المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
118. من سمع منكم بخروج الدجال فلينأ عنه
تم میں سے جو دجال کے خروج کے بارے میں سنے، وہ اس سے دور رہے
حدیث نمبر: 8828
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر بن سابق الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني معاوية بن صالح، عن عبد الرحمن بن جُبَير بن نُفَير، عن أبيه، عن جدِّه: أن رسول الله ﷺ ذكر الدَّجال فقال:"إنْ يَخرج وأنا فيكم، فأنا حَجيجُكم، وإن يَخرجْ ولست فيكم، فكلُّ امْرِيءٍ حَجِيجُ نفسِه، واللهُ خليفتي على كلِّ مسلم، ألا وإنه مطموسُ العين كأنها عينُ عبدِ العُزَّى بن قَطَن الخُزاعي، ألا فإنه مكتوبٌ بين عينيه: كافر، يقرؤُه كلُّ مسلم، فمن لَقِيَه منكم فليَقرأْ بفاتحة الكهف، يخرجُ من بين الشام والعراق، فعاثَ يمينًا وعاثَ شِمالًا، يا عبادَ الله اثْبُتوا" ثلاثًا، فقيل: يا رسول الله، فما مُكْثُه في الأرض؟ قال:"أربعون يومًا: يومٌ كالسَّنة، ويومٌ كالشهر، ويومٌ كالجُمعة، وسائرُها كأيامِكم" قالوا يا رسول الله، فكيف نصنعُ بالصلاة يومئذٍ، صلاةُ يومٍ أو نَقدُرُ؟ قال:"بل تَقدُرون (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8614 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8614 - صحيح
عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا: اگر وہ میرے ہوتے ہوئے ظاہر ہو گیا تو اس کا مقابلہ میں کروں گا، اور اگر وہ میرے بعد ظاہر ہوا تو ہر شخص اپنے آپ کا ذمہ دار ہو گا اور ہر مسلمان کا نگران اللہ تعالیٰ ہو گا۔ خبردار، اس کی ایک آنکھ پھولی ہوئی ہو گی، جیسا کہ عبدالعزیٰ بن قطن خزاعی کی آنکھ ہے۔ خبردار، اس کی آنکھوں کے درمیان ” کافر “ لکھا ہوا ہو گا، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ مومن اس کو پڑھ سکے گا۔ جو شخص اس سے ملے، اس کو چاہئے کہ وہ سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، وہ شام اور عراق کے درمیان سے نکلے گا، پھر وہ دائیں اور بائیں جانب بہت فساد پھیلائے گا۔ اے اللہ کے بندو، ثابت قدم رہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنا عرصہ زمین میں رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن، ایک دن سال کے برابر ہو گا، اس کے بعد ایک دن ایک مہینے کے برابر ہو گا، اس کے بعد ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہو گا، اس کے بعد تمام دن عام دنوں کی طرح ہوں گے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ایک سال کے برابر والے دن میں ہم نمازیں کس طرح پڑھیں گے؟ پورے سال میں صرف پانچ ہی نمازیں؟ یا وقت کا حساب لگا کر (365 دنوں کی) نمازیں پڑھیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وقت کا حساب لگا کر پڑھنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8828]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8828 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: تقدروا، والجادة إثبات النون.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (نون کے بغیر) "تقدروا" ہے، جبکہ درست "نون" کا اثبات ہے۔
(2) حديث صحيح لكن من حديث جبير بن نفير عن النواس بن سِمعان عن النبي ﷺ، فقد خولف فيه معاوية بن صالح كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، لیکن یہ جبیر بن نفیر عن النواس بن سمعان عن النبی ﷺ کی حدیث سے (معروف) ہے، کیونکہ اس میں معاویہ بن صالح کی مخالفت کی گئی ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 62/ 196 من طريق حرملة بن يحيى، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (62/ 196) میں حرملہ بن یحییٰ عن عبداللہ بن وہب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج أوله مختصرًا البزار (3381 - كشف الأستار)، وابن عساكر 62/ 196 من طريق أبي صالح عبد الله بن صالح، عن معاوية بن صالح، به.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا ابتدائی حصہ مختصراً بزار (3381 - کشف الاستار) اور ابن عساکر (62/ 196) نے ابو صالح عبداللہ بن صالح عن معاویہ بن صالح کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وقد رواه يحيى بن جابر الطائي - وهو من ثقات الشاميين - عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير عن أبيه عن النواس بن سمعان، فجعله من حديث النواس، وهو المحفوظ الذي اعتمده الأئمة في كتبهم كمسلم وأصحاب "السنن" وغيرهم، وقد سلف من هذا الوجه عند المصنف برقم (8718).
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسے یحییٰ بن جابر الطائی—جو کہ ثقات شامیین میں سے ہیں—نے عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر عن ابیہ عن النواس بن سمعان سے روایت کیا ہے، اور اسے "نواس" کی حدیث قرار دیا ہے؛ اور یہی وہ "محفوظ" طریقہ ہے جس پر ائمہ (مسلم اور اصحابِ سنن وغیرہ) نے اپنی کتب میں اعتماد کیا ہے۔ یہ مصنف کے ہاں اسی سند سے نمبر (8718) پر گزر چکا ہے۔