المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
127. ذكر يوم الخلاص
یومِ خلاص (خلاصی کے دن) کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8844
حدَّثناه محمدُ بن صالح بن هانئ، حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حماد سَلَمة، حدثنا خالد، عن عبد الله بن شقيق، عن عبد الله بن سُرَاقة، عن أبي عُبيدة بن الجرّاح قال: قال رسول الله ﷺ:"إنه لم يكن نبيٌّ بعد نوحِ إلَّا وقد أنذَرَ أمّتَه الدجالَ، وإني أُنذِرُكُموه"، فَوَصَفَه لنا رسولُ الله ﷺ قال:"إنكم ستُدركونه أو سيدركُه بعضُ من رآني وسَمِع منِّي" قلنا: يا رسول الله، قلوبُنا يومئذٍ كما هي اليومَ؟ قال:"أو خيرٌ" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8630 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8630 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا نوح علیہ السلام کے بعد ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ہے اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے حالات بتائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم اس کو پاؤ گے یا جن لوگوں نے مجھے دیکھا ہے ان میں سے بعض لوگ اس کو پائیں گے، ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے دل ایسے ہی ہوں گے جیسے آج ہیں؟ فرمایا: اس سے بھی بہتر ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8844]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8844 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) أوله صحيح لغيره، وإسناده ضعيف كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کا ابتدائی حصہ ’صحیح لغیرہ‘ ہے، جبکہ بذاتِ خود اس کی سند پچھلی روایت کی طرح ضعیف ہے۔
وأخرجه أبو داود (4756) عن موسى بن إسماعيل التبوذكي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (4756) نے موسیٰ بن اسماعیل التبوذکی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 3/ (1693)، والترمذي (2234)، وابن حبان ((6778) من طرق عن حماد بن سلمة، به. وقال الترمذي: هذا حديث حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [3/ (1693)]، ترمذی (2234) اور ابن حبان (6778) نے حماد بن سلمہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
ويشهد لأوله حديث أنس بن مالك عند البخاري (7131) ومسلم (2933)، ولفظه: "ما بُعث نبي إلّا أنذر أمتَه الأعورَ الكذاب".
🧩 متابعات و شواہد: اس کے ابتدائی حصے کی تائید حضرت انس بن مالک کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو بخاری (7131) اور مسلم (2933) میں ہے، جس کے الفاظ ہیں: "کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا مگر اس نے اپنی امت کو کانے جھوٹے (دجال) سے ڈرایا۔"
وحديث سعد بن أبي وقاص عن أحمد 3/ (1526) وغيره، ولفظه: "إنه لم يكن نبي إلَّا وصف الدجالَ لأمته".
🧩 متابعات و شواہد: نیز حضرت سعد بن ابی وقاص کی حدیث جو مسند احمد [3/ (1526)] وغیرہ میں ہے، اس کی تائید کرتی ہے، جس کے الفاظ ہیں: "کوئی نبی ایسا نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کے لیے دجال کا حلیہ بیان نہ کیا ہو۔"