🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. رجوع الناس للشفاعة إلى الأنبياء عليهم السلام
لوگوں کا سفارش (شفاعت) کے لیے انبیاء علیہم السلام کی طرف رجوع کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8964
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أبو مالك سعد بن طارق الأشجَعيّ، عن رِبْعيّ بن حِرَاش، عن حُذَيفة بن اليَمَان وأبي هريرة قالا: قال رسول الله ﷺ:"يَجمَعُ اللَّهُ الناسَ، فيقومُ المؤمنون حين تُزلَفُ الجنةُ، فيأتون آدمَ ﵇ فيقولون: يا أبانا، استفِتحْ لنا الجنةَ، فيقول: وهل أخرَجَكم من الجنة إلَّا خطيئةُ أبيكم؟ لستُ بصاحب ذاكَ، اعْمِدُوا إلى إبراهيمَ خليلِ ربِّه، فيقول إبراهيم: لستُ بصاحبِ ذاك، إنما كنتُ خليلًا من وراءَ وراءَ، اعمِدُوا إلى النبي موسى الذي كَلَّمه اللهُ تكليمًا، فيأتون موسى فيقول: لستُ بصاحبِ ذاك، اذهبوا إلى كلمةِ الله ورُوحِه عيسى، فيقول عيسى: لستُ بصاحبِ ذاك، فيأتون محمدًا ﷺ، فيقومُ فيُؤذَنُ له، ويُرسَل معه الأمانةُ والرَّحِمُ، فيقفانِ بالصِّراط يمينَه وشِمالَه، فيمرُّ أوّلُكم كمَرِّ البَرْق" قلت: بأبي وأمِّي، أيُّ شيءٍ مرُّ البرق؟ قال:"ألم ترَ إلى البرقِ كيف يمرُّ ثم يَرجِعُ في طَرْفةٍ، ثم كمَرِّ الريح، ومرِّ الطَّيرِ، وشدِّ الرِّجال تَجْري بهم أعمالُهم، ونبيُّكم قائمٌ على الصِّراط: ربِّ سلِّمْ سلِّمْ، قال: حتى تُعجِزَ أعمالُ الناس، حتى يجيءَ الرجلُ فلا يستطيع أن يمرَّ إِلَّا زَحْفًا، قال: وفي حافَتَيِ الصراطِ كلاليبُ معلَّقةٌ مأمورةٌ تأخذ من أُمِرَت به، فمخدوشٌ ناج، ومُكردَسٌ في النار". والذي نفسُ أبي هريرة بيدِه إن قَعْرَ جَهَنَّمَ لِسبعينَ خريفًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8749 - على شرط البخاري ومسلم
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ لوگوں کو جمع فرمائے گا، جب جنت سنواری جائے گی تب مومنین کھڑے ہوں گے، یہ سب سیدنا آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: اے ہمارے والد محترم، ہمارے لئے جنت کھلوایئے، آپ فرمائیں گے: تمہیں تمہارے باپ آدم کی خطاء ہی نے تو جنت سے نکلوایا تھا، میں یہ کام نہیں کر سکتا، تم سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس چلے جاو، سب لوگ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ جائیں گے، سیدنا ابراہیم علیہ السلام بھی فرمائیں گے کہ میں تمہارا یہ کام نہیں کر سکتا، میں تو خلیل ہوں، بہت پیچھے ہوں، تم سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ تعالیٰ سے ہمکلام ہوتے رہے ہیں، سب لوگ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے، سیدنا موسیٰ علیہ السلام بھی فرمائیں گے کہ میں تمہارا یہ کام نہیں کر سکتا، تم کلمة اللہ، اور روح اللہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے پاس چلے جاؤ، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے: میں تمہارا یہ کام نہیں کر سکتا، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جاؤ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوں گے، آپ کو اذن شفاعت ملے گا، آپ کے ہمراہ امانت اور رحم کو بھیجا جائے گا، یہ دونوں پل صراط پر دائیں اور بائیں کھڑے ہو جائیں گے، (پھر امت محمدیہ گزرنا شروع ہو گی) سب سے پہلا شخص مرالبرق (بجلی کی چمک) کی طرح گزر جائے گا، میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں یہ مرالبرق کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے بجلی کو نہیں دیکھا؟ یہ کتنی جلدی گزر کر پلک جھپکنے میں ہی واپس آ جاتی ہے، پھر کچھ لوگ ہوا کی مانند گزریں گے، کچھ لوگ پرندوں کی طرح اور کچھ لوگ سواروں کی طرح گزریں گے۔ ان کے اعمال ان کو لے کر جا رہے ہوں گے، ان کا نبی پل صراط پر کھڑا رب سلم سلم کی دعائیں کر رہا ہو گا، حتی کہ لوگوں کے اعمال کمزور ہوتے جائیں گے، پھر ایک آدمی آئے گا جو گھسٹ گھسٹ کر گزر رہا ہو گا، پل صراط کے کناروں پر لوہے کے کنڈے لٹک رہے ہوں گے، ان کو اس بات کا پابند کیا گیا ہو گا کہ جس کے بارے میں انہیں حکم ہو، یہ اس کو پکڑ لیں۔ کچھ لوگوں کے جسم چھل جائیں گے لیکن وہ نجات پا جائیں گے اور کچھ لوگ دوزخ میں جا گریں گے۔ اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوہریرہ کی جان ہے جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8964]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8964 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح، لكن ذكر أبي هريرة مجموعًا إلى حذيفة فيه من رواية ربعي بن حراش عنهما وهمٌ، وهمَ فيه مَن دون أبي مالك الأشجعي، والصواب أن لأبي مالك فيه إسنادين.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: البتہ اس میں ربعی بن حراش کی روایت میں ابوہریرہ کا ذکر حذیفہ کے ساتھ ملا کر کرنا ایک "وہم" (غلطی) ہے۔ یہ وہم ابو مالک الاشجعی سے نچلے راوی کو ہوا ہے۔ درست بات یہ ہے کہ اس حدیث میں ابو مالک کے پاس دو الگ الگ سندیں ہیں۔
فقد أخرجه مسلم (195) من طريق محمد بن فضيل، عن أبي مالك الأشجعي، عن أبي حازم سلمان الأشجعي، عن أبي هريرة. وعن أبي مالك، عن ربعي، عن حذيفة. واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے مسلم (195) نے محمد بن فضیل کے طریق سے، انہوں نے ابو مالک الاشجعی سے، انہوں نے (دو سندوں سے) روایت کیا: (1) ابو حازم سلمان الاشجعی سے، انہوں نے ابوہریرہ سے۔ (2) اور ابو مالک نے ربعی سے، انہوں نے حذیفہ سے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں لانا اور بخاری و مسلم پر) استدراک کرنا ان کی بھول (ذہول) ہے۔