المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
49. ذكر مبلغ العرق من ابن آدم يوم القيامة
قیامت کے دن ابنِ آدم کے پسینے کی مقدار کا تذکرہ
حدیث نمبر: 9011
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمْرَوَيهِ الصَّفّار ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني (1) ، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا يحيى بن سَلَمة بن كُهَيل، عن أبيه، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر، أنه كان يقول: أَطَلَعَت الحمراءُ بعدُ؟ فإذا رآها قال: لا مَرحبًا، ثم قال: إنَّ مَلكين من الملائكة، هَارُوتَ وَمَارُوتَ، سَأَلَا اللهَ تعالى أن يَهبِطا إلى الأرض، فأهبطا إلى الأرض، فكانا يَقضِيان بين الناس، فإذا أمسيَا تكلَّما بكلماتٍ وعَرَجا بها إلى السماء، فقُيِّضَ لهما بامرأةٍ من أحسن الناس، وأُلقيت عليهما الشَّهوةُ، فجعلا يؤخِّرانها، وأُلقيت في أنفُسِهما، فلم يزالا يفعلانِ حتى وَعَدَتهما ميعادًا، فأتتهما للميعادِ فقالت: علِّماني الكلمةَ التي تَعرُجانِ بها، فعلَّماها الكلمة، فتكلَّمت بها، فعَرَجَت بها إلى السماء، فمُسِخَت فجُعِلَت كما ترونَ، فلما أَمسَيًا تكلّما بالكلمة التي كانا يَعرُجانِ بها إلى السماء، فلم يَعرُجا، فبُعِث إليهما: إن شئتُما فعذابُ الآخرة، وإن شئتُما فعذاب الدنيا إلى أن تقومَ الساعةُ، على أنْ تلتقيانِ (2) الله تعالى، فإن شاء عذَّبَكما، وإن شاء رَحِمَكما، فنَظَرَ أحدُهما إلى صاحبه، فقال أحدُهما لصاحبه: بل نختارُ عذابَ الدنيا ألفَ ألفِ ضعفٍ؛ فهما يُعذِّبَانِ إلى أن تقومَ الساعة (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وترك حديث يحيى بن سَلَمة عن أبيه من المُحالات التي يردُّها العقلُ! فإنه لا خلاف أنه من أهل الصَّنعة (2) ، فلا يُنكَر لأبيه أن يَخُصَّه بأحاديث يتفرَّد بها عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8796 - قال النسائي متروك
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، وترك حديث يحيى بن سَلَمة عن أبيه من المُحالات التي يردُّها العقلُ! فإنه لا خلاف أنه من أهل الصَّنعة (2) ، فلا يُنكَر لأبيه أن يَخُصَّه بأحاديث يتفرَّد بها عنه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8796 - قال النسائي متروك
سیدنا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کرتے تھے ” اس کے بعد سرخی نمودار ہو گی، جب کوئی اس کو دیکھے تو اس کا خوشدلی سے استقبال نہ کرے، پھر فرمایا: دو فرشتوں ہاروت اور ماروت نے اللہ تعالیٰ سے مطالبہ كیا کہ وہ ان کو زمین پر اتار دے، ان کو زمین پر اتار دیا گیا، یہ لوگوں کے مابین فیصلے کیا کرتے تھے، جب شام ہوتی تو کچھ کلمات پڑھتے اور ان کی برکت سے وہ آسمان میں چڑھ جاتے، انہوں نے ایک انتہائی خوبصورت عورت کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا، اس عورت نے ان کو برائی کی دعوت دی، لیکن فرشتے اس کو ٹالتے رہے، لیکن ان کے دل میں اس کی یاد رہنے لگی، یہ دونوں اس سے رابطے میں رہے حتی کہ ایک دن اس نے ان سے وقت طے کر لیا اور پھر مقررہ وقت پر ان کے پاس آ گئی، اس نے کہا: پہلے مجھے تم وہ کلمات سکھاؤ جو پڑھ کر تم آسمانوں پر جاتے ہو، انہوں نے اس عورت کو وہ کلمات سکھا دیئے، اس نے فوراً وہ کلمات پڑھے اور آسمانوں کی جانب چڑھ گئی، لیکن اس کو مسخ کر دیا گیا، اور پھر اس کو یوں بنا دیا گیا جیسا کہ تم اس کو دیکھتے ہو، جب شام ہوئی، انہوں نے وہ کلمات پڑھے جن کو پڑھ کر وہ آسمانوں پر چڑھا کرتے تھے لیکن اس دن وہ اوپر کی جانب نہ چڑھ سکے، ان کی جانب پیغام بھیجا گیا، اگر تم چاہو تو تمہیں آخرت کا عذاب دیا جائے اور اگر چاہو تو قیامت تک تمہیں دنیا کا عذاب دیا جائے، پھر جب قیامت میں اللہ تعالیٰ سے تمہاری ملاقات ہو تو اس وقت اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمہیں عذاب دے اور چاہے تو تم پر رحمت کرے۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کی جانب دیکھا اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہم دنیا ہی میں سزا کاٹیں گے چاہے وہ ہزار گنا زیادہ کیوں نہ ہو، چنانچہ ان کو قیامت تک عذاب ہوتا رہے گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یحیی بن سلمہ کی ان کے والد سے روایت کردہ وہ حدیث چھوڑ دی گئی ہے کیونکہ یہ محالات میں سے ہے، عقل اس کو قبول نہیں کرتی کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ اہل فن میں سے ہیں، اس لئے کچھ بعید نہیں ہے کہ ان کے والد کی کچھ مخصوص احادیث ہوں جن کی روایت کرنے میں وہ منفرد ہوں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 9011]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 9011 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: الصنعاني، والمعروف بالرواية عن أبي الجوّاب - وهو الأحوم ابن جوّاب - هو أبو بكر محمد بن إسحاق الصاغاني.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "الصنعانی" ہو گیا ہے، حالانکہ ابو الجواب —جو الاحوص بن جواب ہیں— سے روایت کرنے میں جو معروف ہیں وہ "ابو بکر محمد بن اسحاق الصاغانی" ہیں۔
(2) هكذا في نسخنا الخطية، ويغلب على ظننا أنه خطأ من الناسخ قديمًا، ويمكن توجيهه بأن رفع الفعل هنا بإثبات النون بعد "أنْ" جاء حملًا على أنها مخفّفة من "أنَّ" وضمير الشأن محذوف، أو على لغة بعض العرب الذين لا يُعملون "أن" الناصبة للفعل المضارع فيرفعونه. انظر "شواهد التوضيح" لابن مالك ص 180، و "شرح ابن عقيل على ألفية ابن مالك" 4/ 4 - 5.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں اسی طرح ہے، اور ہمارا غالب گمان یہ ہے کہ یہ پرانے زمانے سے کاتب کی غلطی ہے۔ البتہ اس کی توجیہ یہ کی جا سکتی ہے کہ یہاں "أنْ" کے بعد فعل کا نون کے اثبات کے ساتھ مرفوع ہونا اس بنا پر ہے کہ یہ "أنَّ" (مخففہ) ہے اور اس کا ضمیرِ شان محذوف ہے، یا یہ ان بعض عربوں کی لغت پر ہے جو فعل مضارع پر داخل ہونے والے ناصبہ "أن" کو عمل نہیں دیتے اور فعل کو مرفوع ہی رکھتے ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: دیکھیں: ابن مالک کی "شواهد التوضيح" ص 180، اور "شرح ابن عقيل على ألفية ابن مالك" 4/ 4-5۔
(1) إسناده ضعيف جدًا، يحيى بن سلمة بن كهيل متروك الحديث، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيص المستدرك".
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند سخت ضعیف ہے۔ یحییٰ بن سلمہ بن کہیل "متروک الحدیث" ہیں، اور ذہبی نے "تلخیص المستدرک" میں اسی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے۔
وهذا الطريق لم نقف عليه عند غير المصنف.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اور اس طریق (سند) پر ہم مصنف کے علاوہ کسی اور کے ہاں مطلع نہیں ہو سکے۔
وقد روي نحو هذا عن ابن عمر مرفوعًا إلى النبي ﷺ عند أحمد 10/ (6178) وابن حبان (6186) بإسناد ضعيف كما هو مبين فيهما.
🧩 متابعات و شواہد: اور اسی کی مثل ابن عمر سے نبی ﷺ تک مرفوعاً روایت کیا گیا ہے جو احمد (6178/10) اور ابن حبان (6186) کے ہاں ضعیف سند کے ساتھ ہے، جیسا کہ ان دونوں کتابوں میں بیان کیا گیا ہے۔
والصحيح أن هذا من رواية ابن عمر عن كعب الأحبار ممّا نقله عن كتب بني إسرائيل، فقد أخرج عبد الرزاق في "تفسيره" 1/ 53 - 54، وابن أبي الدنيا في "العقوبات" (224)، والطبري في "تفسيره" 1/ 456 - 457 من طريق سفيان الثوري، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله ابن عمر، عن أبيه، عن كعب الأحبار. وهذا إسناد صحيح. وانظر تمام الكلام على هذا الخبر في التعليق على "مسند أحمد" و "صحيح ابن حبان".
⚖️ درجۂ حدیث: اور صحیح یہ ہے کہ یہ ابن عمر کی روایت ہے جو وہ کعب الاحبار سے نقل کرتے ہیں، ان باتوں میں سے جو انہوں نے بنی اسرائیل کی کتابوں سے نقل کی ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: چنانچہ عبدالرزاق نے اپنی "تفسیر" 1/ 53-54 میں، ابن ابی الدنیا نے "العقوبات" (224) میں، اور طبری نے اپنی "تفسیر" 1/ 456-457 میں سفیان ثوری کے طریق سے، انہوں نے موسیٰ بن عقبہ سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے کعب الاحبار سے تخریج کیا ہے۔ یہ سند صحیح ہے۔ اس خبر پر مکمل کلام "مسند احمد" اور "صحیح ابن حبان" پر تعلیق میں دیکھیں۔
قال الحافظ ابن كثير في "البداية والنهاية" 1/ 84: هذا من أخبار بني إسرائيل … ويكون من خرافاتهم التي لا يُعوّل عليها، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حافظ ابن کثیر نے "البدایۃ والنہایۃ" 1/ 84 میں فرمایا: "یہ بنی اسرائیل کی اخبار میں سے ہے... اور یہ ان کی خرافات میں سے ہے جن پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، واللہ اعلم۔"
(2) تحرّف في نسخنا الخطية إلى: الصفة، والتصويب من "إتحاف المهرة" (9748).
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "الصُفَّہ" ہو گیا ہے، اور درستگی "اتحاف المہرۃ" (9748) سے کی گئی ہے۔