المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
139. ما تكرهون فى الجماعة خير مما تحبون فى الفرقة
جماعت کے ساتھ رہ کر جس سختی کو تم ناپسند کرتے ہو وہ تفرقے کی اس حالت سے بہتر ہے جسے تم پسند کرتے ہو
حدیث نمبر: 8876
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن أحمد بن النَّضْر، حدثني جدِّي معاويةُ بن عمرو، حدثنا زائدة، حدثنا أبو حَصِين، عن عامر، عن ثابت بن قُطْبة، عن عبد الله بن مسعود قال: بن مسعود قال: الْزَمُوا هذه الطاعةَ والجماعة، فإنه حبلُ الله الذي أَمَرَ به، وإنَّ ما تكرهون في الجماعةِ خيرٌ من الذي (3) تحبُّون في الفُرْقة، وإنَّ الله تعالى لم يَخلُقْ شيئًا قطُّ إلَّا جعل له مُنتهًى، وإنَّ هذا الدِّين قد تمَّ، وإنه صائرٌ إلى نُقْصان، وإنَّ أمارةَ ذلك أن تُقطَعَ الأرحامُ، ويُؤخذَ المالُ بغير حقِّه، وتُسفَكَ الدماءُ، ويشتكيَ ذو القَرابةِ قرابتَه، لا يعودُ عليه بشيءٍ، ويطوفَ السائلُ بين الجُمُعتين لا يُوضَعُ في يده شيءٌ، بينما هم كذلك إذ خارَتْ خُوَارَ البقر، يَحسَبُ كلُّ الناس أَنَّما خارت من قِبَلِهم، فبَيْنا الناسُ كذلك إذ قَذَفَت الأرضُ بأفلاذ كَبِدِها من الذهب والفضة، لا يَنفعُ بعد ذلك شيءٌ من الذهب والفضة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8663 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8663 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس اطاعت کو اور اس جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ یہی اللہ کی رسی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسی کو پکڑنے کا حکم دیا ہے، جماعت میں رہنے سے تمہیں جو چیز ناپسند ہے، وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں الگ رہنے میں اچھی لگتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی بنائی ہے اس کی انتہاء بھی بنائی ہے، اور یہ دین مکمل ہو چکا ہے اور اب یہ نقصان کی جانب جا رہا ہے، اس کے نقصان کی نشانی یہ ہے کہ صلہ رحمی ختم ہو جائے گی، ناحق مال لیا جائے گا، ناحق خون بہایا جائے گا، قریبی رشتہ دار کو اپنی قرابت کی شکایت ہو گی، اور اس کی طرف کوئی چیز لوٹائی نہیں جائے گی۔ سوالی پورا پورا ہفتہ سوال کرتا پھرے گا لیکن کوئی شخص اس کو بھیک نہیں دے گا، انہی حالات میں گائے کی آواز کی سی آواز آئے گی، ہر شخص یہ سمجھے گا کہ یہ آواز ہماری طرف سے آ رہی ہے، اسی اثناء میں زمین اپنے اندر سے سونے اور چاندی کے خزانے اگل دے گی، لیکن اس وقت اس سونے اور چاندی کا کسی کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8876]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8876 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: الذين، ووقع في "التلخيص": خير ممّا، وهو صواب.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر ’الذین‘ بن گیا ہے، جبکہ "التلخیص" میں ’خیر مما‘ آیا ہے، اور یہی درست ہے۔
(1) إسناده حسن من أجل ثابت بن قطبة، فقد روى عنه غير واحد كما في "التاريخ الكبير" للبخاري و"الجرح والتعديل" لابن أبي حاتم، ووثقه ابن سعد في "الطبقات" والعجلي، وذكره ابن حبان في "الثقات". معاوية بن عمرو: هو الأزدي المَعْني، وزائدة هو ابن قدامة، وأبو حصين: هو عثمان بن عاصم، وعامر: هو ابن شَراحيل الشَّعبي.
⚖️ درجۂ حدیث: ثابت بن قطبہ کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے، ان سے ایک سے زیادہ راویوں نے روایت کی ہے جیسا کہ بخاری کی "التاریخ الکبیر" اور ابن ابی حاتم کی "الجرح والتعدیل" میں ہے۔ انہیں ابن سعد نے "الطبقات" میں اور عجلی نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: معاویہ بن عمرو سے مراد ’الازدی المعنی‘ ہیں، زائدہ سے مراد ’ابن قدامہ‘، ابو حصین سے مراد ’عثمان بن عاصم‘، اور عامر سے مراد ’ابن شراحیل الشعبی‘ ہیں۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 15/ 86، والطبراني في "الكبير" (8973) من طريقين عن زائدة بن قدامة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ [15/ 86] اور طبرانی نے "الکبیر" (8973) میں زائدہ بن قدامہ کے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه اللالكائي في "أصول الاعتقاد" (158) من طريق أبي بكر بن عياش، عن أبي حصين، به - مختصرًا بأوله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے لالکائی نے "اصول الاعتقاد" (158) میں ابو بکر بن عیاش عن ابی حصین کے طریق سے مختصراً (صرف ابتدائی حصے کے ساتھ) روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا ومطولًا الطبري في "تفسيره" 4/ 32، وابن أبي حاتم في "تفسيره" أيضًا 3/ 723، وابن بطة في "الإبانة الكبرى" 1/ 297 - 298، واللالكائي (159)، وأبو نعيم في "الحلية" 9/ 249 من طريق إسماعيل بن أبي خالد، والطبري 4/ 32، والآجري في "الشريعة" (17)، والطبراني في "الكبير" (8971) و (8972)، وابن بطة 1/ 327 من طريق مجالد بن سعيد، كلاهما عن عامر الشعبي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مختصراً اور مفصلاً طبری نے "تفسیر" [4/ 32]، ابن ابی حاتم نے بھی "تفسیر" [3/ 723]، ابن بطہ نے "الابانۃ الکبریٰ" [1/ 297 - 298]، لالکائی (159) اور ابو نعیم نے "الحلیۃ" [9/ 249] میں اسماعیل بن ابی خالد کے طریق سے؛ اور طبری [4/ 32]، آجری نے "الشریعۃ" (17)، طبرانی نے "الکبیر" [(8971) اور (8972)] اور ابن بطہ [1/ 327] نے مجالد بن سعید کے طریق سے؛ دونوں نے عامر شعبی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔