المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
47. تُحْشَرُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ
یہ امت تین گروہوں کی صورت میں محشر میں لائی جائے گی
حدیث نمبر: 9008
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا الحسن بن علي بن شَبيب، حدثنا عبيد الله بن محمد التَّيْمي، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا أبو حمزة، عن إبراهيم، عن عَلقَمة، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أُتِيتُ بالبُرَاق، فركبتُ خلفَ جبريل ﵇، فسارَ بنا، فكان إذا أَتى على جبلٍ (3) إذا ارتفع ارتفَعَت رِجْلاه، وإذا هَبَطَ ارتفعت يداه، قال: فسار بنا في أرض غُمّةٍ (1) مُنتِنةٍ، حتى أفضَيْنا إلى أرض فَيْحاءَ طيِّبة، فقلت: يا جبريلُ، إنا كنا نسيرُ في أرضِ غُمّةٍ مُنتِنة، ثم أفضَيْنا إلى أرض فيحاءَ طيّبة، قال: تلك أرضُ النار، وهذه أرضُ الجنة، قال: فأتيتُ على رجل قائم يصلَّي، فقال: مَن هذا معك يا جبريلُ؟ قال: هذا أخوك محمدٌ، فرحَّبَ بي ودعا لي بالبَرَكة، وقال: سَلْ لأمَّتِك اليُسْرَ، فقلت: مَن هذا يا جبريل؟ فقال: هذا أخوك عيسى ابنُ مريمَ، قال: فسِرْنا فسمعتُ صوتًا وتذمُّرًا، فأَتينا على رجل فقال: مَن هذا يا جبريلُ؟ قال: هذا أخوك محمدٌ [فرحَّب بي ودعا لي بالبَرَكة، وقال: سَلْ لأمّتِك اليُسْرَ، فقلت: مَن هذا يا جبريلُ؟ فقال: هذا أخوك موسى] (2) قال: قلت: على من كان تذمُّرُه وصوته؟ قال: على ربِّه، قلت: على ربِّه؟! قال: نعم، قد يُعرَفُ ذلك من حِدَّتِه، قال: ثم سرنا فرأيت مصابيحَ (3) وضَوْءًا، قال: قلت: ما هذا يا جبريلُ؟ قال: هذه شجرةُ أبيك إبراهيم، أتَدنُو منها؟ قال: قلت: نعم، فدَنَوْنا، فرَحَّب بي ودعا لي بالبَرَكة، ثم مَضَيْنا حتى أتَينا بيتَ المَقدِس، فرَبَطتُ الدابةَ بالحلقة التي يَربطُ بها الأنبياءُ، ثم دخلتُ المسجدَ فَبَشَرَت بي (4) الأنبياء مَن سَمَّى اللهُ ﷿ منهم ومن لم يُسمِّ، فصلَّيتُ بهم إلَّا هؤلاءِ النَّفَرَ الثلاثةَ: إبراهيم وموسى وعيسى ﵈" (5) .
هذا حديث تفرَّد به أبو حمزة الأعورُ ميمونٌ، وقد اختلفت أقاويلُ أئمَّتِنا فيه، وقد أتى بزيادات لم يُخرجها الشيخان ﵄ في ذِكْر المعراج.
هذا حديث تفرَّد به أبو حمزة الأعورُ ميمونٌ، وقد اختلفت أقاويلُ أئمَّتِنا فيه، وقد أتى بزيادات لم يُخرجها الشيخان ﵄ في ذِكْر المعراج.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس براق لایا گیا، میں جبریل امین علیہ السلام کے پیچھے اس پر سوار ہو گیا، وہ ہمیں لے کر روانہ ہوا، وہ جب اوپر اٹھتا تو اس کے پاؤں بھی اوپر اٹھتے، اور جب وہ نیچے آتا تو اس کے ہاتھ بلند ہوتے، یہ ہمیں ایک تاریک اور بدبودار جگہ لے گیا، پھر جب ہم خوشگوار زمین میں پہنچے تو میں نے کہا: اے جبریل ہم پہلے تاریک اور بدبودار جگہ سے گزرے پھر اس خوشبودار مقام پر آ گئے، یہ کون سے مقامات ہیں؟ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے کہا: وہ دوزخ کی زمین تھی اور یہ جنت کی جگہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک آدمی کے پاس پہنچا وہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا، اس نے پوچھا: اے جبریل! یہ تیرے ساتھ کون ہیں؟ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے کہا: یہ آپ کے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، انہوں نے خوش آمدید کہا اور میرے لئے برکت کی دعا کی، اور مجھ سے کہا: آپ اپنی امت کے لئے آسانی مانگنا، میں نے پوچھا: جبریل! یہ کون ہیں؟ جبریل امین علیہ السلام نے بتایا کہ وہ آپ کے بھائی سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں، پھر آگے بڑھ گئے، میں نے کچھ لوگوں کی آوازیں سنی، میں ان میں سے ایک آدمی کے پاس آیا، اس نے کہا: اے جبریل علیہ السلام، یہ کون ہیں؟ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے کہا: یہ آپ کے بھائی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، انہوں نے بھی خوش آمدید کہا، اور میرے لئے برکت کی دعا فرمائی، اور مجھ سے کہا: اپنی امت کے لئے آسانی مانگنا، میں نے پوچھا اے جبریل! یہ کون ہے؟ سیدنا جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ آپ کے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ میں نے کیا۔ ان کی آواز جو آ رہی تھی وہ کیا تھی؟ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے کہا: وہ اپنے رب سے ہم کلام ہو رہے تھے، میں نے پوچھا: اپنے رب سے؟ جبریل نے کہا: جی ہاں۔ اس وجہ سے ان کی طبیعت کی شدت بالکل بجا ہے، ہم مزید آگے بڑھ گئے، ہم نے کچھ قندیلیں روشن دیکھیں، میں نے پوچھا: جبریل! یہ کیا ہے؟ سیدنا جبریل امین علیہ السلام نے بتایا کہ آپ کے دادا سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا درخت ہے، کیا آپ اس کے قریب جانا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ ہمیں ان کے قریب کر دیا گیا، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لئے برکت کی دعا کی، پھر ہم آگے بڑھ گئے اور بیت المقدس پہنچ گئے، اور جہاں پر انبیاء کرام علیہم السلام اپنے جانور باندھا کرتے تھے وہاں پر ہم نے براق کو باندھا، پھر میں مسجد میں داخل ہو گیا، وہاں پر تمام انبیاء کرام موجود تھے جن کے نام بیان کئے گئے ہیں وہ بھی موجود تھے اور جن کے نام نہیں بیان کئے گئے وہ بھی وہاں موجود تھے، میں نے ان سب کو نماز پڑھائی سوائے تین لوگوں کے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام، سیدنا موسیٰ علیہ السلام، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام۔ ٭٭ ابوحمزہ میمون الاعور اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ ہمارے ائمہ کے اقوال اس بارے میں مختلف ہیں، اس میں وہ اضافے موجود ہیں جن کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر معراج میں نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9008]
حدیث نمبر: 9009
أخبرني عَبْدانُ بن يزيد الدَّقاق بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا أبو طلحة الراسِبي، عن غَيْلان بن جَرير، عن أبي بُرْدة، عن أبيه، عن النبي ﷺ قال:"تُحشَرُ هذه الأمة على ثلاثة أصنافٍ: صنفٍ يدخلون الجنةَ بغير حساب، وصنفٍ يُحاسبون حسابًا يسيرًا، وآخرين يَجيئون (1) على ظُهورِهم أمثالُ الجبال الراسيَة، فيسأل الله عنهم -وهو أعلمُ- فيقول: هؤلاءِ عَبيدٌ من عَبيدي لم يُشرِكوا بي شيئًا، وعلى ظهورِهم الخطايا والذنوبُ، حُطُّوها واجعلوها على اليهود والنصارى، وادخُلوا الجنةَ بَرحْمتي" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8794 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8794 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوبردہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت کا تین گروہوں میں حشر ہو گا، ایک جماعت بغیر حساب کے جنت میں داخل ہو گی، ایک جماعت سے ہلکا پھلکا حساب لیا جائے گا، اور ایک اور جماعت ہو گی وہ اپنی پشت پر بلند و بالا پہاڑوں کی مانند گناہ لے کر آئیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا حالانکہ وہ سب کچھ بہت اچھی طرح خود جانتا ہے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ میرا وہ بندہ ہے جس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تھا، اگرچہ ان کی پشت پر گناہوں اور خطاؤں کا انبار موجود ہے، لیکن ان کے گناہ ان سے ہٹا کر یہودیوں اور نصرانیوں پر ڈال دیئے جائیں اور اس کو میری رحمت سے جنت میں داخل کر دو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْأَهْوَالِ/حدیث: 9009]