المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. أقل ساكني الجنة النساء
جنت میں رہنے والوں میں عورتوں کی تعداد سب سے کم ہوگی
حدیث نمبر: 8996
حدثنا عبد الرحمن بن الحسن بن أحمد بن محمد بن عُبيدٍ الأَسَدي، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيل، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، حدثنا أبو جعفر الخَطْمي، عن عُمَارة بن خُزَيمة بن ثابت قال: كنا مع عمرو بن العاص في حجٍّ أو عُمرة، فإذا امرأةٌ في يدها خواتيمُها وقد وَضَعَت يدها على هَودجِها، فدخل عمرو بن العاص شِعْبًا، ثم قال: كنا مع رسول الله ﷺ في هذا الشِّعب، فإذا غِربانٌ كثيرةٌ، وإذا غرابٌ أعصَمُ أحمرُ المِنْقارِ والرَّجلين، فقال رسول الله ﷺ:"لا يدخلُ الجنةَ من النساء إلَّا كقَدْرِ هذا الغُراب في هذه الغِرْبان" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عمارہ بن خزیمہ بن ثابت فرماتے ہیں: ہم کسی حج یا عمرے کے موقع پر سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، ہم نے ایک عورت دیکھی جس کے ہاتھ میں انگوٹھیاں تھیں، اس نے اپنا ہاتھ ہودج (کجاوے) پر رکھا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما وادی میں اترے پھر فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ اسی وادی میں تھے، یہاں بہت سارے کوے تھے، ان میں ایک کوا ایسا تھا جس کی چونچ اور پاؤں سرخ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں جانے والی عورتوں کا تناسب اتنا ہی ہو گا جتنا ان کووں میں اس کوے کا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8996]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8996 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، عبد الرحمن بن الحسن شيخ المصنف ضعيف، لكنه لم ينفرد به، ومن فوقه ثقات. وانظر الحديث السابق.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف (حاکم) کے شیخ عبدالرحمٰن بن الحسن ضعیف ہیں، لیکن وہ اس روایت میں منفرد نہیں ہیں، اور ان سے اوپر والے تمام راوی ثقات ہیں۔ پچھلی حدیث ملاحظہ فرمائیں۔