المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
37. السور الذى ذكره الله تعالى فى القرآن
اس دیوار (سور) کا تذکرہ جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا ہے
حدیث نمبر: 8990
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فِراس المالكي الفقيه بمكة - حَرَسَها الله - في المسجد الحرام، حدثنا بكر بن سهل الدِّمياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا سعيد بن عبد العزيز، عن عَطيَّة بن قيس، عن أبي العوَّام مؤذِّن بيت المَقدِس، قال: سمعتُ عبد عبد الله بن عمرو يقول: إِنَّ السُّور الذي ذَكَرَه الله في القرآن: ﴿فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ﴾ [الحديد:13] ، وهو السور الشَّرقي، باطنُه المسجدُ وما يَليهِ، وظاهرُه وادي جهنَّم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8776 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8776 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن كریم كی آیت {فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوَرٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ} [الحديد: 13] ” ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے اس کے اندر کی طرف رحمت اور اس کے باہر کی طرف عذاب “ میں جس دیوار کا ذکر کیا ہے وہ مشرقی دیوار ہے، اس کی اندر کی جانب مسجد ہے، اور اس کے باہر کی جانب دوزخ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8990]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8990 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف ومتنه منكر، أبو العوّام هذا مجهول الحال، وذكره ابن حبان في "ثقاته" 5/ 564. وسعيد بن العزيز التنوخي على ثقته اختلط في آخر عمره.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند ضعیف اور متن "منکر" ہے۔ یہ ابو العوام مجہول الحال ہیں، ابن حبان نے انہیں "الثقات" 5/ 564 میں ذکر کیا ہے۔ اور سعید بن العزیز التنوخی اپنی ثقاہت کے باوجود آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔
وأخرجه الطبري 27/ 225 من طريق عمرو بن أبي سلمة، عن سعيد بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے طبری 27/ 225 نے عمرو بن ابی سلمہ کے طریق سے، سعید بن عبدالعزیز سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (3828).
📖 حوالہ / مصدر: اور ملاحظہ فرمائیں جو پہلے نمبر (3828) پر گزر چکا ہے۔
ومتن هذا الخبر منكر، فهو يخالف السِّياق والسِّباق للآيات من سورة الحديد، فإنها صريحة بأنَّ المراد بذلك السور حائط بين الجنة والنار كما روي عن غير واحد كالحسن البصري وقتادة، وهو الصحيح كما قال ابن كثير في "تفسيره" 8/ 43، ثم قال: هو سورٌ يُضرب يوم القيامة يحجز بين المؤمنين والمنافقين، فإذا انتهى إليه المؤمنون دخلوه من بابه، فإذا استكملوا دخولهم أُغلق الباب وبقي المنافقون من ورائه في الحَيْرة والظُّلمة والعذاب، كما كانوا في الدار الدنيا في كفر وجهل وشك وحَيرة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس خبر کا متن "منکر" ہے، کیونکہ یہ سورہ حدید کی آیات کے سیاق و سباق کے خلاف ہے۔ آیات اس بات میں صریح ہیں کہ اس دیوار سے مراد جنت اور جہنم کے درمیان ایک رکاوٹ ہے، جیسا کہ حسن بصری اور قتادہ وغیرہ سے مروی ہے، اور یہی صحیح ہے جیسا کہ ابن کثیر نے اپنی "تفسیر" 8/ 43 میں فرمایا۔ پھر ابن کثیر نے کہا: "یہ ایک دیوار ہے جو قیامت کے دن کھڑی کی جائے گی جو مومنین اور منافقین کے درمیان رکاوٹ بنے گی، جب مومن اس تک پہنچیں گے تو اس کے دروازے سے داخل ہو جائیں گے، اور جب وہ مکمل داخل ہو جائیں گے تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، اور منافقین اس کے پیچھے حیرت، تاریکی اور عذاب میں رہ جائیں گے، بالکل اسی طرح جیسے وہ دنیا میں کفر، جہالت، شک اور حیرانی میں مبتلا تھے۔"