المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. لا يدخل أهل الجنة الجنة حتى ينقوا عن مظالم الدنيا
جنتی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک دنیا کے مظالم کا حساب نہ چکا لیں
حدیث نمبر: 8921
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادةَ، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"ليُحْبَسَنَّ أهلُ الجنة بعدما يُجاوِزون الصراطَ على قَنطَرةٍ، فيُؤخَذُ لبعضهم من بعض مظالمُهم التي تَظالَمُوها في الدنيا، حتى إذا هُذِّبوا ونُقُّوا أُذِنَ في دخول الجنة، فَلأحدهم أعرفُ بمَنزِلتِهم (2) في الآخرة منه بمنزلِه كان في الدنيا". قال قتادةُ: قال أبو عُبيدة بن عبد الله بن مسعود: ما يُشبِهُ إِلَّا أَهلَ جمعةٍ انصرفوا من جمعِتهم (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8706 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8706 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پل صراط سے گزرنے کے بعد ایک مقام پر جنتیوں کو روک لیا جائے گا، اور دنیا میں کئے گئے ظلم و زیادتی کا بدلہ دلوایا جائے گا، جب سب لوگ پاک صاف ہو جائیں گے تب ان کو جنت میں جانے کی اجازت ملے گی، اور ہر جنتی جنت میں اپنے مقام کو اس سے بھی زیادہ پہچانتا ہو گا جتنا دنیا میں وہ اپنے گھر کو پہچانتا ہے۔ سیدنا قتادہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کو اس بات سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جیسا کہ کچھ لوگ جمعہ پڑھنے گئے ہوں اور وہ جمعہ پڑھ کر اب واپس آ گئے ہوں۔ (اتنی دیر میں کوئی شخص اپنا گھر تو بھول نہیں جاتا) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8921]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8921 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (م): بمنزلته، وكذا في الموضع التالي.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (م) میں (لفظ بمنزلہ کی جگہ) "بمنزلته" ہے، اور اسی طرح اگلے مقام پر بھی ہے۔
(3) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل يحيى بن أبي طالب وشيخه عبد الوهاب. سعيد: هو ابن أبي عروبة، وأبو المتوكل: هو علي بن داود الناجيّ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند یحییٰ بن ابی طالب اور ان کے شیخ عبد الوہاب کی وجہ سے "قوی" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سعید سے مراد "ابن ابی عروبہ" ہیں اور ابو المتوکل سے مراد "علی بن داود الناجی" ہیں۔
وأخرجه أحمد 17/ (11095) عن روح بن عبادة، و 18/ (11706)، والبخاري (6535) من طريق يزيد بن زريع كلاهما عن سعيد بن أبي عروبة، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه. وقد سلف عند المصنف برقم (3389) من طريق هشام الدستوائي عن قتادة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (17/ 11095) نے روح بن عبادہ سے، اور (18/ 11706) اور بخاری (6535) نے یزید بن زریع کے طریق سے تخریج کیا ہے، یہ دونوں (روح اور یزید) اسے سعید بن ابی عروبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں لانا اور بخاری و مسلم پر) استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔ اور یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے نمبر (3389) پر ہشام دستوائی عن قتادہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔