🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. ذكر الحساب اليسير
حسابِ یسیر (آسان حساب) کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8941
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله (1) بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن إبراهيم بن مُهاجِر، عن مجاهد، عن مُورِّقٍ، عن أبي ذرّ قال: قال رسول الله ﷺ:"إني أَرى ما لا تَرَون، وأسمعُ ما لا تسمعون، أَطَّتِ السماءُ وحُقَّ لها أن تَئِطَّ، ما فيها موضعُ أربع أصابعَ إِلَّا ومَلَكٌ واضعٌ جبهتَه ساجدًا الله، والله لو تعلمون ما أعلم، لضحكتُم قليلًا ولبكيتُم كثيرًا، وما تلذَّذتُم بالنساء على الفُرُش، ولخرجتُم إلى الصُّعُداتِ تَجأَرون إلى الله"، واللهِ لوَدِدتُ أني كنت في شجرةٍ تُعضَدُ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8726 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور میں وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چرچراتا ہے اور اس کا چرچرانے کا حق بھی ہے، اس میں چار انگلیوں کے برابر بھی کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں فرشتہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز نہ ہو، اللہ کی قسم اگر تم وہ سب جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم کم ہنسو اور زیادہ روؤ، اور تم بستروں پر بیویوں سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دو، اور تم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہوئے پہاڑوں کی جانب نکل جاؤ، میری آرزو ہے کہ کاش میں کوئی درخت ہوتا جس کو کاٹ دیا جاتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8941]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8941 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله، مكبَّرًا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (عبید اللہ کا نام) تحریف ہو کر "عبد اللہ" (مکبّر) بن گیا ہے۔
(2) حسن لغيره. وهو مكرر ما سلف برقم (8847).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ "حسن لغیرہ" ہے۔ اور یہ وہی روایت ہے جو نمبر (8847) پر گزر چکی ہے (یعنی مکرر ہے)۔