🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
133. لا يذهب الليل والنهار حتى تعبد اللات والعزى
دن اور رات اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک (دوبارہ) لات اور عزیٰ کی پوجا نہ ہونے لگے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8862
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن أحمد بن عَتَّابِ العَبْدي (1) ، حدثنا يحيى بن جعفر بن أبي طالب، حدثنا علي بن عاصم، عن داود بن أبي هِند، عن أبي حَرْب بن أبي الأسود، حدثني طَلْحة النَّصْري (2) ، قال: كان الرجلُ منا إذا قَدِمَ المدينة فكان له بها عَريفٌ نزل على عريفه، وإن لم يكن له بها عريفٌ نزل الصُّفّةَ، فقدمتُ المدينةَ ولم يكن لي بها عريفٌ، فنزلتُ الصُّفّةَ، وكان يجيءُ علينا من رسول الله ﷺ كلَّ يومٍ مُدٌّ من تمرٍ بين اثنين، ويَكسُونا الخُنُفَ، فصلَّى بنا رسول الله ﷺ بعضَ صلوات النهار، فلما سلَّم ناداه أهلُ الصفة يمينًا وشِمالًا: يا رسولَ الله، أحرَقَ بطونَنا التمرُ، وتخرَّقَت عنا الخُنُفُ، فقام رسول الله ﷺ إلى منبره فصَعِدَ فَحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم ذكر شدَّةَ ما لقي من قومه، حتى قال:"ولقد أَتى عليَّ وعلى صاحبِي بضعَ عشرةَ ما لي وله طعامٌ إلَّا البَرِيرُ" - قال: فقلت لأبي حربٍ: وأيُّ شيءٍ البريرُ؟ قال: طعامُ سَوءٍ؛ ثمرُ الأَراك - فقَدِمْنا على إخواننا هؤلاءِ من الأنصار وعظيمُ طعامِهم التمرُ، فواسَوْنا فيه، ووالله لو أَجِدُ لكم الخبزَ واللحمَ لأَشبعتُكم منه، ولكن عسى أن تُدرِكوا زمانًا - أو من أدركه منكم - يُغدَى ويُراحُ عليكم بالجِفَان، وتَلبَسون مثلَ أستار الكعبة". قال داود قال لي أبو حَرْب: يا داود، وهل تدري ما كان أستارُ الكعبة يومئذٍ؟ قلت: لا، قال: ثيابٌ بِيضٌ كان يُؤتَى بها من اليمن. قال: داود: فحدَّثتُ بهذا الحديث الحسنَ بن [أبي] (1) الحسن، فقال: وقال رسول الله ﷺ:"أنتم اليومَ خيرٌ منكم يومئذٍ، أنتم اليومَ إخوانٌ بنِعْمة الله، وأنتم يومئذٍ أعداءٌ يضربُ بعضُكم رقابَ بعض" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8648 - صحيح
سیدنا طلحہ نضری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے جو شخص مدینہ میں آتا تو اصحاب صفہ کے چبوترے میں آتا۔ اگر مدینے میں اس کی جان پہچان کا کوئی آدمی اس کو مل جاتا تو وہ اس کے پاس ٹھہرتا، ورنہ وہ صفہ میں آ جاتا۔ میں مدینہ منورہ میں آیا، وہاں میرا جانے والا کوئی نہیں تھا، میں بھی صفہ میں چلا گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے اصحاب صفہ کے لئے روزانہ دو آدمیوں کے لئے ایک مد کھجوریں آتی تھیں، آپ ہمیں پہننے کے لئے کاٹن کی موٹی چادریں عطا فرمایا کرتے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دن کی کوئی نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو دائیں بائیں سے اصحاب صفہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجوروں نے ہمارے پیٹ جلا ڈالے ہیں، اور ہمارے کپڑے بھی پھٹ چکے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر شریف پر جلوہ گر ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ان تکالیف کا ذکر کیا جو آپ کی قوم کی جانب سے آپ کو دی گئی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر اور میرے گھر والوں پر دس دس دن بلکہ اس سے بھی زائد دن ایسے گزر جاتے ہیں کہ ہمارے پاس بریر کے علاوہ کھانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔ داؤد بن ابی ہند فرماتے ہیں: میں نے ابوحرب سے پوچھا کہ بریر کیا چیز ہوتی ہے؟ انہوں نے کہا: بدذائقہ کھانا ہے پیلو کے درخت کا پھل۔ پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے، ان کا سب سے اچھا کھانا کھجور ہی تھا، انہوں نے ہمیں اس کھانے میں شریک کیا۔ (حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) اللہ کی قسم! اگر میرے پاس تمہارے لئے روٹی اور گوشت ہوتا تو میں تمہیں اس سے سیر کر دیتا۔ لیکن ہو سکتا ہے کہ عنقریب تم ایسا زمانہ پاؤ کہ صبح شام تمہارے سامنے بڑے بڑے پیالے پیش کئے جائیں گے اور تم غلاف کعبہ کی طرح قیمتی لباس پہنو گے۔ داؤد کہتے ہیں: ابوحرب نے مجھ سے کہا: اے داؤد! تمہیں معلوم ہے کہ ان دنوں غلاف کعبہ کیسا ہوتا تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انہوں نے کہا: سفید رنگ کا کپڑا ہوتا تھا جو کہ یمن سے اسپیشل منگوایا جاتا تھا۔ داؤد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث حسن بن حسن کو بیان کی تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس دن کی بہ نسبت آج تم زیادہ بہتر ہو، آج تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی ہو، لیکن اس زمانے میں تمہارے درمیان دشمنی ہو گی، تم ایک دوسرے کی گردنیں مارو گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8862]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8862 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): المكي، والمثبت من (ك) و (م)، وهو الصواب الموافق لما في ترجمته من "تاريخ بغداد" 3/ 476 وغيره، فهذا الرجل بغداديّ لا مكيّ.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں ’المکی‘ ہے، جبکہ متن میں جو درج ہے وہ نسخہ (ک) اور (م) سے ہے اور وہی صحیح ہے، جیسا کہ "تاریخ بغداد" [3/ 476] وغیرہ میں اس کے ترجمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شخص بغدادی ہے نہ کہ مکی۔
(2) بالنون والصاد المهملة، هكذا ضبطه ابن ماكولا في "الإكمال" 1/ 390، نسبة إلى نصر بن معاوية من هوازن، وفي نسخنا الخطية: البصري، بالباء فالصاد، وهو صحيح أيضًا، فقد ذكر ابن حبان في "الثقات" 3/ 204 أنه سكن البصرة، إلّا أنَّ النسبة إلى القبيلة في المتقدمين عادةً أشهر من النسبة إلى البلدان.
📝 نوٹ / توضیح: یہ لفظ نون اور صاد مہملہ (نصر) کے ساتھ ہے، جیسا کہ ابن ماکولا نے "الاکمال" [1/ 390] میں ضبط کیا ہے، یہ نصر بن معاویہ (ہوازن کے قبیلے) کی طرف نسبت ہے۔ ہمارے قلمی نسخوں میں یہ ’البصری‘ (باء اور صاد کے ساتھ) ہے، اور یہ بھی صحیح ہے کیونکہ ابن حبان نے "الثقات" [3/ 204] میں ذکر کیا ہے کہ وہ بصرہ میں مقیم رہے، مگر متقدمین کے ہاں قبیلے کی طرف نسبت شہر کی طرف نسبت سے زیادہ مشہور ہوتی ہے۔
(1) زيادة لا بد منها ليست في نسخنا الخطية، فالحسن بن أبي الحسن هذا: هو الحسن البصري، واسم أبيه أبي الحسن: يسار.
📝 نوٹ / توضیح: یہ اضافہ ضروری ہے جو ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں ہے۔ حسن بن ابی الحسن سے مراد ’حسن بصری‘ ہیں اور ان کے والد ابو الحسن کا نام ’یسار‘ ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل علي بن عاصم، ففيه ضعف إلّا أنه يعتبر به. وقد سلف الحديث من طريقه وطريق غيره برقم (4336)، فانظر تمام تخريجه والكلام عليه هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، اور علی بن عاصم کی وجہ سے یہ سند متابعات و شواہد میں حسن ہے۔ ان میں کچھ ضعف ہے مگر ان کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ یہ حدیث ان کے اور دوسروں کے طریق سے نمبر (4336) پر گزر چکی ہے، اس کی مکمل تخریج اور کلام وہیں دیکھیں۔