المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. ما من مسلمين يموت لهما أربعة إلا أدخلهم الله الجنة
جن مسلمان والدین کے چار بچے (فوت ہو جائیں)، اللہ انہیں جنت میں داخل فرمائے گا
حدیث نمبر: 8969
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وَهْب، حدثني عمرو بن الحارث، عن دَرَّاج أبي السَّمْح، أنه سمع عبد الله بن الحارث بن جَزْءٍ الزُّبَيدي، صاحبَ النبي ﷺ، يقول عن رسول الله ﷺ:"إنَّ في النار لحيّاتٍ مثلَ أعناق البُخْت، يَلسَعَن أحدَهم اللَّسعةَ فيجدُ حَمْوَها أربعين خريفًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8754 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8754 - صحيح
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دوزخ میں بختی اونٹوں کی گردنوں کے برابر سانپ ہیں، یہ کسی کو ایک مرتبہ ڈس لیں تو اس کا درد چالیس سال تک محسوس ہوتا رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8969]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8969 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف لتفرد دراج أبي السمح به، وهو إنما يعتبر به في المتابعات والشواهد.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند "دراج ابو السمح" کے تفرد کی وجہ سے "ضعیف" ہے، ان کی روایات کا اعتبار صرف متابعات اور شواہد میں کیا جاتا ہے۔
وأخرجه ابن حبان (7471) من طريق حرملة بن يحيى، عن ابن وَهْب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے ابنِ حبان (7471) نے حرملہ بن یحییٰ کے طریق سے، (عبداللہ) بن وہب سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (29/ (17712) من طريق عبد الله بن لهيعة، عن دراج، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (17712/29) نے عبداللہ بن لہیعہ کے طریق سے، دراج سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
حَمْوها: سمّها.
📝 نوٹ / توضیح: "حَمْوُهَا" کا مطلب ہے: اس کا زہر (یا اس کی تپش)۔