المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
140. حلية المهدي عليه السلام
سیدنا مہدی علیہ السلام کا حلیہ اور صفات
حدیث نمبر: 8881
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن خالد بن مَعْدان حدثني عُمَير بن الأسوَد قال: أتيتُ عُبادةَ بنَ الصامت وهو نازلٌ ساحلَ [حمصَ] (3) في بناءٍ له ومعه امرأتُه أَمُّ حَرَام، فحدَّثَتنا أمُّ حرام أنها سمعت رسول الله ﷺ يقول:"أولُ جيشٍ من أمَّتي يَعْزُون البحرَ قد أَوجَبُوا" قالت: قلت: يا رسول الله، أنا فيهم؟ قال:"إِنَّكِ فيهم"، ثم قال رسول الله ﷺ:"أولُ جيشٍ من أمَّتي يَغزُون مدينةَ قيصرَ مغفورٌ لهم" قلت: يا رسول الله، أنا فيهم؟ قال:"لا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8668 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8668 - على شرط البخاري ومسلم
عمیر بن اسود بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، وہ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، ان کے ہمراہ ان کی بیوی ” ام حرام “ بھی موجود تھیں، سیدنا ام حرام نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو کہ سمندر میں جہاد کرے گا، وہ جنتی ہے، آپ فرماتی ہیں: میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں بھی ان میں شریک ہوں گی؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں ہو گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں جو لوگ قیصر کے شہر میں جنگ کریں گے، وہ بخش دیئے گئے ہیں۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں ان میں ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8881]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8881 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) زيادة من البخاري وغيره ممن خرَّج الحديث.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ اضافہ امام بخاری اور دیگر محدثین کی روایت سے لیا گیا ہے جنہوں نے اس حدیث کی تخریج کی ہے۔
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البخاري (2924) عن إسحاق بن يزيد الدمشقي، عن يحيى بن حمزة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کی تخریج امام بخاری نے (صحیح بخاری: 2924) میں اسحاق بن یزید الدمشقی کے واسطے سے کی ہے، جو یحییٰ بن حمزہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اسے (مستدرک میں) ذکر کرنا ان کا وہم و ذہول ہے (کیونکہ یہ بخاری میں موجود ہے)۔
وانظر حديث أنس بن مالك عن أم حرام - وهي خالته - في "مسند أحمد" 44/ (27032).
📖 حوالہ / مصدر: مزید دیکھیے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جو وہ اپنی خالہ حضرت ام حرام رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، یہ "مسند احمد" کی جلد 44، حدیث نمبر (27032) میں موجود ہے۔