🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
141. المهدي هو من ولد فاطمة
سیدنا مہدی علیہ السلام سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8883
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلَابي، حدثنا عِمرانُ القَطَّان، حدثنا قَتَادة، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: قال رسول الله ﷺ:"المهديُّ منا أهلَ البيت، أشمُّ الأنفِ أَقْنى أَجْلى، يملأُ الأرضَ قِسطًا وعَدْلًا كما مُلِئَت جَوْرًا وظُلمًا، يعيشُ هكذا"؛ وبسط يسارَه وإصبعين من يمينه المُشيرة (1) والإبهامَ وعَقَدَ ثلاثةً (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8670 - عمران ضعيف ولم يخرج له مسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مہدی ہمارے اہل بیت میں سے ہو گا، اس کی ناک اونچی ہو گی، شرم و حیاء کا پیکر ہو گا، ماتھے سے اگلی جانب سے بال اڑے ہوئے ہوں گے، وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسا کہ اس سے پہلے وہ ظلم و ستم سے بھری گئی ہو گی، وو یوں زندگی گزارے گا، یہ کہتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بایاں ہاتھ پھیلایا اور شہادت والی انگلی کے ساتھ والی دو انگلیاں انگوٹھے کے ساتھ ملا کر تین کا عدد بنایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8883]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8883 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: المسبوه. وما أثبتناه هو الصواب، فالمشيرة: هي الإصبع التي يقال لها: السبّابة، كما في معاجم اللغة. ويعني بالإشارة المذكورة سبع سنين.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "المسبوہ" بن گیا تھا، جو ہم نے (متن میں) لکھا ہے وہی درست ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: "المشیرۃ" سے مراد وہ انگلی ہے جسے "سبابہ" (شہادت کی انگلی) کہا جاتا ہے جیسا کہ لغت کی کتابوں میں ہے، اور یہاں اشارے سے مراد سات سال کی مدت ہے۔
(2) إسناده حسن إن شاء الله من أجل عمران بن داور القطان، فهو مختلف فيه، إلّا أنه حسن الحديث إن شاء الله، لكن الذهبي في "تلخيصه" ذهب إلى تضعيفه. أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة.
⚖️ درجۂ حدیث: عمران بن داور القطان کی وجہ سے اس کی سند ان شاء اللہ حسن ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: عمران القطان میں محدثین کا اختلاف ہے، تاہم وہ ان شاء اللہ حسن الحدیث ہیں، لیکن حافظ ذہبی نے اپنی کتاب "التلخیص" میں انہیں ضعیف قرار دینے کی طرف رجحان ظاہر کیا ہے۔ راوی "ابو نضرہ" کا نام منذر بن مالک بن قطعہ ہے۔
وأخرجه أبو داود (4285) عن سهل بن تمام، والخطابي في "غريب الحديث" 2/ 191 من طريق عفان بن مسلم، كلاهما عن عمران القطان، بهذا الإسناد إلّا أنَّ عفان قال في أول حديثه: "يملك رجل من أهل بيتي؛ أو قال: من أمتي"، ولم يصرِّح بتسميته المهديَّ. وسهل فيه لِين، وعفان أوثق الثلاثة الذين رووه عن عمران.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد (4285) نے سہل بن تمام سے اور خطابی نے "غریب الحدیث" (2/ 191) میں عفان بن مسلم کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں عمران القطان سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: عفان نے اپنی حدیث کے شروع میں یہ الفاظ کہے: "میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی مالک بنے گا؛ یا فرمایا: میری امت میں سے"، اور انہوں نے صراحت کے ساتھ "مہدی" کا نام نہیں لیا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سہل بن تمام میں کچھ کمزوری (لین) ہے، جبکہ عفان ان تینوں راویوں میں سب سے زیادہ ثقہ ہیں جنہوں نے اسے عمران سے روایت کیا ہے۔