🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
19. ذكر عرض الأنبياء بأتباعهم على نبينا صلى الله عليه وآله وسلم
انبیاء علیہم السلام کا اپنے متبعین کے ساتھ ہمارے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیے جانے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8937
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا مُسدَّد، حدثنا ابن عُليَّة، عن يونس بن عُبيد، عن الحسن، عن عائشة قالت: ذَكَرتُ النار فبكيتُ فقال رسول الله ﷺ"ما لَكِ يا عائشة؟" قالت: ذكرتُ النارَ فبكيتُ، فهل تذكرون أهليكم يومَ القيامة؟ فقال رسول الله ﷺ:"أمّا في ثلاثِ مواطنَ، فلا يَذكُرُ أحدٌ أحدًا: [عند الميزان] (1) حتى يعلم أيَخِفُّ ميزانُه أم يَثقُل، وعند الكُتُب حين يقال هاؤُم اقرؤُوا كتابِيَهْ، حتى يعلمَ أين يقعُ كتابُه، أفي يمينِه أم في شِمالِه أو من وراءِ ظهرهِ، وعند الصِّراطِ إذا وُضِعَ بين ظَهْرَي جَهَنَّمَ، حافَتَاه كَلاليبُ كثيرة وحَسَكٌ كثير، يَحبِسُ اللهُ بها من شاءَ من خلقِه، حتى يعلمَ أينجُو أم لا" (2) .
هذا حديث صحيح، إسناده على شرط الشيخين لولا إرسالٌ فيه بين الحسن وعائشة، على أنه قد صحَّت الرواياتُ أنَّ الحسن كان يَدخُل وهو صبيٌّ منزلَ عائشة وأمِّ سَلَمة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8722 - على شرط البخاري ومسلم لولا إرسال فيه بين الحسن وعائشة
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے دوزخ کو یاد کیا اور رو پڑی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے رونے کی وجہ پوچھی، میں نے کہا: مجھے دوزخ یاد آئی تو میں رو پڑی، کیا آپ اپنی اہلیہ کو قیامت کے دن یاد رکھیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین مقام ایسے ہوں گے جہاں کوئی بھی کسی کو یاد نہیں رہے گا۔ * جب تک کہ وہ یہ نہیں جان لے گا کہ میزان پر اس کا نیکیوں کا پلڑا بھاری ہے یا ہلکا۔ * نامہ اعمال کھلنے کے وقت، حتی کہ یہ آواز لگے گی: اس کا نامہ اعمال پڑھا جائے۔ (اس وقت بھی لوگوں کو ایک دوسرے کی خبر نہ ہو گی اور یہ کیفیت اس وقت تک برقرار رہے گی) جب تک ان کو یہ معلوم نہ ہو جائے کہ ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں ہاتھ میں، یا اس کو پشت کے پیچھے سے دیا جائے گا۔ * پل صراط کے موقع پر جب بندہ دوزخ کی پشت پر قدم رکھے گا، اس کے کناروں پر لوہے کے کنڈے اور خاردار پودے ہوں گے، ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا روک لے گا، (اس وقت بھی سب لوگ ایک دوسرے کو بھول چکے ہوں گے اور ان کی یہ کیفیت اس وقت تک رہے گی) جب تک وہ یہ نہیں جان لیں گے کہ ان کو اس سے نجات ملے گی یا نہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح ہے، اس کی اسناد میں اگر حسن اور عائشہ کے درمیان ارسال نہ ہو تو یہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے مقرر کردہ میعار کے مطابق ہے، اور یہ روایات موجود ہیں کہ سیدنا حسن بچپن میں ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر آیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8937]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8937 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ما بين المعقوفين مكانه بياض في (ز) و (ب)، وسقط من (ك) و (م)، واستدركناه من مصادر التخريج، وما بعده يدلُّ عليه.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ کے درمیان والی عبارت کی جگہ نسخہ (ز) اور (ب) میں "سفید" (خالی) تھی، اور نسخہ (ک) اور (م) سے ساقط تھی، ہم نے اسے تخریج کے مصادر سے حاصل کر کے مکمل کیا ہے، اور بعد والی عبارت اس پر دلالت کرتی ہے۔
(2) إسناده ضعيف لانقطاعه بين الحسن - وهو البصري - وبين عائشة، وسيشير المصنف لاحقًا إلى هذه العلّة. ابن عليّة: هو إسماعيل بن إبراهيم بن مِقسم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ حسن - جو بصری ہیں - اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان "انقطاع" ہے، اور مصنف عنقریب اس علت کی طرف اشارہ کریں گے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن علیہ سے مراد "اسماعیل بن ابراہیم بن مقسم" ہیں۔
وأخرجه أبو داود (4755) - ومن طريقه البيهقي في "الاعتقاد" ص 210 - وقوام السنة الأصبهاني في "الحجة في بيان المحجة" (307) من طرق عن إسماعيل بن إبراهيم ابن عليّة، بهذا الإسناد. وأخرجه ابن راهويه في "مسنده" (1349) من طريق وهيب بن خالد، عن يونس بن عبيد، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (4755) نے - اور انہی کے طریق سے بیہقی نے "الاعتقاد" (ص 210) میں - اور قوام السنۃ الاصبہانی نے "الحجۃ فی بیان المحجۃ" (307) میں اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ سے متعدد طرق کے ساتھ، اسی سند سے تخریج کیا ہے۔ اور ابن راہویہ نے اپنی "مسند" (1349) میں وہیب بن خالد کے طریق سے، یونس بن عبید سے، اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا أحمد 41 / (24696) من طريق القاسم بن الفضل، عن الحسن البصري، به. وأخرجه بأطول مما هنا أحمد (24793) من طريق ابن لهيعة عن خالد بن أبي عمران عن القاسم بن محمد، عن عائشة. وابن لهيعة سيئ الحفظ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (41/ 24696) نے "مختصراً" قاسم بن الفضل کے طریق سے، حسن بصری سے روایت کیا ہے۔ اور احمد (24793) نے یہاں مذکور متن سے زیادہ طویل ابن لہیعہ کے طریق سے، انہوں نے خالد بن ابی عمران سے، انہوں نے قاسم بن محمد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور ابن لہیعہ "سیئ الحفظ" (خراب حافظے والے) ہیں۔