🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. ذكر وسعة الميزان
میزان (ترازو) کی وسعت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8953
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو زُرْعة عبد الرحمن بن عمرو الدِّمشقي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني عُبيد الله (3) بن المغيرة بن مُعَيقِيب، عن سليمان بن عمرو بن عبدٍ العُتُواري، أحد بني ليثٍ (4) وكان في حَجْر أبي سعيدٍ، عن أبي سعيد الخُدْري قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"يُوضَع الصراطُ بين ظَهْرانَيْ جهنَّم، عليه حَسَكٌ كَحَسَكَ السَّعدانِ، ثم يستجيزُ الناسُ، فناجٍ مُسلَّمٌ، ومجروحٌ به فناجٍ (1) ، ومحتَبَسٌ (2) منكوسٌ فيها، فإذا فَرَغَ اللهُ تعالى من القضايا بين العباد، وتَفقَّدَ (3) المؤمنون رجالًا كانوا في الدنيا يُصلُّون صلاتهم، ويُزكُّون زكاتَهم، ويصومون صيامَهم، ويحجُّون حجَّهم، ويَعْزُون غزوَهم، فيقولون: أيْ ربَّنا عِبادُ من عبادِك كانوا في الدنيا معنا يصلُّون بصلاتنا، ويزكُّون زكاتَنا، ويصومون صيامَنا، ويحجُّون حجّنا، ويَغزُون غزونا، لا نَراهم! قال: يقول: اذهَبوا إلى النار، فمن وَجَدتُموه فيها فأخرِجوه، قال: فيَجِدونَهم وقد أخذَتْهم النارُ على قَدْر أعمالهم، فمنهم من أخذَتْه إلى قَدَميهِ، ومنهم من أخذَتْه إلى رُكبتَيه، ومنهم من أزَّرَتْه، ومنهم من أخذَتْه إلى ثَدْيه، ومنهم من أخذَتْه إِلى عُنقِه ولم تَغْشَ الوجوهَ، قال: فيستخرجونهم فيُطرَحُون في ماءِ الحَيَاة" قيل: يا نبيَّ الله، وما ماءُ الحياة؟ قال:"غُسْلُ أهلِ الجنة، فيَنبُتُون فيها كما تَنبُت الزَّرْعةُ فِي غُثاءِ السَّيل، ثم تَشفَع الأنبياءُ في كلِّ من كان يشهدُ أن لا إله إلَّا الله مُخلِصًا، فيستخرجونهم منها، ثم يَتحنَّنُ الله برحمتِه على من فيها، فما يَترُك فيها عبدًا في قلبه مِثقالُ ذَرَّةٍ من الإيمان إلَّا أخرجه منها" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8738 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہنم کے دو کناروں کے درمیان صراط بچھایا جائے گا، اس کے اوپر سعدان کے کانٹوں کی مانند کانٹے ہوں گے۔ پھر لوگ اس کے اوپر سے گزریں گے، کچھ لوگ سلامتی کے ساتھ نجات پا جائیں گے کچھ لوگوں کے جسم چھل جائیں گے اور کچھ لوگ اوندھے منہ دوزخ میں گر جائیں گے، جب اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلوں سے فارغ ہو گا تو مسلمان کچھ مومنین کو مفقود پائیں گے، وہ لوگ دنیا میں ان کے ہمراہ نمازیں پڑھا کرتے تھے، ان کے ہمراہ زکوۃ دیا کرتے تھے، ان کے ہمراہ روزے رکھا کرتے تھے، ان کے ہمراہ حج کیا کرتے تھے، ان کے ہمراہ جہاد کیا کرتے تھے، وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تیرے بندوں میں سے کچھ بندے ایسے ہیں جو ہمارے ہمراد نمازیں پڑھا کرتے تھے، ہمارے ہمراہ زکاتیں دیا کرتے تھے، ہمارے ہمراہ روزے رکھا کرتے تھے، ہمارے ہمراہ حج کیا کرتے تھے، ہمارے ہمراہ جہاد کیا کرتے تھے، وہ آج ہمیں کہیں نظر نہیں آ رہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جاؤ، دوزخ میں دیکھو، ان میں جو بھی تمہیں وہاں پر ملے اس کو نکال کر لے آؤ، یہ لوگ جائیں گے تو ان کو دوزخ میں پائیں گے، آگ نے ان کے اعمال کے مطابق ان کو جلا دیا ہو گا، ان میں کچھ لوگ قدموں تک جل چکے ہوں گے، کچھ گھٹنوں تک، کچھ کمر تک، کچھ سینے تک اور کچھ گردن تک جل چکے ہوں گے، لیکن ان میں سے کسی کا چہرہ نہیں جھلسا ہو گا، وہ لوگ ان کو نکال کر نہر حیات میں ڈالیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یا نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نہر حیات کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتیوں کے غسل کا دھوون ہے، یہ اس میں اس طرح اگیں گے جیسے سیلاب کے پانی میں فصل اگتی ہے، پھر انبیاء کرام علیہم السلام ایسے لوگوں کی شفاعت کریں گے جنہوں نے سچے دل سے کلمہ پڑھا ہو گا، ان کو دوزخ سے نکال لیں گے، پھر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا اس کو بھی دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8953]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8953 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عبد الله، مكبّرًا، والتصويب من "إتحاف المهرة" (5294) ومصادر ترجمته.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (عبید اللہ کا نام) تحریف ہو کر "عبد اللہ" (مکبّر) بن گیا ہے، درستگی "اتحاف المہرہ" (5294) اور راوی کے حالاتِ زندگی کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(4) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: حدثني ليث.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لیث سے پہلے) لفظ تحریف ہو کر "حدثني ليث" بن گیا ہے۔
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى فمناخ، والتصويب من مصادر التخريج.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ فیناخ) تحریف ہو کر "فمناخ" بن گیا ہے، درستگی تخریج کے مصادر سے کی گئی ہے۔
(2) سقطت الواو من النسخ.
📝 نوٹ / توضیح: نسخوں سے (لفظ وتفقدهم کی) "واؤ" گر گئی ہے۔
(3) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: وتفقدهم، والتصويب من "تلخيص الذهبي".
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں لفظ تحریف ہو کر "وتفقدهم" بن گیا ہے، درستگی "تلخیص الذہبی" سے کی گئی ہے۔
(4) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار صاحب "السيرة" وشيخه عبيد الله بن المغيرة، وأحمد بن خالد لا بأس به، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند محمد بن اسحاق - جو ابن یسار اور "صاحبِ سیرت" ہیں - اور ان کے شیخ عبید اللہ بن المغیرہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔ (راوی) احمد بن خالد میں کوئی حرج نہیں اور ان کی متابعت بھی موجود ہے۔
فقد أخرجه أحمد 17 / (11081) عن إسماعيل بن إبراهيم - وهو ابن عُليَّة. وابن ماجه (4280) من طريق عبد الأعلى بن عبد الأعلى، كلاهما عن محمد بن إسحاق بهذا الإسناد. ورواية ابن ماجه مختصرة بأوله فقط.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے احمد (17/ 11081) نے اسماعیل بن ابراہیم - جو ابن علیہ ہیں - سے، اور ابن ماجہ (4280) نے عبد الاعلیٰ بن عبد الاعلیٰ کے طریق سے تخریج کیا ہے، اور یہ دونوں محمد بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ ابن ماجہ کی روایت صرف ابتدائی حصے پر مشتمل مختصر ہے۔