🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. لَا يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ حَتَّى يُنَقَّوْا عَنْ مَظَالِمِ الدُّنْيَا
جنتی اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک دنیا کے مظالم کا حساب نہ چکا لیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8920
أخبرنا أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميمٍ القَنطَري ببغداد، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثني أَبي، عن سعيد بن عُمَير قال: جلستُ إلى عبد الله بن عمر وأبي سعيدٍ الخُدْري يومَ الجمعة، فقال أحدُهما: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"يُلجِمُ العرقُ الناسَ"، فقال:"إلى شَحْمةِ أُذُنيهِ"، وقال الآخر:"يُلجِمُه"؛ فقال ابن عمر بإصبَعِه تحتَ شحمةِ أُذنِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8705 - صحيح
سعید بن عمیر بیان کرتے ہیں: میں جمعہ کے دن سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان میں سے ایک نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ اپنے پسینے میں ڈوب رہے ہوں گے، ان میں سے ایک نے کہا: کانوں کی لو تک ہو گا اور دوسرے نے کہا: ڈوبا ہوا ہو گا، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کان کی لو کے نیچے ہاتھ رکھ کر فرمایا: یہاں تک۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8920]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8921
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، أخبرنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد، عن قَتَادةَ، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"ليُحْبَسَنَّ أهلُ الجنة بعدما يُجاوِزون الصراطَ على قَنطَرةٍ، فيُؤخَذُ لبعضهم من بعض مظالمُهم التي تَظالَمُوها في الدنيا، حتى إذا هُذِّبوا ونُقُّوا أُذِنَ في دخول الجنة، فَلأحدهم أعرفُ بمَنزِلتِهم (2) في الآخرة منه بمنزلِه كان في الدنيا". قال قتادةُ: قال أبو عُبيدة بن عبد الله بن مسعود: ما يُشبِهُ إِلَّا أَهلَ جمعةٍ انصرفوا من جمعِتهم (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8706 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پل صراط سے گزرنے کے بعد ایک مقام پر جنتیوں کو روک لیا جائے گا، اور دنیا میں کئے گئے ظلم و زیادتی کا بدلہ دلوایا جائے گا، جب سب لوگ پاک صاف ہو جائیں گے تب ان کو جنت میں جانے کی اجازت ملے گی، اور ہر جنتی جنت میں اپنے مقام کو اس سے بھی زیادہ پہچانتا ہو گا جتنا دنیا میں وہ اپنے گھر کو پہچانتا ہے۔ سیدنا قتادہ فرماتے ہیں: سیدنا ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان کو اس بات سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جیسا کہ کچھ لوگ جمعہ پڑھنے گئے ہوں اور وہ جمعہ پڑھ کر اب واپس آ گئے ہوں۔ (اتنی دیر میں کوئی شخص اپنا گھر تو بھول نہیں جاتا) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8921]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8922
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عبد الرحمن بن مَيسَرة، عن أبي هانئ الخَوْلاني، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو بن العاص قال: تلا رسولُ الله ﷺ الآية: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ [المطففين:6] ، فقال رسول الله ﷺ:"كيف بكم إذا جَمَعَكم الله كما يُجْمَعُ النَّبْلُ في الكِنانة خمسين ألفَ سنةٍ، ثم لا يَنظُرُ الله إليكم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8707 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ [المطففين: 6] جس دن سب لوگ رب العالمین کے حضور کھڑے ہوں گے پھر فرمایا: وہ وقت کیسا ہو گا، جب اللہ تم سب کو اس طرح جمع کر لے گا جیسا کہ ترکش میں چلے، یہ عمل پچاس ہزار سال جاری رہے گا، (اس پورے عرصے میں) اللہ تعالیٰ تمہاری جانب نگاہ نہیں فرمائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو قتل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8922]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8923
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزِير التاجر، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريسَ الرازي، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاريّ، حدثني محمد بن عمرو اللَّيْثي، عن يحيى بن عبد الرحمن بن حاطِبٍ، عن عبد الله بن الزُّبَير، عن الزُّبير قال: لما نَزَلت هذه الآيةُ وهذه السُّورة على رسول الله ﷺ: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾ [الزمر: 30 - 31] ، قال الزُّبير: يا رسول الله، أيُكرَّرُ علينا ما بينَنا في الدنيا مع خَوَاصِّ الذُّنوب؟! قال:"نعم، ليُكرَّرَنَّ عليكم ذلك حتى يُؤدَّى إلى كلِّ ذي حقٍّ حقُّه"، قال الزّبير: والله إنَّ الأمرَ لشديد (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8708 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت اور یہ سورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تو إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ [الزمر: 31] بے شک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا خاص گناہوں کے ہمراہ، ہماری آپس کی دنیاوی رنجشوں کا بھی حساب ہو گا؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سب کا حساب ہو گا حتی کہ ہر صاحب حق کو اس کا حق دلایا جائے گا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم، وہ معاملہ تو بہت سخت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8923]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8924
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان بن الحسن الفقيه ببغداد، حدثنا هلال بن العلاء الرَّقّي، عن زيد بن أبي أُنيسة، عن القاسم بن عوف الشَّيباني قال: سمعت ابن عمر يقول: لقد عِشْنا بُرْهةً من دهرٍ وما نَرى هذه الآيةَ إلّا نَزَلت فينا وفي أهل الكتاب: ﴿إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ (30) ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ﴾، فقلت: نَختصم؟! أمّا نحن فلا نعبدُ إلَّا الله، وأمّا دينُنا فالإسلامُ، وأما كتابُنا فالقرآنُ فلا نغيِّرُ ولا نحرِّفُ أبدًا، وأمّا قِبلتُنا فالكعبةُ، وأمّا حرامُنا - أو حَرَمُنا - فواحد، وأمّا نبيُّنا فمحمدٌ ﷺ، فكيف نختصمُ؟! حتى كَفَحَ بعضُنا وجوهَ بعضٍ بالسيوف، فعرفتُ أنها نَزَلَت فينا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8709 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم نے زندگی کا ایک حصہ گزار دیا اور اس میں ہمارا یہ خیال رہا کہ یہ آیت إِنَّكَ مَيِّتٌ وَإِنَّهُمْ مَيِّتُونَ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ [الزمر: 31] بے شک تمہیں انتقال فرمانا ہے اور انہیں بھی مرنا ہے پھر تم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس جھگڑو گے ہمارے بارے میں اور اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، میں نے کہا: ہم تو اللہ کے سوا کسی کی عبادت کرتے ہی نہیں، اور ہمارا دین، اسلام ہے، ہماری کتاب قرآن کریم ہے، ہم اس میں نہ کوئی تبدیلی کریں گے اور نہ کوئی ردوبدل کریں گے، اور ہمارا قبلہ کعبہ ہے۔ ہمارا حرم ایک ہے۔ ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تو ہم کیسے جھگڑیں گے؟ (پھر ایک وقت آیا کہ) ہم ایک دوسرے کے چہرے تلواروں سے زخمی کرنے لگ گئے، تو میں جان گیا کہ یہ آیت خاص ہمارے حق میں ہی نازل ہوئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 8924]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں