المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
47. تحشر هذه الأمة على ثلاثة أصناف
یہ امت تین گروہوں کی صورت میں محشر میں لائی جائے گی
حدیث نمبر: 9009
أخبرني عَبْدانُ بن يزيد الدَّقاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا أبو طلحة الراسِبي، عن غَيْلان بن جَرير، عن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال:"تُحشَرُ هذه الأمة على ثلاثة أصنافٍ: صنفٍ يدخلون الجنةَ بغير حساب، وصنفٍ يُحاسبون حسابًا يسيرًا، وآخرين يَجيئون (1) على ظُهورِهم أمثالُ الجبال الراسيَة، فيسأل الله عنهم -وهو أعلمُ- فيقول: هؤلاءِ عَبيدٌ من عَبيدي لم يُشرِكوا بي شيئًا، وعلى ظهورِهم الخطايا والذنوبُ، حُطُّوها واجعلوها على اليهود والنصارى، وادخُلوا الجنةَ بَرحْمتي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8794 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8794 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا تین گروہوں میں حشر ہو گا، ایک جماعت بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گی، ایک جماعت سے ہلکا پھلکا حساب لیا جائے گا، اور ایک اور جماعت ہو گی وہ اپنی پشت پر بلند و بالا پہاڑوں کی مانند گناہ لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا حالانکہ وہ سب کچھ بہت اچھی طرح خود جانتا ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ میرا وہ بندہ ہے جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تھا، اگرچہ ان کی پشت پر گناہوں اور خطاؤں کا انبار موجود ہے، لیکن ان کے گناہ ان سے ہٹا کر یہودیوں اور نصرانیوں پر ڈال دیئے جائیں اور اس کو میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 9009]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 9009 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) قوله: "وآخرين يجيئون" هذا أقرب شيء يقرأ به هذا الحرف في (ز) و (ب)، ووقع مكانه بياض في (م)، وفي (ك) مكانه: وصنف على ظهورهم ....
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) قول: "وَآخَرِينَ يَجِيئُونَ"؛ نسخہ (ز) اور (ب) میں اس حرف (لفظ) کا قریب ترین پڑھا جانے والا یہی متن ہے، جبکہ نسخہ (م) میں اس کی جگہ بیاض ہے، اور (ک) میں اس کی جگہ "وصنف على ظهورهم..." ہے۔
(2) ضعيف بهذا اللفظ كما سلف بيانه وتحقيقه عند المصنف برقم (194).
⚖️ درجۂ حدیث: (2) ان الفاظ کے ساتھ یہ ضعیف ہے جیسا کہ مصنف کے ہاں نمبر (194) کے تحت اس کا بیان اور تحقیق گزر چکی ہے۔