المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
110. لَنْ تُفْتَنَ أُمَّتِي حَتَّى يَظْهَرَ فِيهِمُ التَّمَايُزُ، وَالتَّمَايُلُ، وَالْمَقَامِعُ
میری امت اس وقت تک فتنے میں نہیں پڑے گی جب تک ان میں تفریق، کج روی اور ظلم ظاہر نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 8809
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نَصْر الخَوْلاني، حدثنا بشر بن بَكْر، حدثنا الأوزاعي، حدثني إسماعيل بن عبيد الله (1) ، حدثني عبد الرحمن بن غَنْم الأشعَري قال: قال لي أبو الدَّرداء: كيف ترى الناسَ؟ قلت: بخيرٍ، إنَّ دعوتَهم واحدة، وإمامهم واحد، وعدوَّهم شقيّ (2) ، وأُعطِياتِهم وأرزاقَهم دارَّةٌ، قال: فكيف إذا تباغَضَت قلوبُهم، وتلاعنت ألسنتُهم، وظهَرَت عداوتُهم، وفَسَدَت ذاتُ بينهم، وضرب بعضُهم رقابَ بعض؟! (3)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8596 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8596 - صحيح
عبدالرحمن بن غنم اشعری فرماتے ہیں: مجھے ابوالدرداء نے کہا: تم لوگوں کو کیسا دیکھتے ہو؟ میں نے کہا: ٹھیک ہے، ان کی دعوت بھی ایک ہے، ان کا امام بھی ایک ہے، ان کا دشمن زیر ہے۔ ان کے عطیات اور ان کے رزق وافر ہیں، آپ نے فرمایا: وہ وقت کیسا ہو گا جب ان کے دلوں میں آپس میں بغض ہو گا، جب ان کی زبانوں پر لعن طعن ہو گی، جب ان کی آپس کی دشمنی ظاہر ہو گی، اور ان کے درمیان فساد برپا ہو گا، اور یہ لوگ ایک دوسرے کی گردنیں ماریں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8809]
حدیث نمبر: 8810
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا عثمان بن كَثير بن دينار، عن سعيد بن سِنان، عن أبي الزاهريَّة، عن أبي شَجَرة كَثير بن مُرَّة، عن حُذيفة بن اليمان قال: قال رسول الله ﷺ:"لن تَفْنى (4) أمَّتي حتى يظهرَ فيهم التمايزُ والتمايلُ والمَعامعُ" قلت: يا رسول الله، ما التمايزُ؟ قال:"التمايزُ عصبيَّةٌ يُحدِثها الناسُ بعدي في الإسلام" قلت: فما التمايلُ؟ قال:"يَميل القبيلُ على القَبيل فيستحلُّ حُرمتَها" قلت: فما المَعامعُ؟ قال:"تسير الأمصارُ بعضُها إلى بعض تختلفُ أعناقُها في الحرب" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8597 - بل سعيد متهم به
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8597 - بل سعيد متهم به
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں اس وقت تک فتنہ نہیں ہو گا جب تک کہ ان میں تمایز، تمایل اور مقاطع ظاہر نہیں ہو گا۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمایز کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمایز، وہ عصبیت ہے جو لوگ میرے بعد اسلام میں پیدا کر لیں گے۔ میں نے پوچھا: تمایل کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک قبیلہ، دوسرے قبیلہ پر مائل ہو گا اور اس کی حرمت کو حلال سمجھ لے گا۔ میں نے پوچھا: مقاطع کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہروں کی سیر ہے، جنگ میں ان کی ایک دوسرے کے ساتھ گردنیں پھنسیں گی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8810]
حدیث نمبر: 8811
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي، حدثنا أحمد بن سعيد الجمَّال، حدثنا وهب بن جرير، حدثنا شُعبة، عن حُصَين، عن عبد الأعلى بن الحَكَم (2) رجلٍ من بني عامر، عن خارجة بن الصَّلت البُرْجُمي قال: دخلتُ مع عبد الله المسجدَ، فإذا القومُ ركوعٌ، فركع، فمَرَّ رجل فسلَّم عليه، فقال عبد الله: صدقَ الله ورسولُه، ثم وصل إلى الصفِّ، فلما فَرَغَ سألتُه عن قوله: صدق الله ورسولُه، فقال: إنه كان يقال (3) : لا تقوم الساعةُ حتى تُتَّخذَ المساجد طُرقًا، وحتى يسلِّم الرجلُ على الرجل بالمعرفة، وحتى تَتَّجِرَ المرأةُ وزوجُها، وحتى تَغلُوَ الخيلُ والنساءُ ثم تَرخُصَ فلا تَعْلُو إلى يوم القيامة (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8598 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8598 - صحيح
خارجہ بن صلت برجمی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ کے ہمراہ مسجد میں داخل ہوا، اس وقت جماعت رکوع میں تھی، انہوں نے بھی رکوع کیا، پھر ایک آدمی وہاں سے گزرا، اس نے ان کو سلام کیا، سیدنا عبداللہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، پھر آپ صف تک پہنچ گئے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کے ” صدق اللہ ورسولہ “ کہنے کی وجہ پوچھی، آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے، قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ مساجد کو گزرگاہ نہ بنا لیا جائے، اور لوگ صرف جان پہچان والوں کو ہی سلام کریں گے، عورتیں مردوں کے برابر تجارت کریں گی , گھوڑے اور عورتیں بہت مہنگی ہو جائیں گی، پھر یہ اتنے سستے ہو جائیں گے کہ قیامت تک دوبارہ مہنگے نہیں ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8811]
حدیث نمبر: 8812
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي (5) ، حدثنا عوف بن أبي جَمِيلة، عن الحسن، عن أبي بَكْرة قال: لما كان يومُ الجَمَل أردتُ أن آتيَهم أقاتلُ معهم، حتى ذكرتُ حديثًا سمعتُه من رسول الله ﷺ: أَنه بَلَغَهُ أَنَّ كِسْرى - أو بعض ملوك الأعاجم - مات فولَّوْا أمرَهم امرأةً، فقال رسول الله ﷺ:"لا يُفلِحُ قومٌ تَملِكُهم امرأةٌ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوبكرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں كہ جنگ جمل کے موقع پر میں نے ارادہ كیا كہ میں بھی جنگ میں شریک ہو كر جہاد كروں، پہر مجھے یہ حدیث یاد آ گئی جو كہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم كو یہ اطلاع ملی كہ كسریٰ یا كوئی دوسرا عجمی بادشاہ مر گیا ہے اور لوگوں نے ایک عورت كو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ قوم كبھی کامیاب نہیں ہو سكتی، جس نے اپنا بادشاہ کسی عورت کو بنا لیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8812]