المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
126. لا يدخل المدينة رعب الدجال ولا الطاعون
مدینہ منورہ میں دجال کا رعب اور طاعون داخل نہیں ہو سکے گا
حدیث نمبر: 8840
فحدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا عبد الله بن صالح المِصري، حدثني الليث، حدثني عُقَيل، عن ابن شِهاب، أخبرني طلحة بن عبد الله بن عوف، أنَّ عِياضَ بن مُسافِع أخبره، أَنَّ أبا بَكْرة أخا زيادٍ لأمِّه أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ قام فخَطَبَ فَأَثنى على الله بما هو أهلُه، ثم قال:"أما بعدُ، فقد أكثرتُم في شأنِ مُسيلِمة، وإنه كذَّابٌ من جُمْلة ثلاثينَ كذّابًا يخرجون قبلَ الدَّجال" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه سعدُ بن إبراهيم الزُّهْري عن أبيه عن أبي بَكْرة مختصرًا:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد رواه سعدُ بن إبراهيم الزُّهْري عن أبيه عن أبي بَكْرة مختصرًا:
عقیل نے ابن شہاب کے واسطے سے طلحہ بن عبداللہ بن عوف کے حوالے سے عیاض بن مسافع سے روایت کیا ہے کہ زیاد کے ماں شریک بھائی سیدنا ابوبکرہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ مسیلمہ کذاب کے بارے میں رسول اللہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگ گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا: تم اس آدمی کے بارے میں بہت زیادہ اظہار خیال کرنے لگ گئے ہو، وہ تیس کذابوں میں سے ایک کذاب ہے جو دجال سے پہلے ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اسی حدیث کو سعد بن ابراہیم زہری نے اپنے والد کے واسطے سے ابوبکرہ سے مختصراً روایت کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8840]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8840 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ اپنی سابقہ حدیث کی طرح "صحیح لغیرہ" ہے۔
وأخرجه أحمد 34/ (20464) عن حجاج بن محمد المصيصي، عن الليث بن سعد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (34/ 20464) میں حجاج بن محمد المصیصی عن لیث بن سعد کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔