - وهو أبو محمد الزهري البصري - أنه تولّى القضاء، فلعلَّ ما وقع هنا سبق قلم من بعض النساخ، والله أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: کتاب کے تمام نسخوں میں اسی طرح واقع ہوا ہے، حالانکہ صفوان بن عیسیٰ—جو کہ ابو محمد الزہری البصری ہیں—کے حالات لکھنے والوں میں سے کسی نے ذکر نہیں کیا کہ وہ عہدۂ قضا پر فائز ہوئے تھے، شاید یہ بعض کاتبین کے قلم کی سبقت (غلطی) ہے، واللہ اعلم۔
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل صفوان بن عيسى، وقد توبع. الحسن: هو ابن أبي الحسن البصري.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور یہ سند صفوان بن عیسیٰ کی وجہ سے "جید" ہے، اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حسن سے مراد "ابن ابی الحسن البصری" ہیں۔
وأخرجه البخاري (4425) و (7099) عن عثمان بن الهيثم، عن عوف بن أبي جميلة، بهذا الإسناد. وانظر ما سلف برقم (4658).
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری نے (4425) اور (7099) میں عثمان بن الہیثم عن عوف بن ابی جمیلہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ گزشتہ حدیث نمبر (4658) بھی ملاحظہ کریں۔
واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کا "ذہول" (بھول/چوک) ہے۔ (کیونکہ یہ بخاری میں موجود ہے)۔