🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
28. تقسيم النور على قدر أعمالهم
نور کی تقسیم لوگوں کے اعمال کے مطابق ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8965
حدثنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن أيوب السَّخِتياني، عن ابن سِيرين، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يَلقَى رجلٌ أباه يومَ القيامة، فيقول له: يا أبتِ، أيَّ ابنٍ كنت لك؟ فيقول: خيرَ ابنٍ، فيقول: هل أنت مُطيعي اليومَ؟ فيقول: نعم، فيقول: خُذْ بإزْرَتي، فيأخذُ بإزرتِه، ثم ينطلقُ حتى يأتيَ الله ﵎ وهو يَعرِضُ الخلقَ، فيقول: يا عَبْدي ادخُلْ من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أي ربِّ، فأَبي معي؟ فإنك وعدتني أن لا تُخزِيَني، قال: فيُعرِضُ عنه، ثم يقول يا عبدي، ادخُلْ من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أي ربِّ، فأَبي معي؟ فإنك وعدتَني أن لا تُخزِيَني، قال: فيُعرِضُ عنه، ثم يقول: يا عبدي، ادخُل من أيِّ أبوابِ الجنة شئتَ، فيقول: أيْ ربِّ، وأَبي معي؟ فإنك وعدتنَي أن لا تُخزِيَني، قال: فيَمَسَخُ الله أباه ضَبُعًا، فيَهوِي في النار، فيأخذُ بأنفِه، فيقول الله ﵎: يا عَبْدي، أبوك هو؟ فيقول: لا وعِزَّتِك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8750 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی قیامت کے دن اپنے باپ سے ملے گا، اس سے کہے گا: اے میرے والد! میں تیرا کیسا بیٹا تھا؟ وہ کہے گا: تو میرا بہت اچھا بیٹا تھا، وہ کہے گا: کیا آج تو میری بات مانے گا: وہ کہے گا: جی ہاں۔ بیٹا کہے گا: میرا دامن پکڑ لو، وہ اپنے بیٹے کا دامن پکڑ لے گا، پھر یہ چلتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں پہنچے گا، اللہ تعالیٰ مخلوق ہی کی جانب متوجہ ہو گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے جنت کے جس دروازے سے تیرا دل کرے تو داخل ہو جا، وہ کہے گا: اے میرے رب میرے ساتھ میرا باپ بھی ہے، اور تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے غمزدہ نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اللہ تعالیٰ اس کے باپ کو بجو کی شکل بنا دے گا، وہ اس سے چھوٹ کر دوزخ میں جا گرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو ناک سے پکڑ کر فرمائے گا: اے میرے بندے! کیا یہی تیرا باپ ہے؟ بندہ کہے گا: تیری عزت کی قسم ہے یہ میرا باپ نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8965]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8965 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شيخ المصنف عبد الرحمن بن الحسن القاضي، لكنه متابع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، لیکن یہ (مخصوص) سند مصنف کے شیخ "عبد الرحمن بن الحسن القاضی" کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، البتہ وہ "مُتابَع" ہیں (یعنی ان کی تائید موجود ہے)۔
فقد أخرجه البزار (9864) عن ميمون بن الأصبغ، وأبو نعيم في "الطب النبوي" (339) من طريق محمد بن أبي الحسين القُومسي، كلاهما عن آدم بن أبي إياس، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار (9864) نے میمون بن الاصبغ سے، اور ابو نعیم نے "الطب النبوی" (339) میں محمد بن ابی الحسین القومسی کے طریق سے تخریج کیا ہے، اور یہ دونوں (میمون اور محمد) اسے آدم بن ابی ایاس سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (3599)، وأبو نعيم (338) من طريق هدبة بن خالد، عن حماد بن سلمة، عن أيوب وهشام بن حسان، عن محمد بن سيرين به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الاوسط" (3599) اور ابو نعیم (338) نے ہدبہ بن خالد کے طریق سے، حماد بن سلمہ سے، انہوں نے ایوب اور ہشام بن حسان سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔
وذكر هدبة له إسنادًا آخر عند الطبراني، فقد رواه عن حماد بن سلمة أيضًا، عن ثابت البناني، عن عبد الله بن رباح الأنصاري، عن النبي ﷺ مرسلًا.
🧾 تفصیلِ روایت: طبرانی کے ہاں ہدبہ نے اس کی ایک اور سند بھی ذکر کی ہے، چنانچہ انہوں نے اسے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے ثابت البنانی سے، انہوں نے عبد اللہ بن رباح الانصاری سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے "مرسلاً" روایت کیا ہے۔
وأصل الحديث عند البخاري في "صحيحه" (3350) من حديث ابن أبي ذئب عن سعيد المقبري عن أبي هريرة عن النبي ﷺ قال: "يلقى إبراهيمُ أباه آزرَ يوم القيامة … " وذكر نحوه.
📖 حوالہ / مصدر: حدیث کی "اصل" صحیح بخاری (3350) میں ابن ابی ذئب عن سعید المقبری عن ابی ہریرہ کی حدیث سے موجود ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: "قیامت کے دن ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد آزر سے ملیں گے..." اور پھر اسی طرح ذکر کیا۔