المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
20. ذكر الحساب اليسير
حسابِ یسیر (آسان حساب) کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8942
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم الغِفَاري، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن (3) عبد الواحد بن حمزة، عن عَبّاد بن عبد الله بن الزُّبير، عن عائشة قالت: سمعت رسولَ الله ﷺ يقول:"اللهمَّ حاسِبْني حسابًا يسيرًا" قالت: فقلت: يا رسول الله، ما الحسابُ اليسير؟ قال:"أن يُنظَرَ في سيِّئاتِه ويُتجاوز له عنها (4) ، إنَّه من نُوقِشَ الحسابَ يومَئِذٍ هَلَك، وكلُّ ما يصيبُ المؤمنَ يُكفِّرُ الله عنه (1) من سيّئاتِه، حتى الشَّوكةُ تَشُوكُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السياقة. وشاهده عن عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8727 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السياقة. وشاهده عن عائشة ﵂:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8727 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں دعا مانگی ” اے اللہ میرا حساب آسان لینا “ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آسان حساب کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کسی کے گناہوں کو دیکھ کر صرف نظر کر لینا، اس دن جس کے حساب کی تفتیش شروع ہو گئی، اس کو عذاب ضرور ہو گا۔ اور مومن کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے، حتی کہ مومن کے پاؤں میں جو کانٹا بھی چبھتا ہے اس کے بدلے بھی گناہ مٹائے جاتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8942]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8942 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: بن.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ عن) تحریف ہو کر "بن" بن گیا ہے۔
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عن.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ بن) تحریف ہو کر "عن" بن گیا ہے۔
(1) لفظ "عنه ليس في (ز) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "عنہ" نسخہ (ز) اور (ب) میں نہیں ہے۔
(2) حديث صحيح دون قصة دعائه ﷺ بالحساب اليسير، فهي زيادة شاذَّة كما سبق بيانه برقم (191).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے سوائے نبی ﷺ کے حسابِ یسیر کی دعا مانگنے والے قصے کے، کیونکہ وہ "شاذ" (ضعیف) اضافہ ہے جیسا کہ اس کا بیان نمبر (191) پر گزر چکا ہے۔