🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
40. صفة ماء كالمهل
پگھلے ہوئے تانبے (مہل) جیسے پانی کی صفت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9000
حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن فراس الفقيه بمكة حَرَسَها الله، حدثنا بكر بن سهل الدِّمْياطي، حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا سعيد بن عبد العزيز التَّنُوخي، عن زياد بن أبي سَوْدة قال: كان عبادةُ بن الصامت على سور بيتِ المَقدِس الشَّرقي يَبكي، فقال بعضهم: ما يبكيك يا أبا الوليد؟ فقال: من هاهنا أخبرنا رسولُ الله ﷺ أنه رأى جهنَّمَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8785 - صحيح
زیاد بن ابی سودہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی مشرقی دیوار پر بیٹھے رو رہے تھے، کسی نے کہا: اے ابوالولید! آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: یہاں پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوزخ کو دیکھ رہے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 9000]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 9000 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله ثقات غير بكر بن سهل الدمياطي فإنه ضعيف، إلَّا أنه لم ينفرد به، فقد روي هذا الخبر من غير وجه عن سعيد بن عبد العزيز عن زياد بن أبي سودة، وزياد هذا روايته عن عبادة مرسلة كما سلف بيانه وتخريجه عند الرواية المتقدمة برقم (3828).
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے بکر بن سہل الدمیاطی کے کیونکہ وہ ضعیف ہیں، تاہم وہ اس میں منفرد نہیں ہیں؛ کیونکہ یہ خبر متعدد طریقوں سے سعید بن عبدالعزیز سے، (وہ) زیاد بن ابی سودہ سے مروی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یہ زیاد جو ہیں ان کی عبادہ (بن صامت) سے روایت "مرسل" (منقطع) ہے، جیسا کہ روایت نمبر (3828) کے تحت اس کا بیان اور تخریج گزر چکی ہے۔