🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. ذكر وسعة الميزان
میزان (ترازو) کی وسعت کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8954
حدثني محمد بن صالح بن هانئ حدثنا المسيَّب بن زهير، حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أبي عثمان، عن سَلْمان، عن النبي ﷺ قال:"يُوضَعُ الميزانُ يومَ القيامة، فلو دُرِئَ فيه السماواتُ والأرضُ لوَسِعَت، فتقول الملائكة: يا ربِّ، لمن يَزِنُ هذا؟ فيقول الله ﵎: لمن شئتُ من خَلْقي (1) ، فتقول الملائكة: سبحانَك ما عَبَدْناك حقَّ عبادتِك، ويُوضَع الصِّراطُ مثلَ حدِّ المُوسَى، فتقول الملائكة: مَن تُنْجي مِن على هذا؟ فيقول: مَن شئتُ من خَلْقِي، فيقولون: سبحانَك ما عَبَدْناك حقَّ عبادتِك" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8739 - على شرط مسلم
سیدنا سلمان روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن میزان رکھا جائے گا، (وہ اس قدر وسیع ہے کہ) اگر اس میں ساتوں آسمان اور زمین بھی رکھ دی جائے تو اس میں سما جائے گی، فرشتے عرض کریں گے: اے ہمارے رب! یہ کس کے لئے ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میری مخلوق میں سے جس کے لئے میں چاہوں گا، فرشتے کہیں گے: تیری ذات پاک ہے، ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے، اور پل صراط بچھایا جائے گا جو کہ تلوار کی دھار سے بھی زیادہ تیز ہو گا، فرشتے عرض کریں گے: یا اللہ! تو اس پر سے کس کو گزارے گا؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں اپنی مخلوقات میں سے جس کو چاہوں گا گزاروں گا، فرشتے کہیں گے: تیری ذات پاک ہے، ہم تیری عبادت کا حق ادا نہیں کر سکے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8954]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8954 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) من قوله: "فتقول الملائكة" إلى هنا سقط من (ز) و (ب).
📝 نوٹ / توضیح: الفاظ "فتقول الملائكة" سے لے کر یہاں تک کی عبارت نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط ہے۔
(2) صحيح موقوفًا، تفرَّد المسيب بن زهير عن هدبة بن خالد عن حماد بن سلمة برفعه، فجمهور أصحاب حماد رووه موقوفًا، فالغالب أنَّ الذي وهمَ في رفعه هو المسيب بن زهير، فهو مستور الحال، وقد سلف الكلام عليه عند الحديث رقم (1437). وهذا الخبر وإن كان موقوفًا فإنَّ له حكم الرفع، فمثله لا يقال من قِبَل الرأي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "موقوفاً صحیح" ہے۔ مسیب بن زہیر، ہدبہ بن خالد عن حماد بن سلمہ سے اسے "مرفوع" بیان کرنے میں منفرد ہیں، جبکہ حماد کے شاگردوں کی اکثریت (جمہور) نے اسے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔ غالب گمان یہی ہے کہ اسے مرفوع بیان کرنے میں "مسیب بن زہیر" کو وہم ہوا ہے، اور وہ "مستور الحال" ہیں، ان پر کلام حدیث نمبر (1437) کے تحت گزر چکا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: یہ خبر اگرچہ موقوف ہے لیکن یہ "حکماً مرفوع" ہے، کیونکہ ایسی باتیں (غیب کی خبریں) اپنی رائے سے نہیں کہی جا سکتیں۔
وأخرجه أسد بن موسى في "الزهد" (43) و (66) عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد موقوفًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسد بن موسیٰ نے "الزہد" (43، 66) میں حماد بن سلمہ سے اسی سند کے ساتھ "موقوفاً" تخریج کیا ہے۔
وأخرجه موقوفًا أيضًا ابن أبي شَيْبة 13/ 178، وابن الأعرابي في "معجمه" (1827)، والآجري في "الشريعة" (894) و (895)، واللالكائي في "أصول الاعتقاد (2208) و (2221) من طرق عن حماد بن سلمة به وتحرَّف "ثابت" في الموضعين عند اللالكائي إلى: ليث.
📖 حوالہ / مصدر: اسے "موقوفاً" ہی ابن ابی شیبہ (13/ 178)، ابن الاعرابی نے "المعجم" (1827)، آجری نے "الشریعہ" (894، 895) اور لالکائی نے "اصول الاعتقاد" (2208، 2221) میں حماد بن سلمہ سے متعدد طرق کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: لالکائی کے ہاں دونوں جگہوں پر لفظ "ثابت" تحریف ہو کر "لیث" بن گیا ہے۔
قوله: "دُرئ فيه" أي: دُفع إليه.
📝 نوٹ / توضیح: قول "دُرئ فيه" کا مطلب ہے: اس کی طرف دھکیلا گیا / دیا گیا۔